یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز (یو ایچ ایس) نے نوعمر لڑکیوں کو بلوغت اور تولیدی صحت کے مسائل پر مستند رہنمائی فراہم کرنے کیلئے “پیاری بیٹی” کے نام سے ایک آن لائن پورٹل اور ہیلپ لائن کا آغاز کردیا ہے۔


یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز (یو ایچ ایس) نے نوعمر لڑکیوں کو بلوغت اور تولیدی صحت کے مسائل پر مستند رہنمائی فراہم کرنے کیلئے “پیاری بیٹی” کے نام سے ایک آن لائن پورٹل اور ہیلپ لائن کا آغاز کردیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد نوعمر لڑکیوں کو ان کے جسمانی، جذباتی اور نفسیاتی صحت کے مسائل کے حل کیلئے مستند رہنمائی فراہم کرنا ہے۔ “پیاری بیٹی” پورٹل کو یو ایچ ایس کی ویب سائٹ پر جاری کر دیا گیا ہے۔ مزید برآں لڑکیاں ہفتے میں دو دن ہیلپ لائن نمبر 99232088 پر ماہرین صحت سے رہنمائی حاصل کر سکتی ہیں۔ پورٹل کا باضابطہ افتتاح وائس چانسلر یو ایچ ایس پروفیسر احسن وحید راٹھور نے جمعہ کے روز پبلک ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ کے زیر اہتمام منعقدہ ایک سیمینار میں کیا۔ سیمینار کا موضوع “جئیں اعتماد کے ساتھ: ایک لڑکی کیلئے رہنما اصول” تھا، جس میں لاہور کے دارالشفقت، کاشانہ، اور ایس او ایس ویلیجز کی 100 سے زائد نو سے پندرہ سال کی عمر کی بچیوں نے شرکت کی۔ سیمینار میں رکن پنجاب اسمبلی اور پارلیمانی سیکرٹری برائے اسپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر رشدہ لودھی نے مہمان خصوصی کے طور پر شرکت کی۔ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے وائس چانسلر پروفیسر احسن وحید راٹھور نے کہا کہ یہ اقدام نہ صرف بلوغت کے دوران لڑکیوں کے جسمانی مسائل کے بارے میں شعور اجاگر کرے گا بلکہ انہیں اعتماد اور وقار کے ساتھ زندگی گزارنے کے قابل بنائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ماں باپ ہوں یا معاشرہ، ہم اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرنے میں ناکام رہے ہیں، لیکن اب ہمیں یہ خلا پُر کرنا ہوگا۔ اگر کوئی لڑکی کسی مشکل میں ہو، یا کوئی مسئلہ ہو، تو وہ بلا جھجک اپنے بڑوں یا ہمارے ماہرین سے رجوع کرے۔ انہوں نے واضح کیا کہ جو بات نارمل ہے، اس پر بات کرنے سے گھبرانا نہیں چاہیے۔ ہماری بچیاں ہی ہمارے معاشرے کا مستقبل ہیں، اور ان کی رہنمائی ہماری اولین ذمہ داری ہے۔ پرو وائس چانسلر پروفیسر نادیہ نسیم کا کہنا تھا کہ “پیاری بیٹی” پورٹل نوعمر لڑکیوں کی رہنمائی کیلئے ایک اہم سنگِ میل ہے۔ ہم نے یہ بیڑہ اٹھایا ہے کہ لڑکیوں کو ان کی صحت اور زندگی کے حوالے سے درکار ضروری معلومات اور رہنمائی فراہم کریں گے۔ یہ پورٹل صحت اور بلوغت سے متعلق غلط فہمیوں کو دور کرنے میں معاون ثابت ہوگا۔ انہوں نے بتایا کہ یونیورسٹی کی ویب سائٹ پر موجود پورٹل پر ماہرین صحت کی رہنمائی دستیاب ہوگی، اور ہر بچی کو آسان فہم انداز میں مستند معلومات فراہم کی جائیں گی۔ رکن پنجاب اسمبلی رشدہ لودھی نے اپنے خطاب میں کہا کہ اس وقت پنجاب میں ویمن ایمپاورمنٹ کا سنہری دور چل رہا ہے، اور وزیر اعلیٰ مریم نواز اس کی سب سے بڑی دلیل ہیں۔ لڑکیاں اگر محنت کریں تو ان کے لیے میدان کھلا ہے۔ انہوں نے بچیوں پر زور دیا کہ وہ یونیورسٹی کے اس اقدام سے بھرپور فائدہ اٹھائیں اور “پیاری بیٹی” پورٹل کے بارے میں اپنی سہیلیوں کو بھی آگاہ کریں۔ ماہر امراض نسواں پروفیسر عالیہ بشیر نے سیمینار میں بلوغت کے دوران لڑکیوں کو درپیش جسمانی اور نفسیاتی تبدیلیوں پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہ عمر ہے جب لڑکیاں اکثر غلط معلومات کا شکار ہوتی ہیں۔ یو ایچ ایس کا یہ اقدام ان کی رہنمائی اور اعتماد بڑھانے میں بے حد مددگار ثابت ہوگا۔ انھوں نے اس موقع پر نسوانی صحت کے حوالے سے بچیوں کے سوالات کے جواب بھی دیے۔ ماہر امراض اطفال پروفیسر نجف مسعود نے کہا کہ یونیورسٹی نے وہی کام کیا ہے جو ایک والد اپنی بیٹی کیلئے کرتا ہے۔ ڈی جی سوشل ویلفیئر پنجاب خواجہ سکندر ذیشان نے یو ایچ ایس کے اقدام کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام نہ صرف حساس مسائل پر بات کرنے کو آسان بنائے گا بلکہ لڑکیوں کے محفوظ مستقبل کی راہ ہموار کرے گا۔ ہمارا محکمہ اس مہم کی کامیابی کیلئے ہر ممکن تعاون فراہم کرے گا۔ سیمینار سے پروجیکٹ ڈائریکٹر ایس او ایس ویلیج جوہر ٹاؤن خالدہ نعمان، ڈائریکٹر ایس او ایس ویلیج الماس بٹ، سربراہ شعبہ مائیکرو بیالوجی پروفیسر سدرہ سلیم، لیکچرر شعبہ پبلک ہیلتھ حسن زاہد اور ماہر غذائیت وردہ نثار نے بھی خطاب کیا۔