حبیب بینک لمیٹڈ پر لوگوں کو اتنا غصہ کیوں ؟ بدنام زمانہ بینک قرار دے دیا ۔ بینک کو دنیا کا سب سے گندا اور عملے کو بدتمیز کا ٹائٹل مل گیا ۔ یہ سارا ماجرا کیا ہے ؟

حبیب بینک لمیٹڈ پر لوگوں کو اتنا غصہ کیوں ؟ بدنام زمانہ بینک قرار دے دیا ۔ بینک کو دنیا کا سب سے گندا اور عملے کو بدتمیز کا ٹائٹل مل گیا ۔ یہ سارا ماجرہ کیا ہے ؟


تفصیلات کے مطابق پاکستان کے سرکردہ بینک اور سب سے زیادہ شہرت اور مقبولیت رکھنے والے حبیب بینک لمٹڈ کی مختلف برانچوں میں ان دنوں کسٹمرز کا کافی رش دیکھا جا رہا ہے بعض برانچوں میں کسٹمرز کو اپنا کام کرانے میں کافی دیر لگتی ہے کچھ برانچوں کا مسئلہ یہ ہے کہ وہاں پر عملہ کم ہے اور کام کا رش زیادہ ہے تین کاؤنٹر بنے ضرور ہوتے ہیں لیکن عام طور پر ایک یا دو کاؤنٹر ہی چلتے ہیں جس کی وجہ سے کافی وقت لگتا ہے اور یہ مختلف شہروں میں اور مختلف برانچوں میں مسئلہ کافی عرصے سے چل رہا ہے جس کی وجہ سے لوگ پریشان ہوتے ہیں اور بعض اوقات غصے میں ا جاتے ہیں اور وہاں جھگڑے ہوتے ہیں یا وہاں پر کافی تلخی ہو جاتی ہے بارہا اس بارے میں حبیب بینک کی انتظامیہ کو اگاہ کیا گیا ہے کچھ عرصے کے لیے مسئلہ حل کرنے کے لیے عارضی بندوبست کیا جاتا ہے لیکن تھوڑے دنوں بعد پھر وہی مسئلہ سر اٹھا لیتا ہے کام زیادہ ہے برانچوں میں اور عملہ کم ہے اور عملہ بھی کافی کام کی وجہ سے تھک جاتا ہے کچھ برانچوں میں عملہ سست ہے یا سسٹم سست روی سے چلتا ہے یا کمپیوٹر اور انٹرنیٹ کا مسئلہ ہے بہرحال بہت سے معاملات ہیں جن کی وجہ سے مختلف برانچوں پر شکایات بڑھ رہی ہیں سیکیورٹی عملے کو بھی مداخلت کرنی پڑتی ہے لوگوں میں گرما گرمی ہوتی ہے تلخی ہوتی ہے معاملہ ہے بعض اوقات ہاتھا پائی اور بھلائی لڑائی جھگڑے تک بھی پہنچ جاتا ہے پھر وہیں پہ لوگ بیچ بچاؤ کراتے ہیں معاملے کو ٹھنڈا کرتے ہیں

اور لوگوں کو سروس دے کر گھر بھیج دیتے ہیں لیکن بار بار یا ہر بار سینیئر افسران بھی بیچ بچاؤ نہیں کرانے اتے نہ ہی یہ ان کا کام ہے وہ اپنی ذمہ داریوں کو دیکھیں یا برانچ میں رش کو دیکھیں ۔
سوشل میڈیا پر اس حوالے سے بعض لوگوں نے مختلف شکایتی ویڈیوز بھی اپلوڈ کر رکھی ہیں جن میں ایڈوکیٹ میاں عبدالمتین کی ویڈیو کافی وائرل ہوئی اور انہیں کافی لوگوں نے کمنٹس بھی کیے وہ اپنی ویڈیو میں بہت ناراض دکھائی دیتے ہیں اور وہ اپنے عملے کو روک کر اپنی ویڈیو مکمل کراتے ہیں اور افسران کا نام لے کر ان کی شکایت کرتے ہیں معاملہ چند فارم جمع کرانے سے انکارسے شروع ہوتا ہے بچوں کے پیپر ہونے والے ہیں بچے تیاری کر رہے ہیں ان کے فارم جمع کرانے کا مسئلہ ہے یہاں سے بات شروع ہوتی ہے اور پھر بہت سے لوگ برانچ میں موجود ہوتے ہیں سب اس بات پر گواہی دیتے ہیں کہ ان کے کاموں میں تاخیر ہوتی ہے اور کافی وقت ضائع ہوتا ہے بینک برانچ کا عملہ میاں عبدالمتین کو ویڈیو بند کر کے بات کرنے کے لیے کہتا ہے لیکن وہ ویڈیو بند کرنے کے بجائے بولتے رہتے ہیں اپنا غصہ اور اپنی بھڑاس نکالتے ہیں اور کہتے ہیں کہ میں نے پہلے بھی ویڈیو بنائی تھی اور اپ کے افسران نے معافی مانگی تھی یا پھر میں یہ لوگوں تک بات پہنچا کر رہوں گا بینک انتظامیہ ان کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش کرتی ہے لیکن وہ اپنا کام مکمل کر کے ویڈیو اپلوڈ کر دیتے ہیں اور وہ وائرل ہو جاتی ہے اس بات کو کافی عرصہ ہو چکا ہے ۔
دوسری طرف سال 2024 کے مختلف مہینوں میں مختلف شہروں میں حبیب بینک لمیٹڈ کی برانچوں پر رش کم ہونے کی بجائے اضافہ ہوا ہے اور تاخیر ہونے یا دیر سے کام نمٹنے کی شکایات بھی بڑھ گئی ہیں حبیب بینک انتظامیہ کو اس معاملے پر سنجیدگی سے توجہ دینے کی ضرورت ہے کیونکہ انہی کے کسٹمرز ناراض ہو رہے ہیں حبیب بینک پر سب اعتماد کرتے ہیں اور اس کی سروس لینے کی وجہ سے ہی اس کے اکاؤنٹ ہولڈر ہیں لیکن اس اعتماد کو ٹھیس پہنچ رہی ہے اور لوگ اب برانچوں میں ا کر ناراض ہو کر اور پریشان ہو کر واپس جانے لگے ہیں
=================================

فقیر کے اکاؤنٹ سے 10 لاکھ روپے کا فراڈ، سابق برانچ منیجر کی ضمانت منظور
22 نومبر ، 2024FacebookTwitterWhatsapp
کراچی ( اسٹاف رپورٹر ) سندھ ہائی کورٹ نے حیدرآباد میں فقیر کے اکاونٹ سے 10لاکھ روپے کا فراڈ کیس میں نجی بینک کے سابق برانچ منیجر کی ضمانت منظور کرلی اور ملزم عاقب کو 2 لاکھ روپےمچلکے جمع کرانے کا حکم دیدیا ، عدالت نے ریمارکس دیئے کہ ایک فقیر کے اکاؤنٹ کو بھی نہیں چھوڑا، فقیر صاحب تو یہ نہیں کہہ رہے کہ اسکا موبائل یا سم کسی نے لی ہے؟ وکیل صفائی نے موقف اپنایا کہ ملزم کا فراڈ سے کوئی تعلق نہیں، ایف آئی اے نے مرکزی ملزموں کو بطور ملزم شامل نہیں کیا، وکیل صفائی نے کہا کہ فراڈ میں ذیشان کا موبائل نمبر استعمال کیا گیا اور رقم خاتون ملزمہ عائشہ کے اکاؤنٹ میں منتقل کی گئی، عدالت نے ریمارکس دیئے کہ بینک سے انفارمیشن لیک ہونا کس دفعہ کے تحت آتا ہے؟ انفارمیشن لیک کرنا فراڈ میں تو نہیں آتا۔