حکومت سندھ نے بلدیاتی اداروں میں بلا تفریق کرپشن و کرپٹ مافیا کے خلاف سخت قانونی و محکمہ جاتی کارروائی کیلے وزیر بلدیات سعید غنی کو گرین سگنل دے دیا


کراچی ( رپورٹ جوہر مجید شاہ ) حکومت سندھ نے بلدیاتی اداروں میں بلا تفریق کرپشن و کرپٹ مافیا کے خلاف سخت قانونی و محکمہ جاتی کارروائی کیلے وزیر بلدیات سعید غنی کو گرین سگنل دے دیا وزیر بلدیات نے بلدیاتی اداروں میں موجود کرپٹ افسر شاہی و سیاسی اشتراک سمیت سسٹم مافیا سے متعلق رپورٹ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کو دیتے ہوئے انھیں اعتماد میں لے لیا ذرائع کا دعویٰ ہے کہ وزیر بلدیات کو مافیا کے خلاف گرینڈ آپریشن کی منظوری مل گئی دوسری طرف محکمہ اینٹی کرپشن کو فرائض منصبی اور اپنا بنیادی و کلیدی کردار ادا کرنے سمیت احداف مکمل کرنے سمیت نتیجہ خیز کاروائیوں کی وارننگ جاری ذرائعِ ادھر بلدیاتی اداروں کے کرپٹ افسران و اہلکار اینٹی کرپشن کے ریڈار پر آگئے، محکمہ اینٹی کرپشن نے بلدیہ ضلع وسطی کے کرپشن میں ملوث افسران و عملے کے خلاف تحقیقات شروع کردیں یاد رہے کہ محکمہ اینٹی کرپشن نے ایگزیکٹو انجینئر فیصل صغیر کو 31 اکتوبر 2024 کو مطلوبہ ریکارڈ سمیت طلب کیا تھا ایگزیکٹو انجینئر بی اینڈ آر بلدیہ وسطی فیصل صغیر سے سنہ 2020 ء کا مکمل ریکارڈز جاری کردہ ٹینڈرز بولی یا شرکت کرنے والے کنٹریکٹررز کی تفصیلات گزشتہ 5 سالہ ٹرانزیکشن بمعہ بینک اسسٹیٹمنٹ ریکارڈ طلب کرلیا اینٹی کرپشن مراسلے کے مطابق ضلع وسطی کے اسسٹنٹ ایگزیکٹیو انجینئر فیصل صغیر کو کرپشن شکایات پر طلب کیا گیا جس کی انکوائری زیرالتوا ہے تفصیلات کے مطابق محکمہ انسداد رشوت ستانی (اینٹی کرپشن) نے نیو کراچی ٹاﺅن میں محکمہ بی اینڈ آر کے ایگزیکٹو انجینئر فیصل صغیر کیخلاف سنگین کرپشن اور بدعنوانیوں کے الزامات پر باقاعدہ تحقیقات کا آغاز اور اثاثوں کی چھان پھٹک شروع کردی ہے اس سلسلے میں فیصل صغیر کو تحقیقات کیلئے طلب بھی کیا جاچکا ہے۔ دوسری جانب باوثوق ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ نیو کراچی ٹاﺅن کے ڈائریکٹر سینی ٹیشن محمد مشتاق انچارج موٹر وہیکل واجد بھی اینٹی کرپشن کے ریڈار پر ہیں ذرائع بتاتے ہیں کہ جلد انکے کیخلاف بھی تحقیقات شروع ہونے کا قوی امکان ہے ذرائع کا کہنا ہے کہ مذکورہ افسران کیخلاف کرپشن اور بدعنوانیوں کی سنگین شکایات پر تحقیقات کی جارہی ہیں علاؤہ ازیں نیو کراچی ٹاﺅن کی بعض کمیٹیوں کے چیئرمینوں کیخلاف بھی تحقیقات شروع کئے جانے کا امکان ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ مذکورہ کمیٹی چیئرمین مبینہ طور پر کرپٹ افسران کی سرپرستی اور ان کی لوٹ مار میں بطور سہولت کار اہم کردار ادا کررہیں ہیں مختلف سیاسی سماجی مذہبی جماعتوں اور شخصیات نے سپریم کورٹ وزیر اعلیٰ سندھ گورنر سندھ وزیر بلدیات سندھ سمیت تمام وفاقی و صوبائی تحقیقاتی اداروں سے اپنے فرائض منصبی اور اٹھائے گئے حلف کے عین مطابق سخت ترین قانونی و محکمہ جاتی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے