
این ای ڈی میں کیرئیر فیئر کا انعقاد، 40 سے زائد انڈسٹریز کی شرکت
کراچی() جامعہ این ای ڈی کے ڈائریکٹریٹ آف انڈسٹریل لائژن(directorate of industrial liaison) کے تحت ایک روزہ کیریئر فئیر 2024 کا انعقاد کیا گیا۔جس میں چالیس سے زائد صنعتوں نے طالب علموں کو روزگار دینے کے لیے اسٹالز لگاۓ۔ استقبالیہ سے خطاب کرتے ہوۓ شیخ الجامعہ این ای ڈی پروفیسر ڈاکٹر سروش لودھی کا کہنا تھا کہ ملکی مسائل اس وقت بہت زیادہ ہیں، لہذا انفرادی یا اجتماعی جس بھی سطح پر ہو ہمیں اپنے نوجوانوں کے لیے ہر ممکن کوشش کرنی چاہئے۔ ان کا کہنا تھا کہ آپ نوجوانوں کی خوش قسمتی ہے کہ انڈسٹریز خود چل کر آپ کو روزگار دینے، آپ کی جامعہ آئیں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اکیڈمیا، انڈسٹری اور طالب علم، تکون کا مقصد بے روزگاری کا خاتمہ ہے۔ مزید کہا کہ اس کیرئیر فئیرکا مقصد اکیڈمیا اور انڈسٹری کے مابین فاصلے مٹانا اور ساتھ ساتھ اپنےطالب علموں کے لیے روزگار کے مواقعے پیدا کرنا ہے۔ ڈائریکٹریٹ آف انڈسٹریل لائژن کے ڈائریکٹر ڈاکٹر علی ذوالقرنین نے تمام ٹیم سمیت انڈسٹریری کاشکریہ ادا کرتے ہوۓ کہا کہ ہماری کوشش ہے کہ صنعتیں این ای ڈی سے مطلوبہ قابلیت کے حامل نوجوان انجنئیرز لے کر لوٹیں۔ اس موقعے پر مختلف صنعتوں سے آئے ماہرین کا کہنا تھاکہ اس جوائنٹ وینچر کا مقصد روزگار کی فراہمی کے لیے عملی اقدامات پر توجہ مرکوز کرنا ہے۔ کیرئیر فئیر 2024 کے اختتام پر ڈائریکٹر انڈسٹریل لائژن ڈاکٹر علی ذوالقرنین نے شیخ الجامعہ ڈاکٹر سروش لودھی، ڈاکٹر محمد طفیل، غضنفر نقوی، سردار فراز، ڈاکٹر شہنیلہ
===========================
بہت سے ممالک وی پی این کو ریگولیٹ کر رہے ہیں، چیئرمین پی ٹی اے
جہاں اظہار رائے کی آزادی ہے، وہیں کلچرل باونڈریز بھی موجود ہیں، حفیظ الرحمن
اسلام آباد میں چیئرمین پی ٹی اے حفیظ الرحمن نے ایک سمینار سے خطاب کرتے ہوئے بچوں کے مستقبل کے تحفظ کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ ”بچوں کے مستقبل کو محفوظ بنانا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔“
حفیظ الرحمن نے آئین کے آرٹیکل انیس کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ جہاں اظہار رائے کی آزادی دیتا ہے، وہیں کلچرل باونڈریز بھی موجود ہیں۔ انہوں نے غیراخلاقی اور ریاست مخالف مواد کے حوالے سے شکایات سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو بھیجنے کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ سوشل میڈیا کمپنیاں ایسے مواد کو فوری ہٹانے میں تعاون کریں۔
وی پی این کے بغیر آئی ٹی انڈسٹری نہیں چل سکتی ، چیئرمین پی ٹی اے
چیئرمین پی ٹی اے نے مزید کہا کہ ”بہت سے ممالک وی پی این کو ریگولیٹ کر رہے ہیں“ اور انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں دسمبر 2010 میں پہلا وی پی این رجسٹر کیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ”وی پی این کی رجسٹریشن کے لیے ہم پندرہ سال دے چکے ہیں“ اور یہ کہ ”بزنس مقاصد کے لیے وی پی این کی ضرورت ہوتی ہے۔“
وی پی این پر پابندی کی بات کہیں نہیں ہوئی، چئیرمین اسلامی نظریاتی کونسل
آخر میں، حفیظ الرحمن نے سوشل میڈیا کے ذمہ دارانہ استعمال کے حوالے سے بچوں کو آگاہی دینے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ وہ انٹرنیٹ کی دنیا میں محفوظ رہ سکیں۔
VPN
Chairman PTA























