لاہور سے صحت اور تعلیم سمیت اہم شعبوں کی سرگرمیوں ،مدثر قدیر کی خصوصی رپورٹ

پوسٹ گریجویٹ میڈیکل انسٹی ٹیوٹ کے پرنسپل پروفیسر ڈاکٹر محمد الفرید ظفر نے کہا ہے کہ ذیابیطس و دیگر امراض سے محفوظ رہنے اور صحت کے مسائل سے بچنے کے لیے لوگوں کو چاہیے کہ وہ سادہ خوراک اور گھر یلو کھانوں کو ترجیح دیں اور فاسٹ فوڈ، جنک آئٹمز، کولڈ ڈرنکس اور چینی کے استعمال سے ہر ممکن پرہیز کریں۔انہوں نے کہا کہ روزانہ سیر ورزدش کو معمول بنائیں،اس سے نہ صرف صحت بہتر رہے گی بلکہ ادویات و علاج پر اٹھنے والے اخراجات کی بھی بچت ہوگی۔ اسی طرح چکنائی، گھی، تلی ہوئی اشیاء اور مرغن غذائیں جسم میں چربی اور وزن بڑھنے کی بنیادی وجہ ہیں جس سے ذیابیطس، بلڈ پریشر، امراض قلب و جگر کے امکانات بہت حد تک بڑھ جاتے ہیں۔
ان خیالات کا اظہار پروفیسر ڈاکٹر محمد الفرید ظفر نے لاہور جنرل ہسپتال کے ذیباطیس آؤٹ ڈور میں مریضوں ان کے لواحقین اور اگہی واک کے شرکا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر ایم ایس ڈاکٹر فریاد حسین، پروفیسر شاندانہ طارق،ڈاکٹر ملیحہ حمید، ڈاکٹر شاہدہ زمان، ڈاکٹر مناہل،ڈاکٹر زاہد جمیل، ڈاکٹر محمد مقصود. ڈاکٹر عزیزفاطمہ، ڈاکٹر عدنان مسعود بھی موجود تھے۔
ڈاکٹر محمد مقصود نے پرنسپل پروفیسر الفرید ظفر کو ذیابیطس آؤٹ ڈور کلینک کے متعلق بریفنگ میں بتایا کہ رواں برس 34ہزار کے لگ بھگ مریضوں کا طبی معائنہ کیا گیا اور حکومت پنجاب کی پالیسی کے مطابق انہیں تشخیصی ٹیسٹ، ادویات اور مفت انسولین بھی فراہم کی گئیں۔ پروفیسر الفرید ظفر نے ہسپتال انتظامیہ سے کہا کہ پاکستان میں ذیابیطس کے مریضوں کی تعداد میں تیزی
سے اضافہ باعث تشویش ہے لہذا اس سلسلے میں ہیلتھ پروفیشنلز کی ذمہ داری ہے کہ وہ مریضوں کے علاج معالجے کے ساتھ ساتھ اُن کی مکمل کونسلنگ بھی کریں تاکہ لوگوں کو ذیابیطس سے متعلق زیادہ سے زیادہ آگاہی دی جا سکے۔انہوں نے مزید کہا کہ انہوں نے بتایا کہ ذیابیطس اندھے پن، گردے فیل ہونے، فالج اور ہاتھ پاؤں سے محرومی کی اہم وجہ ہے لیکن پاکستانی کم عمری میں ہی اس مرض کا شکار ہورہے ہیں البتہ احتیاطی تدابیر، ادویات، ورزدش اور پرہیز سے ذیابیطس کو قابو میں رکھا جاسکتا ہے۔
پروفیسر الفرید ظفر نے کہا کہ اگرچہ ذیابیطس متعدی بیماری نہیں تاہم اس وقت پاکستان سمیت دنیا بھر میں پھیلی ہوئی ہے اور یہ مرض موروثی طور پر بھی والدین سے اولاد میں منتقل ہونے کی صلاحیت رکھتی ہے۔پروفیسر الفرید ظفر نے کہا کہ نامناسب غذا، موٹاپااور غیر سنجیدہ لائف اسٹائل اس مرض کی اہم وجوہات ہیں اور اگرخاندان میں کسی فرد کو ذیابیطس کا مرض لاحق ہو تو ایسے شخص میں شوگر کے مرض میں مبتلا ہونے کے قوی امکانات ہوتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ذیابیطس بیماریوں کی ماں ہیں جو بے شمار امراض کو جنم دیتی ہے،اس کے موذی امراض سے حاملہ خواتین بھی محفو ظ نہیں رہتیں اور پہلے سے کمزور صحت کے افراد پر شوگر کے اثرات بہت زیادہ مہلک ثابت ہوتے ہیں۔ پروفیسر الفرید ظفر نے ڈاکٹر محمد مقصود کو ہدایت کی کہ وہ ہسپتال کے احاطے میں ذیابیطس سے بچاؤ، علامات،پیچیدگیوں سے متعلق نمایاں طور پر بینرز بھی آویزاں کروائیں۔ ایم ایس ڈاکٹر فریاد حسین نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ شوگر کا کوئی مستقل اور مکمل علاج ابھی تک دریافت نہیں ہوا البتہ اس بیماری کے لگنے سے پہلے احتیاطی تدابیر پر عمل کر کے اس مرض سے محفوظ رہا جا سکتا ہے اور مناسب پرہیز اور احتیاط کر کے ذیابیطس کے مرض پر کنٹرول کر کے انسان صحت مند زندگی گزار سکتا ہے۔
===================================

پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن لاہور کے رہنماؤں نے لاہور میں پریس کانفرنس کے دوران کہا ہے کہ موجودہ حالات میں حکومتی اعلان کردہ سموگ ایمرجنسی اور گرین لاک ڈاؤن صرف لفظی گورکھ دھندہ ہے۔ حکومت اپنی ذمہ داری ادا کرنے میں بری طرح ناکام ہو چکی ہے۔ لاہور اور ملتان دنیا میں آلودہ ترین شہر کی ریس میں ٹاپ پوزیشن لیئے ہیں۔ گلے، سانس اور جلد اور آشوب چشم کی بیماریوں میں خطرناک حد تک اضافہ ہو چکا ہے اور سموگ ایک نیشنل ڈیزاسٹر کی شکل لے چکا ہے۔ اس کو کنٹرول کرنے کیلئے ایک طویل المدتی حکمت عملی کی ضرورت ہے۔ صرف ہیلتھ ایڈوائزری جاری کرنے اور آؤٹ ڈور اوقات میں اضافہ کرنا کوئی حل نہیں ہے۔ اسموگ ماحولیاتی، سماجی، قانونی، معاشرتی، اقتصادی اور بین الاقوامی مسئلہ بن چکا ہے جو کہ آج ہمیں تباہی کے دھانے کی دستک نہیں بلکہ تباہی کی دلدل میں دھکیل چکا ہے۔
ہم آپ کے توسط سے واضح کر دینا چاہتے ہین کہ متعلقہ ڈپٹی کمشنرز، سیکریٹری ٹرانسپورٹ اور چیف ٹریفک آفیسرز جن کی ذمہ داری تھی کہ وہ اس گھمبیر صورتحال میں دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں، فیکٹریوں اور گھت کھلیانوں میں فصل کو جلانے کے عمل کو فوراً روکتے۔ لیکن شاید اُن کی ترجیحات کچھ اور ہیں۔
ٍ ہر شہری اپنی ذمہ داری سمجھ کر درخت لگاؤ زندگی بڑھاؤ کی مہم کا حصہ بنے۔ ہر قسم کی آلودگی کو عملی طور پر ختم کرنے کیلئے آواز اٹھائیں۔ حکومت کو مجبور کریں کہ دھواں چھوڑنے والی ہر قسم کی گاڑیوں، آلودگی پھیلانے والی فیکٹریوں اور دیگر محرکات کا فوری قلع قمع کریں۔ کھیت کھلیانوں میں فصل جلانے پر پابندی پر حقیقی معنوں میں عملدرآمد کیا جائے۔پرائیویٹ گاڑیوں کیلئے طاق اور جفت کی حکمت عملی اپنائی جائے۔ان کا کہنا تھا کہ سانس کی بیماریوں میں مبتلا افراد کیلئے حکومتی سطح پر ایئر پیوریفائیرز مفت دینے کا فوری اعلان کیا جائے اور عوام الناس کی سہولت کیلئے ایئر پیوریفائیرز کی درآمدپر عائد ڈیوٹی فوراً ختم کی جائے تاکہ عوام اس قدرتی آفت سے نپٹ سکیں اور کسی بڑے حادثہ کا شکار نہ بنیں۔شرکاء پریس کانفرنس میں پ
پروفیسر اشرف نظامی، صدر پی ایم اے لاہور پروفیسر شاہد ملک، جنرل سیکریٹری پی ایم اے لاہور
ڈاکٹراظہار احمد چوہدری صدر الیکٹ پی ایم اے سنٹر پروفیسر خالد محمود خان، نائب صدر پی ایم اے لاہور
ڈاکٹر ارم شہزادی، نائب صدر پی ایم اے لاہور ڈاکٹر واجد علی،فنانس سیکریٹری پی ایم اے لاہور
ڈاکٹر بشری حق، جائنٹ سیکریٹری پی ایم اے لاہور ڈاکٹر ریاض ذوالقرنین اسلم، جائنٹ سیکریٹری پی ایم اے لاہور شامل تھے۔
============================

پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن لاہور کے رہنماؤں نے لاہور میں پریس کانفرنس کے دوران کہا ہے کہ موجودہ حالات میں حکومتی اعلان کردہ سموگ ایمرجنسی اور گرین لاک ڈاؤن صرف لفظی گورکھ دھندہ ہے۔ حکومت اپنی ذمہ داری ادا کرنے میں بری طرح ناکام ہو چکی ہے۔ لاہور اور ملتان دنیا میں آلودہ ترین شہر کی ریس میں ٹاپ پوزیشن لیئے ہیں۔ گلے، سانس اور جلد اور آشوب چشم کی بیماریوں میں خطرناک حد تک اضافہ ہو چکا ہے اور سموگ ایک نیشنل ڈیزاسٹر کی شکل لے چکا ہے۔ اس کو کنٹرول کرنے کیلئے ایک طویل المدتی حکمت عملی کی ضرورت ہے۔ صرف ہیلتھ ایڈوائزری جاری کرنے اور آؤٹ ڈور اوقات میں اضافہ کرنا کوئی حل نہیں ہے۔ اسموگ ماحولیاتی، سماجی، قانونی، معاشرتی، اقتصادی اور بین الاقوامی مسئلہ بن چکا ہے جو کہ آج ہمیں تباہی کے دھانے کی دستک نہیں بلکہ تباہی کی دلدل میں دھکیل چکا ہے۔
ہم آپ کے توسط سے واضح کر دینا چاہتے ہین کہ متعلقہ ڈپٹی کمشنرز، سیکریٹری ٹرانسپورٹ اور چیف ٹریفک آفیسرز جن کی ذمہ داری تھی کہ وہ اس گھمبیر صورتحال میں دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں، فیکٹریوں اور گھت کھلیانوں میں فصل کو جلانے کے عمل کو فوراً روکتے۔ لیکن شاید اُن کی ترجیحات کچھ اور ہیں۔
ٍ ہر شہری اپنی ذمہ داری سمجھ کر درخت لگاؤ زندگی بڑھاؤ کی مہم کا حصہ بنے۔ ہر قسم کی آلودگی کو عملی طور پر ختم کرنے کیلئے آواز اٹھائیں۔ حکومت کو مجبور کریں کہ دھواں چھوڑنے والی ہر قسم کی گاڑیوں، آلودگی پھیلانے والی فیکٹریوں اور دیگر محرکات کا فوری قلع قمع کریں۔ کھیت کھلیانوں میں فصل جلانے پر پابندی پر حقیقی معنوں میں عملدرآمد کیا جائے۔پرائیویٹ گاڑیوں کیلئے طاق اور جفت کی حکمت عملی اپنائی جائے۔ان کا کہنا تھا کہ سانس کی بیماریوں میں مبتلا افراد کیلئے حکومتی سطح پر ایئر پیوریفائیرز مفت دینے کا فوری اعلان کیا جائے اور عوام الناس کی سہولت کیلئے ایئر پیوریفائیرز کی درآمدپر عائد ڈیوٹی فوراً ختم کی جائے تاکہ عوام اس قدرتی آفت سے نپٹ سکیں اور کسی بڑے حادثہ کا شکار نہ بنیں۔شرکاء پریس کانفرنس میں پ
پروفیسر اشرف نظامی، صدر پی ایم اے لاہور پروفیسر شاہد ملک، جنرل سیکریٹری پی ایم اے لاہور
ڈاکٹراظہار احمد چوہدری صدر الیکٹ پی ایم اے سنٹر پروفیسر خالد محمود خان، نائب صدر پی ایم اے لاہور
ڈاکٹر ارم شہزادی، نائب صدر پی ایم اے لاہور ڈاکٹر واجد علی،فنانس سیکریٹری پی ایم اے لاہور
ڈاکٹر بشری حق، جائنٹ سیکریٹری پی ایم اے لاہور ڈاکٹر ریاض ذوالقرنین اسلم، جائنٹ سیکریٹری پی ایم اے لاہور شامل تھے۔
============================================
اہور(جنرل رپورٹڑ)ینگ ڈاکٹر ایسوسی ایشن سروسز ہسپتال کی جانب سے سموگ کے اثرات کو کم کرنے کے لیے شجر کاری مہم سیو لاہور تحریک کے تیسرے روز بھی پودے لگائے گئے اس موقع پر سابق پرنسپل سمز ڈاکٹر محمد امجد،ہیڈ آف ای این ٹی اسپیشل پروفیسر ڈاکٹر جاوید اقبال،
پروفیسر ڈاکٹر میاں محمد یوسف ہیڈ اینڈ نیک سرجن UK،
نے ای این ٹی وارڈ کے ڈاکٹرز کے ہمراہ سروسز ہسپتال میں شجر کاری مہم میں حصہ لیا اور اپنے ہاتھوں سے پودے لگائے۔

Sohaib Super Store
·
اجرک سوٹ 3 پیس
سندھی کڑاھی شرٹ دوپٹہ کڑھائی کے ساتھ
3,000/- روپے ……
( 03094386375 )
WhatsApp

8 رنگ والا بلوچی کڑاھی سوٹ
قیمت 4,000 روپے
( 03094386375 )
WhatsApp

Embroidery Ladies Suit
( 3,000/- )روپے
For Order Please Contact
( 03094386375 )
WhatsApp
=====================================


بیرون ملک بہترین تعلیم کے لیے کنسلٹنٹ سے رہنمائی حاصل کریں ،ابھی رابطہ کریں
بیرون ملک بہترین تعلیم کے لیے کنسلٹنٹ سے رہنمائی حاصل کریں ،ابھی رابطہ کریں۔
تفصیلات کے مطابق ایسے نوجوان طلبا طالبات جو بیرون ملک اعلی تعلیم حاصل کرنے کے خواہش مند ہیں اور بہترین انٹرنیشنل یونیورسٹیز اور کالجز میں داخلہ حاصل کرنا چاہتے ہیں اور اسٹڈی ویزا یا اسٹوڈنٹ ویزے پر باہر جانا چاہتے ہیں انہیں کب کہاں کیسے داخلہ مل سکتا ہے

ان کی مطلوبہ کوالیفیکیشن کیا ہے کون سی دستاویزات درکار ہوتی ہیں مختلف یونیورسٹیز اور کالجز کی فیس کتنی ہے ادائیگی کیسے ہوتی ہے کتنے عرصے
کا کورس ہوتا ہے اور کتنے عرصے کا ویزا ملتا ہے جو اسٹوڈنٹ پاکستان سے جا کر باہر بڑھ رہے ہیں ان کے تجربات کیا ہیں جو بیرون ملک جانا چاہتے ہیں ان کو کیا تیاری کرنی چاہیے بہترین اعلی تعلیمی مواقع کہاں کہاں پر میسر ہیں پاکستانی اسٹوڈنٹس ان مواقع سے کب کیسے کہاں فائدہ اٹھا سکتے ہیں یہ اور اس طرح کے اور بہت سے سوالات کا جواب حاصل کرنے اور مستقبل کے کیریئر کی رہنمائی کے
لیے ہمارے پاکستان اور بیرون ملک موجود کنسلٹنٹ سے رہنمائی حاصل کرنے کے لیے ابھی رابطہ کریں اپنے کوائف فون نمبر اور ای میل جیوے پاکستان کے ای میل
Jeeveypakistan@yahoo.com
اور واٹس ایپ
03009253034
پر ارسال کریں ۔ کنسلٹنٹ کی ٹیم خود آپ سے رابطہ کرے گی اپنی دستیابی اور وقت کی سہولت کے حوالے سے آپ خود بتائیں ۔
=========================























