
چائے کی ایک پیالی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ایک نیا جنم۔۔۔۔۔عشرت العباد۔ فیضان حسین۔ شاہد خاقان عباسی۔۔۔علیم خان۔ آفاق احمد۔ سلیم حیدر۔ ڈاکٹر انور۔ خالد مقبول
کیا یہ سب اپنی اصل تاریخ کے بغیر آگے بڑھ سکیں گے۔ پاکستان زندہ باد، پنجابی، پختون، سندھی بلوچی، مہاجر، سرائیکی ہزارہ وال سب زندہ باد لیکن صرف ریڈ لائن پاکستان
)
تحریر: رضوان احمد فکری rizwanahmedfikri1@gmail.com ایک چبھتی ہوئی تحریر
یہ بات بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ چائے کی پیالی جہاں تھکن اتارتی ہے۔ وہاں تاریخوں کی ایک بڑی سنہری کہانی کو بھی یاد دلاتی ہے۔ایم کیو ایم لندن اور الطاف حسین کا بظاہر Chapter ختم ہونے کے بعد 22اگست 2016کے بعد 23اگست 2016سے سندھ کی شہری سیاست میں آنے والی تبدیلی آج تک سوالیہ نشان ہے۔ نہ خورشید میموریل نہ ایم پی اے ہاسٹل، نہ نشرواشاعت کا دفتر، نائن زیرو کا علاقہ آج تک کسی کو نہیں دیا گیا۔ بیت الحمزہ ٹوٹنے کے بعد دوبارہ قائم نہیں ہوا۔ مہاجر قومی موومنٹ کے دفتر کو توڑنے والے بھول گئے تاریخ دہراتی ہے۔ 90جل گیا۔ لال قلعہ پارک بننے جا رہا ہے ریاست کے اندر ریاست ختم ہوچکی ہیں۔ آپکو یاد دلاتے ہیں کہ چائے کی پیالی پر ایک ایسی جماعت نے ترقی کی منازل طے کیں جو پاکستان کے مستقبل اور سیاسی تاریخ میں انمنٹ مثال بنی۔ آج بھی ایم کیو ایم پاکستان کے نام سے وجود رکھتی ہے لیکن فرق یہ ہے کہ سانپ کے دانت توڑ کر زہر نکال دیا گیا ہے۔۔ ایک طلبہ تنظیم اور پھر سیاسی جماعت اور اسکے بعد ملک میں تواتر کے ساتھ اہم جماعت رہنے والی اقتدار کے پلڑے بنانے اور گرانے والی جماعت جس نے ریگل چوک صدر پر چائے کے ہوٹل کیفے جہاں (جو اب بند ہوچکا ہے) ، علی مختار رضوی، اختر رضوی، جی ایم سید کے ایک رفیق اور ایک طالب علم لیڈر کے انٹرویو سے شروع ہوئی۔ نشست چائے سے شروع ہوئی۔ اور بھی مدبر اس کیفے جہاں میں آئے جس میں رئیس امروہی، اشتیاق اظہر، الطاف احمد جیسے بڑے افراد بھی شامل تھے۔ کسی کو پتہ نہیں تھا کہ چائے کی یہ پیالی اور اس سے نکلتا دھواں ایک وقت میں سندھ کی سیاست اور بعد میں ملک کی سیاست کو تلٹ پلٹ کر رکھ دیگا۔ یہی چائے کی پیالی کیفے ٹیریا جامعہ کراچی اور فارمیسی جیسے شعبہ میں سوشل ویلفیئر، جنرل ہسٹری، آئی آر، فلاسفی، تاریخ اسلام، آرٹس لابی، مائیکرو بائیو لوجی، بائیو کیمسٹری اور ہر شعبہ میں رنگ بھرتے ہوئے ایک ایسی طلبہ جماعت کو جنم دیگی۔ جو ملک میں انقلاب پربا کردیگی۔ چائے کی پیالی سے سیاست دانوں کا ایک بھرا جھنڈ ایک نئی طرز سیاست لیکر پاکستان بالخصوص سندھ کی شہری سیاست میں طلاطم اختیار کرلیگا۔ جہاں اس جماعت کی یہ مثالیں دی جاتی ہیں کہ اس نے طلبہ جماعت سے سیاسی جماعت کو جنم دیا۔ وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ چائے کی پیالی پر اس طلبہ جماعت نے جامعہ کراچی سے شہر بھر کے تعلیمی اور علاقوں میں جوش چائے ابلتے پانی اور بھرپور گفتگو سے ورکرز اور ہمدردوں کی ایک ایسی کھیپ نکالی جو پاکستان اور سندھ کی سیاست میں آج بھی تمام تر منفی پروپیگنڈوں اور متنازعہ ہونے کے باوجود عوامی مینڈیٹ رکھنے والی منفرد جماعت ہے۔ اور الطاف حسین کے مینڈیٹ کا دعوی ختم کرکے اتنی ہی نشستیں لے کر آج الگ حیثیت رکھتی ہے۔ ہماراموضوع چائے کی پیالی ہے۔ تو ذکر بھی ہوجائے کیوں؟ جب آل پاکستان مہاجر اسٹوڈینٹس آرگنائزیشن کو 1980کے بعد تعلیمی اداروں میں کام کرنے سے اس وقت کی مضبوط طلبہ جماعت اسلامی جمعیت طلبہ نے روک دیا تھا۔ تب چیئرمین اے پی ایم ایس او بانی APMSOنے اسے علاقوں کی جماعت بنا دیا۔ لانڈھی، لیاقت آباد، پی آئی بی کالونی، کورنگی، ناظم آباد، انچولی، فیڈرل بی ایریا، نیو کراچی، نارتھ کراچی، جہانگیر روڈ، تین ہٹی، لائنزایریا، نارتھ ناظم آباد، پاک کالونی، اورنگی ٹاؤن، عثمان آباد، برنس روڈ، صدر، پریڈی شاہ فیصل کالونی، عظیم پورہ اور متعدد علاقوں میں پہنچا دیا۔ لانڈھی کورنگی میں آفاق احمد، محمود ہاشمی ،حیدر علی، فیاض،خالد رحمان، مقصود ببلی، حصام جلالی، منیر علی، ابرار، عرفان خان، ساجد، جمال بہاری، شبلی ایاز، طارق ایاز، قدیر انور، اقبال قریشی، شکیل، تنویر، لیاقت، رضوان احمد، ناصر خان، شکیل،موسی خان، رضا حیدر، محب فاطمی، ندیم نصرت،نعیم حشمت، محمود خان، ابرار بیگ، سلیم خان، جاوید ایوب، محمداکرم،خالد مرتضی، غفار، شاہد مہاجر، فاروق ستار، خالد سلطان، عبدالحفیظ صدیقی، ندیم نصرت، عبدالرشید، مجتبی خان،جمال الدین سعید، شبیر ہاشمی،۔ اقبال لاڈلا، کریم خانزادہ، فقیر میمن،، انیس ایڈووکیٹ۔ کنور نوید جمیل، فیاض سمیت متعدد افراد چائے کی پیالی پر اپنے اپنے علاقے کے
ہوٹلوں پر چائے کی پیالی پر نوجوانوں کو اے پی ایم ایس او کے فکر و فلسفے سے آگاہ کرتے تھے۔ منشور پڑھ کر سناتے تھے۔ میری آواز سنو پڑھوا تے تھے۔ اسی طرح سے پی ایم ایس او کے پلیٹ فارم سے بتاتے تھے کہ شہری سندھ کی یونیورسٹیوں اور میڈیکل کالجز میں مہاجروں کا داخلہ ممنوع ہے۔ جامشورو یونیورسٹی میں طلبہ و طالبات کی روز پٹائی ہوتی ہے۔ اندرون سندھ آج بھی یہ کلچر ہے کہ مہاجروں سمیت تمام غیر مقامی افراد کو پنجابی کہا جاتا ہے۔ ایم کیو ایم کی وجہ سے کم ازکم تلیر، مکڑ، مہاجر کی حیثیت سے پہچانے جانے لگے ہیں۔انہ مطالبات میں جامعہ کراچی کی سب سے کم گرانٹ، طلبہ کے لئے پورے پاکستان میں سب سے زیادہ کرایہ، پانچویں قومیت کا قیام، مہاجروں کے ساتھ زیادتیوں اور حقوق نہ دینے پر پانچویں صوبے کے قیام کے مطالبات درج ہوتے تھے۔ جبکہ جامعہ کراچہی ملک کی تمام جامعات سے تین سال پیچھے بھی تھی یہ اے پی ایم ایس او کا بنیادی منشور تھا ۔
۔ جو اب کہیں نظر نہیں آتا۔ کیونکہ مہاجر لفظ نکل چکا ہے اور متحدہ کا لفظ اسکی جگہ لے چکا ہے۔ بہر حال چائے کی پیالی ٹھنڈی نہیں ہوئی لیاقت آباد میں عامر خان، احمد سلیم صدیقی، فہیم فاروقی، عظیم فاروقی، عابد شریف، راشد انور، شیخ جاوید، جمیل، احمد ندیم صدیقی، حیدر عباس رضوی، ڈاکٹر عشرت العباد، ودیگر یہی کام کرتے تھے۔ پی آئی بی میں ڈاکٹر فاروق ستار، شاہد مہاجر، جمال الدین سعید، خالد سلطان، سہیل اکبر، سلیم شہزاد، زرین مجید ناصر، عمر عرف گوگا، و دیگر نامور افراد یہی کام کرتے تھے۔ جہانگیر روڈ پر سلیم شہزاد و دیگر، فیڈرل بی ایریا میں شاہد لطیف، طارق مہاجر، ایس ایم طارق، تنویر، خود چیئرمین الطاف حسین،عظیم احمد طارق، ڈاکٹر عمران فاروق، سیف عباس نیو کراچی میں بدر اقبال اسحاق خان شیروانی، ندیم احمد، شاہد قریشی، مجتبی خان، شاکر صدیقی، ناظم آباد میں شیخ جاوید، خالد ندیم، خالد بن ولید۔ صلاح الدین اور انکے دیگر بھائی، اورنگی ٹاؤن میں حسیب ہاشمی، آفاق خان شاہد، رازق خان ایڈووکیٹ، عبدالرشیدو دیگر، عثمان آباد میں مسعود نبی، نجم مصطفی، بابر، ارشاد احمد، عبدالحفیظ صدیقی، عبدالقیوم م متین یوسف، سلیم یوسف و دیگر حیدر آباد میں کنور نوید جمیل، اویس شبلی، شبیر ہاشمی، سہیل دانش، وسیم خاور، اقبال لاڈلا، زاہد خان، علی اجمیری، آفتاب احمد شیخ، رشید بھیا، عثمان کینیڈی، نوابزادہ راشد،انیس قائم خانی۔ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی، سہیل مشہدی، ممتاز جنیدی سمیت متعدد ساتھی شامل تھے۔س میں وہ بھی تھے جو مہاجر پنجابی پختون تحریک چلا چکے تھے۔ با با ایم ایم بشیر کی تحریک کا بھی حصہ رہے۔ تھے۔ فقیر محمد میمن، انیس ایڈووکیٹ۔ محمد حسین خان، غرض سب ہی متحرک تھے جنکا فردا فردا ذکر ممکن نہیں۔ آج ان چائے کی پیالیوں میں تبلیغ کرکے اے پی ایم ایس او اور ایم کیو ایم پاکستان مہاجر اتحاد تحریک، ایم کیو ایم حقیقی،پی ایس پی اور چھوٹے موٹے دھڑوں میں موجود افراد جو چائے کی پیالی اور ایم کیو ایم کے قیام کی اہمیت کو جانتے ہیں۔ اس میں سب سے پہلے مہاجروں کا آج بھی واحڈ ڈتا ہوا لیڈر آفاق احمد،سابقہ سینئر ڈپٹی کنوینر ایم کیو ایم پاکستان عامر خان ا(سابق انچارج زون سی)، کنوینر ایم کیو ایم ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی (سابق چیئرمین اے پی ایم ایس او)، ڈپٹی کنوینر کنور نوید جمیل مرحوم ّ سابق آرگنائزر حیدرآباد زون)، ڈپٹی کنوینر نسرین جلیل، رکن رابطہ کمیٹی کشور زہرا (انچارج شعبہ خواتین)، زرین مجید (سابق وائس چیئرمین ایم کیو ایم)۔ طارق جاوید (سابق سینئر وائس چیئرمین)، سید امین الحق (سیکریٹری اطلاعات) اقبال مقدم، محمد حسین خان (ایم پی اے) میرپورخاص)، آفاق احمد (سابق زون انچارج اے)، ڈاکٹر سلیم حیدر (چیئرمین مہاجر اتحاد تحریک) شمعون ابرار، کلیم جیلانی، متین یوسف (سابق چیئرمین اے پی ایم ایس او)، شیخ جاوید (سیکریٹری اطلاعات مہاجر قومی موومنٹ)۔ احمد سلیم صدیقی (ڈپٹی سیکریٹری اطلاعات)، طارق مہاجر (ڈپٹی سیکریٹری جنرل)، ایس ایم طارق فنانس سیکریٹری، ڈاکٹر عمران فاروق (سیکریٹری جنرل) اظہار احمد خان و دیگر شامل ہیں۔ یہ وہ افراد ہیں جو شام ڈھلے اپنے قریبی ہوٹلوں پر چائے کی ایک پیالی کی دعوت دیکر تنظیم سازی کرتے تھے۔ کراچی میں سب سے زیادہ ورکرز عامر خان اور آفاق احمد نے بنائے جبکہ حیدرآباد میں کنور نوید، شبیر ہاشمی، انیس قائم خانی نے بنائے اور بھی بہت سے نام ہیں جو گمنام یا قبروں کی زینت ہیں۔ کچھ بڑے افراد بھی اس جماعت کا حصہ بنے جس میں اسلام نبی، افضال منیف، مریم منیف، حاجی شفیق الرحمان، کیپٹن اطہر، بیگم سلمی احمد، خانم گوہر اعجاز،ماسٹر علی حیدر، اختر رضوی، وغیرہ لیکن جماعت کے زوال اور آپریشن کے بعد بہت سے خواب بن گئے صرف ایم اے جلیل اور نسرین جلیل جڑے رہے اور جڑے ہوئے ہیں، ایم اے جلیل کا انتقال ہوچکا ہے۔ محمد یوسف ایڈووکیٹ اور ماسٹر علی حیدر جیسے افراد بھی آئے۔ لیکن انکی عمر بھی جماعت میں اچھے وقتوں کی تھی۔ کراچی صوبہ تحریک کے عبدالمجید، بلوچ اتحاد تحریک کے انو بھائی جان، سرائیکی اور مختلف جماعتوں کے افراد نے ایم کیو ایم کے حکومت میں آنے کے بعد اسکی تائید بھی کی۔ چائے کی پیالی کی کہانی ڈاکخانہ لیاقت آباد پر بھی جاتی ہے جہاں ایک گندی گلی میں اے پی ایم ایس او کا مرکز تھا۔ جہاں فرشی نشست پر پوری قیادت بیٹھی ہوتی تھی۔ جس میں چیئرمین اور اعلی قیادت بھی شامل تھی۔ چیئرمین اے پی ایم ایس او کے مارشل لاء دور میں آفاق شاہد و دیگر کے ہمراہ مزار قائد سے گرفتاری پانچ ماہ اور نو کوڑے کی سزا بھی مارشل لاء دور میں ہوئی لیکن چائے کی پیالی جامعہ کراچی میں چلتی رہی اور مہاجر پیغام پہنچاتی رہی۔ پہلی رہائی کے بعد جامعہ کراچی اور ایم فارمیسی کے راستے چیئرمین اے پی ایم ایس او پر بند ہوئے تو یہ چائے کی پیالی کی سیاست سندھ کی مہاجر طلبہ
سیاست سے عوامی سیاست بن گئی۔ غربت اور مشکل حالات میں چھٹی منزل بلاک ٹو میں مہاجر قومی موومنٹ کا مرکز بنا یا گیا۔ جس پرطارق مہاجر، ڈاکٹر عمران فاروق اور پوری
قیادت آتی تھی، اس مرکز کا نمبر 674302تھا۔ بعدازاں یہاں جامعہ کراچی، اے پی ایم ایس او کراچی ڈویژن، نشرواشاعت کے بعد اس مرکز کی ذمہ داری بھی رضوان احمد کو ملی۔ جہاں لیاقت، فیض عثمانی، محمود، ریحانہ سیف، شمیم مظہر، منصور احمد خان عرف ماما، جمیل خان عرف ٹیڑھا، محمود، وسیم شیخ، مشکور و دیگر کی ذمہ داریاں بھی تھیں۔ رسالہ جمہورایڈیٹر کبیر پیرزادہ نے بانی اے پی ایم ایس او و ایم کیو ایم کا انٹرویو شائع ہوا جو ہر جگہ تقسیم کیا گیا۔ نشتر پارک 8اگست 1986اور 31اکتوبر 1986حیدر آباد پکا قلعہ کے جلسوں کے بعد سانحات کی بہت سی کڑیوں کو جھیل کر 9نومبر 1987کو کراچی، حیدر آباد، میرپورخاص میں بلدیاتی الیکشن جیت کر مہاجر سیاست کو مستند کردیا۔اس سے پہلے یہ سچ بھی عیاں ہونا چاہئے کہ مہاجر قومی موومنٹ کا اعلان لیاقت آباد میں فہیم اور عظیم فاروقی کے گھر پر ہوا الطاف حسین امریکہ میں تھے۔ وہ قائد و بانی اور عظیم احمد طارق چیئرمین، کراچی صوبہ تحریک کے سربراہ عبدالمجید سینئر وائس چیئرمین،طارق جاوید، زرین مجید، سلیم شہزاد وائس چیئرمین بنے۔، عمران فاروق سیکریٹری جنرل، طارق مہاجر ڈپٹی سیکریٹری جنرل بنے۔ بدراقبال جوائنٹ سیکریٹری، ایس ایم طارق فنانس سیکریٹڑی، شیخ جاوید نشرو اشاعت سیکریٹری، امین الحق دُتی سیکریٹری اطلاعات اور رضوان احمد فکری پریس سیکریٹری بنے۔ آفاق احمد انچارج زون اے، عامر خان زون سی، شاہد مہاجر زون بی، عببدالحفیظ صدیقی زون ڈی، عبدالرشید زون ای کے انچارج بنے۔ شبیر ہاشمی حیدرآبا زون کے انچارج، سہیل دانش و دیگر، میرپورخاص فقیر میمن، اس طرح پورے سندھ کی تنظیم سازی ہوئی۔ جو صرف ایک سال قائم رہی۔ شیخ جاوید اور عبدالمجید، شبیر ہاشمی کو فارغ کردیا گیا۔ کنور نوید انکی جگہ
آگئے۔ تاہم پھر اصل بات کی طرف آتے ہیں۔ جبکہ اگلے ہی سال 1988میں عام انتخابات جیت کر مہاجر سیاست کو منوالیا۔ چائے کی پیالی اور تبلیغ کی طرح چلائی جانے والی یہ جماعت منظم اور تنظیم کے ضوابط پر بہت مضبوط تھی۔ اس نے انتظامی ڈھانچہ بنانے میں جمعیت اور جماعت اسلامی کو ببھی مات دے دی۔ اسوقت بھی ملک میں ایم کیو ایم پاکستان واحدجماعت ہے جسکا تنظیمی اسٹرکچر ملک کی کسی بھی جماعت سے مضبوط اور مربوط ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایم کیو ایم حقیقی جیسی جماعت بہت بڑی تعداد پارٹی میں لانے کے باوجود ایم کیو ایم کی جگہ نہیں لے سکی۔ ڈاکٹر سلیم حیدر اور شمعون ابرار مہاجر اتحاد تحریک بنا کر چند ہی عرصے میں الگ ہو کر دو جماعتوں میں تقسیم ہوگئے۔ سکھر میں اوائل کے ادوار میں مہاجر اتحاد تحریک عبدالہادی شیخ، ممتاز شیخ اور دیگر مہاجر قومی موومنٹ سے زیادہ مضبوط تھے۔ لیکن جب بانی ایم کیو ایم نے سیاست شروع کی تو یہ سب ریت کے ڈھیر بن گئے۔ ابتدائی سیاست میں مہاجر سیاست مقدم رکھی گئی۔ لیکن مہاجر سیاست اور لفظ سے نفرت کرنے والوں نے دباؤ اور بعض تنظیم میں ایسے افراد شامل کرائے کہ مہاجر قومی موومنٹ، متحدہ قومی موومنٹ بن گئی۔ یہ بہت حساس معاملہ ہے اس لئے اس پر رائے زنی نہیں کرنا چاہتا۔ میں تو صرف یہ بتانے کی کوشش کر رہا ہوں کہ آج کی پرتعیش ایم کیو ایم بے بہا قربانیوں کا نتیجہ ہے۔ تجمل حسین، اٖفضل شگری، بے بہا نام ایگل اسکواڈ اور کرفیو اور یکطرفہ مہاجر قوم پر مظالم کا سلسلہ، آپریشن تو اس کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔ کرمنلز اور نا پسندیدہ افراد نے اس تحریک کو سیاسی جماعت میں بدل دیا۔ کراچی کے ہر علاقے سے مرکزی کمیٹی نے چندہ جمع کرکے اس جماعت کو چلایا۔ اسٹرینسل پر ہینڈ بل نکلتا تھا۔ آج چائے کی پیالی پر کچھ تھوڑی سی یادداشتیں پیش کرنے کی جسارت کی ہے۔ دوسری قسط میں مثبت سے منفی سیاست کیوں؟چائے کی پیالی کے دوسرے حصے میں بیان کریں گے۔ چائے کی پیالی بظاہر تو عنوان عجیب سا ہے لیکن جس جماعت کے لئے میں لکھ رہا ہوں اسکا رشتہ اس پیالی اور اسکی سیاست سے انتہائی گہرا ہے۔ دھنک ہال کورنگی، PIB کالونی کمیونٹی سینٹراور المدینہ ہال اسکی تاریخ کے مدوجزر کو ملاتے ہیں۔ رئیس امروہی کے مہاجر کالم اور اس وقت کے نامور ادیبوں کی اے پی ایم ایس او کے کنونشنز میں شرکت بھی تاریخ کے سنہری بابوں میں سے ایک ہے۔ المدینہ ہال میں گیارہ جون کے کنونشن کے لئے کراچی کی گلی کوچوں اور مارکیٹوں سے بھکاریوں کی طرح قوم کے لئے اخراجات کنونشن جمع کرنے کا کٹھن مرحلہ بھی یہ چائے کی پیالی پر آنے والے جمع کرتے تھے۔ کرتے پاجامے میں ملبوث یہ نوجوان ایک تاریخ رقم کر رہے تھے۔ جو محب وطن اور ملک کی خدمت کے جزبے سے سرشار تھے۔ جمال الدین سعید کی گاڑی میں مرکزی رہنما کارکنان کی حوصلہ افزائی کے لئے ہر علاقے میں تشریف لاتے تھے۔ بغیر پروٹوکول بھی انکی شخصیات قد آور تھیں۔ داڑھی والے جمال الدین سعید۔
گورے اور بڑی بڑی مونچھوں والے خوبرو عامر خان اور سانولی سیدھی مانگ نکالنے والے آفاق احمد اس چائے کی پیالی والی جماعت کی روح تھے۔ لانڈھی تو ایسا علاقہ رہا کہ بوسٹ کمپنی میں تحریک کی مرکزی شخصیت بانی ایم کیو ایم وہاں نوکری کرنے آتی تھی۔ اسوقت انکا سگریٹ برانڈ ملبورن تھا۔ وہ 36-Bمیں ہی قیام کرتے اور وقفے اور واپسی پر محمود ہاشمی، ساجد، جمال یا عرفان، رضواناحمد فکری، اقبال قریشی کے گھر یا دکان پر بیٹھ کر فکرو فلسفے کی باتیں کرتے۔ روٹ سی ون اور سی ٹو کی گاڑی سے واپس جاتے اور دو گاڑیاں بدل کر دستگیر جاتے۔ کسی کو نہیں معلوم تھا کہ مہاجر شناخت کا یہ علمبدرار شخص ہے۔ اسی چائے کی پیالی والی جماعت سے نظم و ضبط کی روایت ڈال کر کرتے پاجامے کے بغیر اجلاس میں شرکت
ہو تو اسے میٹنگ سے نکالنے کی روایت ڈالے گا۔۔ میں خود جب لانڈھی کورنگی کا سیکریٹری نشرو اشاعت بنا تو مجھے کرتااجامہ ایک دفعہ پہن کر نہ آنے پرنآفاق احمد نے اجلاس میں شرکت نہیں کرنے دی۔۔ جنرل محمد ضیاء الحق نے بہاریوں کو بھکاری کہا تو اے پی ایم ایس او / مہاجر قومی موومنٹ نے پوسٹر جاری کیا جس میں سرخی تھی۔ ”بہاری۔ بھکاری یا پاکستانی“ یہ پوسٹر لگاتے ہوئے آفاق احمد۔ شبلی ایاز۔ فیاض، خالد رحمان و دیگر کورنگی پولیس کے ہاتھوں گرفتار ہوگئے۔ مہاجر قومی موومنٹ کے چیئرمین عظیم احمد طارق نے جمال الدین سعید کے ساتھ آکر تھانے کی معلومات کے لئے مجھے سب سے چھوٹا سمجھ کر کچھ دس روپے دیکر بھیجا جو سنتری کو دیئے تو اس نے ملاقات کرائی۔ آفاق احمد نے بتایا کہ ایف آئی آر کٹ چکی ہے۔ جیل بھیج رہے ہیں ضمانت ہوگی۔ اسوقت عظیم احمد طارق کے پسینے چھوٹ گئے کہ ہمارے پاس تو ضمانتوں کے پیسے اور وسائل بھی نہیں۔ مارشل لاء کا زمانہ ہے۔ اسوقت پی پی پی سے تعلق رکھنے والے ایم پی ایممتاز قیصراور عظیم بھائی نے لوگوں کی منتیں کرکے ان سب گرفتار شدگان کی ضمانت کرائی۔ جس میں لانڈھی کے ایک ایم پی اے ممتاز قیصر جسکا تعلق پی پی پی سے تھا اسکی بھی مدد لی گئی۔ پی پی پی کے اس ایم پی اے نے یہاں شب خون مارا اور کچھ اے پی ایم ایس او کے ورکرز کو ضمانت کے بدلے ایم کیو ایم چھوڑنے پر مجبور کیا۔ جس میں شبلی ایاز، فیاض اور دیگر شامل تھے۔ یہ افراد ملک چھوڑ کر چلے گئے۔ اس سے قبل ڈاکٹر سلیم حیدر، شمعون ابرار، سید کلیم جیلانی اور جامعہ کراچی کے کچھ افراد بھی غداری کرچکے تھے۔ جیسا کہ میں نے کہا کہ اس جماعت کا نظم و ضبط ہی اسکی کامیابی اور اسکی تنظیمی اسٹرکچر پر گرفت بہت مضبوط تھی۔ عامر خان اور آفاق احمد، مسعود نبی، عبدالحفیظ و دیگر نے بغاوت کچل کر مہاجر سیاست کی پاکیزگی اور نظم و ضبط کو برقرا رکھا۔ یہی بغاوت حیدر آباد میں شبیر ہاشمی، اویس شبلی، اقبال لاڈلا و دیگر نے کی جسے کنور نوید جمیل، سلیم
انقلابی، رشید بھیا و دیگر نے ناکام بنا دیا گو کہ یہ مہاجر قومی موومنٹ کے قیام کے بعد صرف ایک سال کا عرصہ تھا۔ حیدرآباد کے عائشہ پارک میں جلسہ تھا۔ 1985کی بات تھی۔ عبدالمجید وائس چیئرمین اور شیخ جاوید سیکریٹری اطلاعات، شبیر ہاشمی آرگنائزر حیدرآباد غداری کے مرتکب ہوئے۔ کراچی کے مرکز الکرم اسکوائر چھٹی منزل سے بانی، چیئرمین ایم کیو ایم اور فنانس سیکریٹری کوچ سے حیدر آباد روانہ ہوئے اور شاندار پروگرام منعقد کیا حیدر آباد کی تنظیم سازی بھی کی اور اسے کراچی کے بعد سندھ کا دوسرا بڑا قلعہ ایم کیو ایم بنایا۔ 1986کے جلسوں کے بعد کراچی میں کلین سوئپ کرکے پکا قلعہ حیدر آباد میں جھنڈے گاڑھے گو کراچی اور حیدرآباد میں متعدد ساتھی شہید و زخمی ہوچکے تھے۔ یہ کرائسس بھی عامر خان اور آفاق احمد نے جھیلا اور شہیدوں اور زخمیوں کو دیکھتے رہے۔ 1988کے عام انتخابات کے بعد حیدر آباد میں تیرہ روزہ قیام موجودہ ڈپٹی کنوینر کنور نوید جمیل کے گھر پر کیا اور حیدر آباد میں تنظیم کو منظم کیا۔ پی پی پی کی اتحادی جماعت ہونے کے باوجود حیدر آباد میں آپریشن کی کوشش شروع ہوئی۔ کنور نوید جمیل کی رہائش گاہ سے منتقل ہونا پڑا۔ رشید بھیا کے گھر منتقل ہوئے۔ اسوقت کراچی سے سیکریٹری جنرل ڈاکٹر عمران فاروق نے سارے معاملات کو دیکھا اور آپریشن رکا۔ بانی کے علاوہ، آفاق احمد، نسرین جلیل، شمیم مظہر، شمیم اختر ایم پی اے، رضوان احمد، سید امین الحق، طارق جاوید، سلیم انقلابی و دیگر موجود تھے۔ جسکے بعد رشید بھیا کے گھر پریس کانفرنس ہوئی۔ رئیس کمال جنگ کے صحافی نے Exclusive
انٹرویو بھی لیا۔ 1988میں مہاجروں کو منظم دیکھ کر حکومتی حلیف ہونے کے باوجود حیدر آباد کے مہاجر علاقوں پر حملہ کرکے 250مہاجر خواتین، بچوں، نوجوانوں، دکانداروں کو حکومتی سرپرستی میں شہید کردیا گیا۔ راتوں کو شہید کئے گئے لاشوں کو صبح تک اٹھانے والا کوئی نہیں تھا۔ چائے کی پیالی پر بننے والی جماعت کو کچلنے کا یہ مکروہ عمل پاکستان کی تاریخ کا بدترین باب ہے۔ انمٹ ہے اور نفرتوں کی سیاست کا مکروہ فعل تھا۔ یہی تاریخ 1990میں دہرا کر 220سے زائد افراد سرکاری گولیوں کا نشانہ پکا قلعہ حیدر آباد میں بنائے گئے۔ یہ تو حیدرآباد کا عالم تھا جبکہ کراچی میں مہاجر سیاست کے ہم پلہ پنجابی پختون اتحاد بنا کر گرین ٹاؤن، گولڈن ٹاؤن، شاہ فیصل کالونی، ماڈل کالونی، قصبہ علی گڑھ، اورنگی ٹاؤن، ناظم آباد، لیاقت آباد اگلبہار، پاک کالونی سمیت متعدد علاقے مہاجروں کے خون سے رنگ دیئے گئے جس میں ڈرگ مافیا اور نفرت کی سیاست کے مٹھی بھر دہشت گرد تھے جنہیں سرکاری سرپرستی حاصل تھی۔ انتہائی بری قیمت قیمتی جانوں کے ضیاع کی صورت میں ٹنڈوالہ یار، میرپورخاص اور نواب شاہ نے بھی ادا کی۔ جہاں بدنان زمانہ ڈاکووں کی مدد سے مہاجروں کو شہید کرایا گیا۔ جی ایم سید کے ذریعے جبتک وہ زندہ رہے سندھی مہاجر اتحاد کی کوششیں ہوئیں اور کافی حد تک کامیاب رہیں۔ لیکن بعد میں قادر مگسی اور بشیر جئے سندھ جیسے کئی گروپ بن گئے۔ عبدالواحد آریسر گروپ مہاجر سندھی اتحاد کا حامی تھا۔ ایم کیو ایم سندھ کی تمام اکائیوں کو ساتھ لیکر چلنا چاہتی تھی۔ 1997میں دو قدم بڑھ کر مہاجر قومی موومنٹ کو متحدہ قومی موومنٹ بنانا اسی کا حصہ تھا لیکن ارباب اختیار نے قومی اسمبلی کے ایوان میں پہلی بار 13کرتا پاجامہ میں ملبوث ایم کیو ایم کے اراکین اسمبلی کو گلے لگانے کے بجائے نفرت کی نگاہ سے دیکھا۔ ڈاکٹر عمران فاروق کی قیادت میں پیپلزپارٹی کے فطری اتحادی ہونے کے باوجود جس طرح سندھ سے بیر رکھی جاتی ہے اسی طرح ایم کیو ایم سے بھی رکھی گئی۔ غریب و متوسط طبقہ کے ڈاکٹر فاروق ستار، محمود ہاشمی، طارق محمود، سید سلیم شہزاد، سید امین الحق ودیگرنے قومی اسمبلی کے ایوان میں نا تجربہ کاری کے باوجود ایسی ریت
ڈالی کہ سیاسی پنڈت غریبوں کے انقلاب کو خود کے لئے خطرہ سمجھنے لگے۔ آج بھی یہ روایت اور سوچ باقی ہے۔ ڈاکٹر عمران فاروق پارلیمانی لیڈر ایم کیو ایم نے جب پی پی پی نے ایم کیو ایم سے وعدے وفا نہ کئے تو محترمہ بے نظیر بھٹو کو برجستہ ایوان میں کہا ”غضب کیا تیرے وعدے پہ اعتبار کیا“ آپ ہی اپنی جفاؤں پر ذرا غور کیجئے۔۔۔۔ہم اگر کچھ عرض کریں گے تو شکایت ہوگی“ اس بہادری کو ایوان میں حیرت اور جرات مندی کوخود کے لئے خطرہ سمجھا گیا۔ لیکن ن لیگ۔ آئی جے آئی نے ان کم عمر نوجوانوں کو پرکھ لیا اور 1990میں انکے ساتھ ملکر حکومت بنائی۔ ایم کیو ایم کی نشستیں بڑھ گئیں لیکن ن لیگ کے وعدے بھی ریت کی ڈھیر ثابت ہوئے اور ایم کیو ایم حکومت سے باہر آگئی۔ اصولوں کی سیاست، حق مانگنا ایم کیو ایم کا جرم بن گیا اور اسے کچلنے اور مٹانے کی سیاست شروع ہوگئی۔ 1992میں اسے صفحہ ہستی سے مٹانے کے لئے 10سالہ طویل آپریشن کیا گیا۔ اسے انتخابات سے بائیکاٹ پر مجبور کیا گیا۔ لیکن جب وہ الیکشن میں آئی پہلے سے زیادہ ووٹ اور نشستیں لیں۔ چائے کی پیالی والی جماعت حکومت بنانے اور مٹانے میں اہم رکن ہوگئی۔ جو آج کی حکومت میں بھی ہے۔ لیکن ایم کیو ایم نے فاش غلطیاں بھی کیں تنظیمی اسٹرکچر سے ہٹ کر ہر آنے والے کو اپنا سمجھ لیا۔ جس سے کرمنلز بھی اسکی صفوں میں شامل ہوتے رہے۔ مفادات اور اصولوں کی جگہ مونو پولی اور سبقت کی بساط بچھنے لگیں۔ کچھ ایسے افراد بھی حصہ بن گئے جو ملک دشمن تھے۔ مسلسل حکومتوں میں رہنے کی وجہ سے چیک اینڈ بیلنس کا نظام بگڑ گیا اور خرابیوں کا سلسلہ دراز ہوگیا اور طاقت کی بدمستی نے بہت سے فرعون پیدا کردیئے۔ چائے کی پیالی نے شاندار ڈنر کی شکل اختیار کرلی۔ تباہی کے وہ تمام راستے جن سے ایم کیو ایم بچتی آئی تھی ۔ پرویز مشرف دور میں پولیس تھانے اور سارے حکومتی مزے دیکر اس منظم جماعت کو گھن لگانے کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ قیادت کے اصل محاصل دور چلے گئے اور ایسی فاش غلطیاں کی گئیں کہ بانیان پاک اور محب وطن جماعت کو 22اگست2016میں آسمان سے اٹھا کر زمین پر پھنکوا دیا گیا۔ ایم کیو ایم پاکستان اس لئے قائم و دائم رہی کے چائے کی پیالی پر جماعت بنانے والے اب بھی اس سے جڑے ہوئے تھے۔ کتنے ہی دھڑے بن گئے لیکن اسکا تنظیمی اسٹرکچر اور عوام کا اعتماد اسے سیسہ پلائی ہوئی دیوار بنائے ہوئے ہے۔ ایک فاش غلظی آفاق احمد اور عامر خان کو جدا کرنا بھی تھا جسکی آج تک سزا بھگتی جا رہی ہے۔ آفاق احمد کو شک ہوگیا تھا کہ مہاجر قومی موومنٹ کی جگہ حق پرست گروپ رجسٹرڈ کرایا گیا۔ یہی نکتہ اختلاف بنا اور راستے جدا ہوئے۔ لیکن آفاق احمد نے 18مارچ 1984کوائم ہونے والی اصل مہاجر قومی موومنٹ کو قائم بھی رکھا اور وہ رکوجسٹرڈ جماعت ہے جسکے چیئرمین آفاق احمد ہیں۔ بہرحال دوبارہ اصل موضوع کی طرف آتے ہیں۔ چائے کی پیالی سے بات شروع ہوئی اور سمندر سے گہری باتیں جگہ لیتی چلی گئیں۔ ماضی کے دریچوں میں مذید جھانکا تو کچھ ابتدائی زمانے کے صحافی بھی یاد آگئے۔اشتیاق اظہر، مختار عاقل۔ الیاس شاکر، خالد اطہر، رفیق شیخ، وقار ہاشمی، امین یوسف، شہزاد چغتائی، عبدالقدوس، محترم اجمل دہلوی، فصاحت، حبیب غوری، عثمانی، صابر علی، فیصل، شکیل، شکیل دہلوی، احمد حسن، ابرار بختیار، ادریس بختیار، عابد حسین، زاہد حسین، منیر علی، شمیم بانو، نذیر لغاری، خالد فرشوری، جی ڈی غوری،احمد علی، اختر رضوی اور متعدد شخصیات شامل تھیں۔ یہ اوائل دور کے افراد تھے۔ بعد میں صحافیوں کا جنگل اور الیکٹرانک میڈیا کی
بھرمار ہوگئی۔ سب سے پہلی کتاب قومی اخبار کے ایڈیٹر اور اسوقت نوائے وقت کے سینئر صحافی الیاس شاکر نے لکھی جسکا عنوان تھا ”الطاف حسین عزائم اور ارادے“مہاجر اکیڈمی نے پاکیشیا اور مختلف مہاجر موضوعات پر لٹریچر لکھا۔آج صحافی مہاجر ہیرو نیوٹرل تجزیہ کار ہے ہم اسے فیصل حسین کے نام سے جانتے ہیں جو Express News کے ڈائریکٹر نیوز اور Current Affairs ہیں۔ لیکن ڈاکٹر عمران فاروق کی کتاب نظم و ضبط اور تقاضے ایسی کتاب ہے جس پر عمل کرکے ایم کیو ایم اور مضبوط و منظم اور ملک کی مظبوط ترین جماعت بن سکتی تھی۔۔ تحریک انصاف کے بہت سے Chaptersایم کیو ایم سے لئے گئے ہیں۔ کیونکہ غریب و متوسط طبقہ کی قیادت صرف ایم کیو ایم نے ایوانوں تک پہنچائی۔ دو فیصد مراعات یافتہ طبقہ کی حکمرانی، غریب غریب تر اور امیر امیر تر کی ٹھوس بات بھی ایم کیو ایم ہی لائی۔ خان لیاقت علی خان نے جب وہ انڈیا کے وزیر خزانہ تھے۔ امیروں پر زرعی ٹیکس کی بات کی تھی۔ جس پر کانگریس چراغ پا ہوگئی۔ ایم کیو ایم نے بھی زرعی ٹیکس اور جاگیرداروں کو ٹیکس نیٹ میں لانے کی بات کی اور ارباب اختیار چراغ پا ہوگئے۔ آج کچھ لیڈرز بشمول عمران خان بھی ایسے ہی کچھ اقدامات کرنے کے دعوی دار تھے لیکں انکے پاس بھی وہی لیڈرز ہیں جو اس کام میں رکاؤٹ ہیں۔ اور ایک مخصوص لابی آج بھی حاوی ہے۔۔ پاکستان کی ترقی کا دھارا انصاف وسائل کی یکساں تقسیم اور عصبیت کے خاتمے میں،مضمر ہے لیکن پاکستان میں بسنے والی اکائیوں کو کبھی ایک نہ کرنے کی قسم کھا لی گئی ہے۔ ہم بھارت اور سارے دشمن ممالک سے تو لڑ سکتے ہیں لیکن اپنے اندر موجود نفرت پسندوں سے کیسے لڑیں۔ بلوچستان کی شورش ہو۔ جئے سندھ کی بھارتی سرپرستی ہو یا ایم کیو ایم لندن کے خوفناک عزائم، دکلبھوشن یادیو جیسوں کی سرپرستی ہو یا علیحدگی پسندوں کی ہماری صفوں میں موجودگی سب نفرت اور تقسیم در تقسیم کے فارمولوں کا نتیجہ ہے۔ یہ ملک دشمن تو ناسور ہیں ہی لیکن انکے مختلف صفوں میں بیٹھے ایجنٹ کلنک کا ٹیکہ ہیں۔ تعصب اور مسلسل نا انصافی احساس محرومی کو تو جنم دیتی ہی ہے لیکن وفاق ہو یا ادارے غلط مردم شماری وسائل کا غلط
استعمال اور سندھ میں نفرتوں کے انمٹ بیج بھی ملک دشمنی سے کم نہیں۔ سندھ کے شہری علاقوں کی غلط مردم شماری، ملک کو پالنے والے شہر کراچی کو وسائل اور فنڈزے محروم کرنا ملک سے دشمنی کرنے کے مترادف ہے۔ ان شہروں میں کبھی ترقی ہوئی تو فوجی ادوارمیں ہوئی۔ کراچی کی قسمت بدلی تو پرویز مشرف دور میں بدلی۔ دونوں سٹی ناظم نعمت اللہ خان اور مصطفی
کمال کو فنڈز ملے تو یہ شہر پیرس بننے جا رہا تھا۔ نو سال سرکاری مشینری کو دیئے تو یہ شہر کھنڈرات میں بدل گیا۔ آج کا میئر میونسپل کمیٹی جیسے اختیارات، فنڈ ز نہ ہونے اور وسائل اور محکموں سے محروم ہے تو ترقی کیسی۔ مجھے تو یہ لکھتے ہوئے بھی خوف نہیں کہ کچھ لوگ سندھ کی تقسیم ہر صورت چاہتے ہیں۔ جو بیرونی ممالک کے ایجنٹ ہیں۔ سندھ کی دکھتی رگ کا حل تو اٹھارویں ترمیم کے بعد خود سندھ حکومت کے پاس ہے کہ وہ کراچی کو صوبائی مالیاتی کمیشن سے ایوارڈ کا حصہ دے۔ کراچی جو کماتا ہے وہ اسے لوٹائے۔ کراچی کی بین الاقومی حیثیت کو بحال کرے۔ پھر فلائی اوورز پر فلائی اوورز بنائے جائیں۔ ایڈمنسٹریٹر فہیم ذمان خان نے پی پی پی سے تعلق ہونے کے باوجود کراچی کے لئے اچھی سوچ رکھی اور ایک سو اکیس ارب کا کراچی پیکیج متعارف کرایا۔ لیاری ایکسپریس کا منصوبہ، اورنگی کاٹیج انڈسٹری، کورنگی کاٹیج انڈسٹری کے منصوبے بنائے لیکن انہیں بھی اردو بولنے کی پاداش اور کراچی کے لئے اچھی سوچ رکھنے پر گھر بھیج دیا گیا۔ ملک کے ارباب اقتدار کو یہ سمجھنا چاہئے کہ کراچی چلتا ہے تو ملک کا پہیہ چلتا ہے۔ اندرون سندھ سے نا اہل افراد کو،مخصوص قومیت سے تعلق رکھنے پر تعینات کرکے، جعلی سندھ پبلک سروس کمیشن سے منتخب کراکے ملک میں نفرتوں کی سیاہی گہری تو کی جا سکتی ہے ختم نہیں کی جاسکتی۔ مسئلہ ایم کیو ایم نہیں ہے ورنہ الطاف حسین کا چیپٹر کلوژ ہونے کے بعد ایم کیو ایم پاکستان کی محب وطن قیادت کو متبادل بنایا جاسکتا تھا۔ پی ایس پی، حقیقی اور ایم کیو ایم پاکستان کو ایک کرکے پاکستان اور سندھ شہری کے سارے مسائل حل کرکے سندھی مہاجر اتحاد قائم کیا جاسکتا تھا۔ پی پی پی نے مہاجروں کو کمزور کرنے کے لئے افغانیوں کو کراچی میں تیزی سے آباد کیا اور اب سرائیکی اسی رفتار سے کراچی میں جگہ لے رہے ہیں۔ پہلے پنجابی پختون مہاجر نفرت کی آبیاری کی گئی اور اب سرائیکی اور دیگر اکائیوں کو مڈ بھیڑ کرنے کا مشن ہے۔ ایم کیو ایم پاکستان نے اچھی حکمت عملی سے یہ سازش تو ناکام بنادی لیکن سندھ کا وڈیرہ، سائیں، پی پی پی کا کم عقل جیالا، متعصب قوتوں کے ہاتھ میں کھیل کر سندھ کی تباہی کی طرف گامزن ہے۔ سندھ سیکریٹریٹ سندھی سیکریٹریٹ ہے۔ جبکہ کوٹہ سسٹم بھی ختم ہو چکا ہے۔ ملازمتوں میں میرٹ کا کوئی تصور نہیں جسکی دہائی سپریم کورٹ بھی دے رہی ہے۔ حال ہی میں پولیس اور افسران کی بھرتیوں میں مہاجر تو مہاجر دیگر قومیتوں کے افراد بھی نہیں ہیں۔ کبھی کوئی سندھ کی انتظامی تقسیم کی بات کردے تو سندھی قیادت، حکومت اور دانشور ایک ہوکر بھارت کی زبان بولنے لگتے ہیں۔ جامشورو یونیورسٹی میں وائس چانسلر کی موجودگی میں سندھو دیش کا ترانہ بجتا ہے۔ دادو، سہون، خانوٹ، امری، میہڑ، خیر پور ناتھن شاہ، لاڑکانہ پر جا بجا جگہ پر سندھو دیش کی چاکنگ ہے۔ کراچی کے مختلف گوٹھوں سچل گوٹھ، ابراہیم حیدری، گڈاپ میں بھی یہ منظر نظر آتے ہیں۔ فوج اور رینجرز کا شکریہ کہ ان علاقوں میں چودہ اگست انکی مرہوں منت
منائی جانے لگی ہے ورنہ پاکستانی پرچم لگانے پر موت بھی ملی ہے ۔۔ چائے کی پیالی سے شروع ہونے والی یہ بحث ارباب اختیار کو تصویر کا ایک اور رخ دکھانے کے لئے ہے کیونکہ ملک کی ترقی کے لئے موجودہ وفاقی حکومت اور فوج ایک پیج پر ہیں۔ ملک کتنے ہی دشوار گزار راستوں سے گزر رہا ہو قائم و دائم رہنے کے لئے بنا ہے۔ اس کی کمزوریوں اور نفرت کے بتوں کو گرانے کی ضرورت ہے خواہ وہ کسی بھی جماعت کا حصہ ہوں۔ کرپشن فری پاکستان کے ساتھ نفرت فری پاکستان کی ضرورت ہین لیگ اور پی پی پی کا اسوقت حصہ ا یم کیو ایم پاکستان بھی بھی ہے جسکی آزمائش لی جاسکتی ہے۔ چائے کی پیالی ٹھنڈی ہونے سے پہلے ارباب اختیار کو انقلابی کام کرنے کی ضرورت ہے۔ نو مئی کے دل ہلا دینے والے واقعات کے بعد PTI Exposeہو چکی ہے۔ پوری قوم افواج پاکستان اور محب وطن قوتوں کے شانہ بشانہ ہے۔26وین ترمیم کے بعد 27وین ترمیم میں بلدیاتی اداروں کی خود مختاری اور مکمل اختیارات کی بھی بازگشت ہے لیکن کیا یہ ہوگا؟ یا تعصب کے الاؤ جلائے جائیں گے۔ اگر کراچی کے زخم پر مرہم نہ رکھا گیا تو ارباب اختیار ماضی کی طرح ناکامی کا منہ دیکھیں گے،۔۔عشرت العباد۔ فیضان حسین۔ شاہد خاقان عباسی۔۔۔علیم خان۔ آفاق احمد۔ سلیم حیدر۔ ڈاکٹر انور۔ خالد مقبول صدیقی۔ مصطفی کمال، فاروق ستار کون کس کروٹ جائے گا کچھ علم نہیں۔ ایم کیو ایم کے مایوس کن رویئے کی وجہ سے نوجوان بدک رہا ہے۔ دو ماہ میں کراچی نوجوان پارٹی بڑی جماعت بنتی جا رہی ہے۔ عشرت العباد کی آمد آمد ہے۔انکا دفتر نمائش پر کھل چکا ہے جہاں ایم کیو ایم کی رابطہ کمیٹی کے اراکین خٖفیہ ملاقاتیں کر رہے ہیں۔ 26سے30نومبر تک کسی بھی وقت انکا شاندار استقبال ہونے جا رہا ہے۔ PPPمیں شامل بیشتر بلکہ 99فیصد رہنما اور ورکرز واپس آرہے ہیں لیکن ایم کیو ایم نے انہیں منانے کی کوشش نہیں کی وہ بھی اب عشرت العباد کو ترجیح دے رہے ہیں۔ اگر پھر سیاست میں تجربات اور ادل بدل کی سیاست ہوئی تو تقسیم در تقسیم کا عمل واضع ہے۔ آّفاق احمد اور عشرت العباد کے علاوہ کراچی نوجوان پارٹی بھی عشرت العباد کو ویلکم کر رہی ہے۔ حیدر آباد ایم کیو ایم کے پہاتھ سے نکل رہا ہے۔ KMCمیں ایم کیو ایم کے افسر فرعون بنے ہوئے ہیں اپنے ہی مہاجروں کو نقصان دے رہے ہیں۔ پیپلز پارٹی کو جھک جھک کر
سلام کر رہے ہیں۔ چائنا کٹنگ کے کردار اور استفادہ کرنے والی شخصیات نظریات بھول کر زمینوں سے کے ایم سی کو محروم کرا رہی ہیں۔ جن میں لیگل ایڈوائزرز، ڈائریکٹرز لینڈ، کچی
آبادی شامل ہیں۔ ایم کیو ایم ہو یا عشرت العبادیا پھر نوجوان پارٹی انہیں پہلے انکا کھلا احتساب کرنا ہوگا۔ کراچی کے غدار کراچی کے وفادار نہیں ہہوسکتے۔
===================================

Sohaib Super Store
·
اجرک سوٹ 3 پیس
سندھی کڑاھی شرٹ دوپٹہ کڑھائی کے ساتھ
3,000/- روپے ……
( 03094386375 )
WhatsApp

8 رنگ والا بلوچی کڑاھی سوٹ
قیمت 4,000 روپے
( 03094386375 )
WhatsApp

Embroidery Ladies Suit
( 3,000/- )روپے
For Order Please Contact
( 03094386375 )
WhatsApp
=====================================


بیرون ملک بہترین تعلیم کے لیے کنسلٹنٹ سے رہنمائی حاصل کریں ،ابھی رابطہ کریں
بیرون ملک بہترین تعلیم کے لیے کنسلٹنٹ سے رہنمائی حاصل کریں ،ابھی رابطہ کریں۔
تفصیلات کے مطابق ایسے نوجوان طلبا طالبات جو بیرون ملک اعلی تعلیم حاصل کرنے کے خواہش مند ہیں اور بہترین انٹرنیشنل یونیورسٹیز اور کالجز میں داخلہ حاصل کرنا چاہتے ہیں اور اسٹڈی ویزا یا اسٹوڈنٹ ویزے پر باہر جانا چاہتے ہیں انہیں کب کہاں کیسے داخلہ مل سکتا ہے

ان کی مطلوبہ کوالیفیکیشن کیا ہے کون سی دستاویزات درکار ہوتی ہیں مختلف یونیورسٹیز اور کالجز کی فیس کتنی ہے ادائیگی کیسے ہوتی ہے کتنے عرصے
کا کورس ہوتا ہے اور کتنے عرصے کا ویزا ملتا ہے جو اسٹوڈنٹ پاکستان سے جا کر باہر بڑھ رہے ہیں ان کے تجربات کیا ہیں جو بیرون ملک جانا چاہتے ہیں ان کو کیا تیاری کرنی چاہیے بہترین اعلی تعلیمی مواقع کہاں کہاں پر میسر ہیں پاکستانی اسٹوڈنٹس ان مواقع سے کب کیسے کہاں فائدہ اٹھا سکتے ہیں یہ اور اس طرح کے اور بہت سے سوالات کا جواب حاصل کرنے اور مستقبل کے کیریئر کی رہنمائی کے
لیے ہمارے پاکستان اور بیرون ملک موجود کنسلٹنٹ سے رہنمائی حاصل کرنے کے لیے ابھی رابطہ کریں اپنے کوائف فون نمبر اور ای میل جیوے پاکستان کے ای میل
Jeeveypakistan@yahoo.com
اور واٹس ایپ
03009253034
پر ارسال کریں ۔ کنسلٹنٹ کی ٹیم خود آپ سے رابطہ کرے گی اپنی دستیابی اور وقت کی سہولت کے حوالے سے آپ خود بتائیں ۔
=========================























