
2000ء میں ان مریضوں کی تعداد صرف پانچ لاکھ تھی ، گلشن اقبال ٹاؤن میں واک کے شرکا سے خطاب
پاکستان میں شوگر کے مریضوں میں اضافہ دنیا بھر سے زیادہ ہے ،ڈاکٹر عاطف
پاکستان کی 26.7 فی صد آبادی شوگر سے متاثر ہے ، سگریٹ کی طرح انرجی ڈرنکس اور کولڈ ڈرنکس کے اشتہارات پر بھی پابندی لگائی جائے
ہر خوشی کے موقع پر مٹھائی کا کلچر ختم کرنے کی ضرورت ہے ، لائف اسٹائل تبدیل کیا جائے
گلشن اقبال سندھ بھر میں پہلا ٹاؤن ہے جس نے ملازمین کو مکمل مفت طبی سہولیات اور گروپ انشورنس کی سہولت فراہم کی ،ڈاکٹر فواد
کراچی (اسٹاف رپورٹر) پاکستان اسلامک میڈیکل ایسوسی ایشن کے مرکزی صدر ڈاکٹر عاطف حفیظ نے کہا ہے کہ پاکستان میں 33 ملین افراد شوگر کے مریض میں مبتلا ہیں ۔ سن دو ہزار یہ تعداد صرف پانچ لاکھ تھی ۔ پاکستان میں شوگر کے نئے مریضوں کی تعداد دنیا بھر میں سب سے زیادہ ہے اور تشویش ناک امر یہ ہے کہ نئے مریضوں کی عمر پچیس سے تیس سال کے درمیان ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گلشن اقبال ٹاؤن میں زیا بیطس سے آگاہی کے لئے واک کے موقع پر گلشن اقبال ٹاؤن کے منتخب نمائندوں اور ملازمین سے خطاب کرتے ہوئے کیا اس موقع پر گلشن اقبال ٹاؤن کے چیئرمین ڈاکٹر فواد احمد پاکستان اسلامک میڈیکل ایسوسی ایشن کے صدر ڈاکٹر عبداللہ متقی جنرل فزیشن اور یوسی 7 صفورا ٹاؤن کے چیئرمین ڈاکٹر سید ریحان احمد اور یوسی چیئرمین فیاض الہدیٰ نے بھی خطاب کیا ۔ جبکہ الخدمت فاؤنڈیشن کے تعاون سے گلشن ٹاؤن کے ملازمین کو مفت شوگر ٹیسٹ کی سہولت بھی فراہم کی گئی۔ پیما کے مرکزی صدر ڈاکٹر عاطف حفیظ نے اپنے خطاب میں کہا کہ زیا بیطس ام الامراض ہے جس نے پاکستان کی 26.7 آبادی کو گود لے لیا ہے۔ پیما اس سلسلے میں ملک بھر میں آگاہی فراہم کررہی ہے لیکن وسائل کی کمی کے باعث ہر جگہ جاکر اسکریننگ کرنا مشکل ہے ۔ یہ ریاست کا کام ہے حکومت کو چاہیے کہ ملک بھر میں طبی کیمپس لگا کر ہر شہری کو مفت اسکریننگ کی سہولت فراہم کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ ہر خوشی کے موقع پر مٹھائی کا کلچر ختم کرنے کی ضرورت ہے ۔ انرجی ڈرنکس اور کولڈ ڈرنکس کے احمقانہ اشتہارات پر پابندی لگائی جائے جس طرح سگریٹ کے اشتہارات پر پابندی لگائی گئی تھی کیونکہ انرجی ڈرنکس اور کولڈ ڈرنکس سگریٹ سے زیادہ خطرناک ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مارننگ واک اور صحت مند سرگرمیوں کے لیے سہولیات فراہم کی جائیں ۔ باغات اور پارکس کو پروموٹ کرنے کی ضرورت ہے ۔ یہاں تو صورتحال یہ ہے کہ مارننگ واک پر نکلتے ہیں تو کتے پیچھے پڑ جاتے ہیں ۔ رات کو نکلتے ہیں تو ڈاکو پیچھے پڑھاتے ہیں ۔ چیئرمین گلشن اقبال ٹاؤن ڈاکٹر فواد احمد نے کہا کہ گلشن اقبال ٹاؤن کی انتظامیہ نے وسائل کی کمی اور او زیڈ ٹی سب سے کم ہونے کے باوجود شہریوں اور ملازمین کو سب سے زیادہ سہولیات فراہم کی ہیں صحت مندانہ سرگرمیوں کے لیے اٹھارہ پارکس آباد کیے چار لاکھ اسکوائر فیٹ سڑکوں کی تعمیر کا آغاز کردیا ہے جامعہ کراچی میں بھی ایک خستہ حال سڑک تعمیر کررہے ہیں ۔ گلشن اقبال ٹاؤن سندھ بھر میں واحد ٹاؤن ہے جو ملازمین کو مکمل طبی سہولیات فراہم کررہا ہے ۔ گروپ انشورنس بھی کروادی ہے۔ چھ اسکولوں کو بحال کر دیا ہے جہاں طلبہ کی انرولمنٹ میں پینتالیس فی صد اضافہ ہوگیا ہے ۔پیما کراچی کے صدر ڈاکٹر عبداللہ متقی نے کہا کہ شوگر پر کنٹرول کے لیے لائف سٹائل کو تبدیل کر نا ہوگا ۔ جس میں صبح جلدی اٹھنا رات کو جلد سونا ۔ وقت پر کھانا اور فاسٹ فوڈ کو چھوڑنا شامل ہے ۔ ڈاکٹر ریحان احمد نے کہا کہ لائف اسٹائل اور پیدل زیادہ چلنے کی وجہ سے دیہات میں شوگر کے مریضوں کی تعداد شہروں کے مقابلے میں کم ہے ۔
متوازن خوراک اور ورزش میں باقاعدگی کے بغیر ذیابیطس پر قابو نہیں پایا جاسکتا ، پروفیسر محمد سعید قریشی
کراچی: ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے وائس چانسلر پروفیسر محمد سعید قریشی نے کہا ہے کہ پاکستان کی ایک تہائی آبادی شوگر کے مرض سے متاثر ہے اس سے زیادہ سنگین بات یہ ہے کہ متاثرین کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے جسے روکنے کی ضرورت ہے،طرز زندگی کو تبدیل کیے بغیر شوگر کی بیماری کم نہیں ہوسکتی بلکہ اور بڑھے گی ، متوازن خوراک اور ورزش میں باقاعدگی کے بغیر ذیابیطس پر قابو نہیں پایا جاسکتا، یہ باتیں انہوں نے اوجھا کیمپس میں نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ڈایا بیٹیز اینڈ انڈوکرائنالوجی(نائیڈ) کے زیر اہتمام عالمی یوم ذیابیطس پر منعقدہ آگہی سیمینار سے بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کہیں جس سے پرو وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر جہاں آرا حسن، پرنسپل ڈاؤ انٹرنیشنل میڈیکل کالج پروفیسر محمدافتخار، پروفیسر مسرت ریاض ڈائریکٹر نائیڈ، ڈاکٹر حسن خان، ڈاکٹر فرید، ماہرِ غذائیت مس تہمینہ نے بھی خطاب کیا، آگہی سیمینا ر میں فیکلٹی، اسٹاف اور طلبہ کی بڑی تعداد نے شرکت کی،سیمینار سے خطاب میں پرووائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر جہاں آرا حسن نے ذیابیطس کے حوالے سے عوام میں آگہی پیدا کرنے کے لیے ڈاکٹرز اور طبی عملے کی کوششوں کو سراہا اور اسے ڈایا بیٹیز کنٹرول اجتماعی کوششوں سے تعبیر کیا، ان کا کہنا تھا کہ ذیابیطس پر قابو پانے کے لیے اجتماعی کے ساتھ انفرادی کوششوں کی زیادہ ضرورت ہے ،آپ متوازن غذا کھائیں، چہل قدمی کریں تاکہ شوگر کو کو کنٹرو ل کیا جاسکے، انہوں نے ڈاکٹرز کو تجویز پیش کی کہ ذیابیطس کے حوالے سے آگہی کی کوششوں کو مختلف کمیونیٹیز تک پھیلایا جائےاور سیشنز کا انعقاد کیا جائے، پرنسپل ڈاؤ انٹرنیشنل میڈیکل کالج پروفیسر محمد افتخار نے خطاب میں ہر موقع پر میٹھا کھانےاور صحت مند طرز زندگی اپنانے سے متعلق گفتگو کی، انہوں نے کہا کہ ہم موٹے نہیں ہیں، ہماری ڈائٹ بھی نارمل ہے، ورزش بھی کرتے ہیں پھر بھی ہمیں ذیابیطس کا خطرہ لاحق رہتا ہے،لہذا ہمیں بہت زیادہ احتیاط کرنی ہے، انہوں نے مزید کہا کہ ہم ایک ایسی قوم ہیں جوکہ بچے کی پیدائش سے لے کر وفات تک ہر جگہ میٹھاا کھانے میں شامل ہوتا ہے، شہرہر جگہ مٹھائیوں کی دکانیں ہیں، یہی نہیں ہزاروں کی تعداد میں ڈبے اسلام آباد اور لاہور سے آتے ہیں ہمیں اس کلچر کو تبدیل کرنا ہے،محبت کا اظہار کرنا ہے تو چاکلیٹ دے دیں یہ بہت ضروری سمجھا جاتا ہے، انہوں نے کہا کہ صحت مند طرزِ زندگی اپنانے کیاس کوشش کے طور پر ڈاؤ یونیورسٹی میں مختلف میٹنگز میں اب کیک ، سموسے، فاسٹ فوڈ کی جگہ پھل پیش کیے جاتے ہیں، انہوں نےاس با ت پر زور دیا کہ کھانا ،مٹھائی، فاسٹ فوڈ ہی رشتوں میں محبت کے اظہار کاطریقہ نہیں ہے ، ڈائریکٹر نائیڈ پروفیسر ڈاکٹرمسرت ریاض نے آگہی سیمینار سے خطا ب میں کہا کہ ذیابیطس کا مرض پاکستان میں بہت تیزی سے پھیل چکا ہے اور اب اس پر قابو پانا انتہائی ضروری ہے، انہوں نے کہا کہ ذیابیطس کے عالمی دن کی مناسبت سے آگہی واک کا انعقاد بھی اسی لیے کیا گیا کہ عوام کا ایک بڑاحصہ چہل قدمی نہیں کرتا اور ذیابیطس پر قابو پانے میں اس کے اہم کردار سے لاعلم ہے، انہوں نے کہا کہ شوگر سے متاثرہ اکثر افراد اپنے مرض سے لاعلم ہوتے ہیں اور مختلف طبی پیچیدگیاں لاحق ہونے کے بعد انہیں معلوم ہوتا ہے کہ وہ ذیابیطس کا شکا ر ہیں لہذا اس حوالے سے آگہی اور اس پر قابو پانے کی اشد ضرورت ہے کیونکہ کنٹرولڈ شوگر آپ کی بہتر صحت سے منسلک ہے،بعدازاں سیمینار سے خطاب میں ڈاکٹر حسن خان نے کہا کہ اگر آپ چاول کھاتے ہیں تو ابال کر اس کا پانی نہیں ڈالتے، آلو زیادہ کھاتے ہیں ، یہ وہ چیزیں ہیں جس سے شوگر بڑھتی ہے، کھانے پینے میں احتیاط بہت ضروری ہے ساتھ میں آپ ہلکی پھلکی ورزش کریں ، انہوں نے کہا کہ اگر آپ کو عادت نہیں ہے تو کسی سرگرمی میں حصہ لیں، ڈاکٹر فرید نے کہا کہ شوگر پر قابو پانے سے متعلق ہم بار بار اس لیے کہہ رہے ہیں کہ ابتدا ہی میں پیچیدگیوں سے بچا جاسکے اور دل کا عارضہ یا دیگر بیماریاں نہ لاحق ہوں، ماہرغذائیت مس تہمینہ نے کہا کہ غلط تصور ہے کہ کھانے کے ساتھ پھل کھائے جائیں، پھل کا استعمال کھانے کے دو گھنٹے بعد ہونا چاہیے کیونکہ کاربوہائیڈریٹس کےساتھ مل کر وہ شوگر لیول بڑھا دیتے ہیں، انہوں نے کہا کہ گھر کے تمام افراد کو کچی سبزیوں یا ان کا سلاد بناکر ضرور کھانا چاہیے اور زندگی کو نظم وضبط کے مطابق گزاریں ، کھانے کے وقت کھانا نیند کے وقت بھرپور نیند اور ورزش کو اپنے معمول کا حصہ بنائیں، قبل ازیں ڈاؤ یونیورسٹی اوجھا کیمپس میں عالمی یوم ذیابیطس پر آگہی واک کا انعقادہواجس کا آغازڈاؤ اسپتال کے ٹراما سینٹر سے کیا گیا اور نائیڈ پر اختتام ہوا۔
===================================

Sohaib Super Store
·
اجرک سوٹ 3 پیس
سندھی کڑاھی شرٹ دوپٹہ کڑھائی کے ساتھ
3,000/- روپے ……
( 03094386375 )
WhatsApp

8 رنگ والا بلوچی کڑاھی سوٹ
قیمت 4,000 روپے
( 03094386375 )
WhatsApp

Embroidery Ladies Suit
( 3,000/- )روپے
For Order Please Contact
( 03094386375 )
WhatsApp
=====================================


بیرون ملک بہترین تعلیم کے لیے کنسلٹنٹ سے رہنمائی حاصل کریں ،ابھی رابطہ کریں
بیرون ملک بہترین تعلیم کے لیے کنسلٹنٹ سے رہنمائی حاصل کریں ،ابھی رابطہ کریں۔
تفصیلات کے مطابق ایسے نوجوان طلبا طالبات جو بیرون ملک اعلی تعلیم حاصل کرنے کے خواہش مند ہیں اور بہترین انٹرنیشنل یونیورسٹیز اور کالجز میں داخلہ حاصل کرنا چاہتے ہیں اور اسٹڈی ویزا یا اسٹوڈنٹ ویزے پر باہر جانا چاہتے ہیں انہیں کب کہاں کیسے داخلہ مل سکتا ہے

ان کی مطلوبہ کوالیفیکیشن کیا ہے کون سی دستاویزات درکار ہوتی ہیں مختلف یونیورسٹیز اور کالجز کی فیس کتنی ہے ادائیگی کیسے ہوتی ہے کتنے عرصے
کا کورس ہوتا ہے اور کتنے عرصے کا ویزا ملتا ہے جو اسٹوڈنٹ پاکستان سے جا کر باہر بڑھ رہے ہیں ان کے تجربات کیا ہیں جو بیرون ملک جانا چاہتے ہیں ان کو کیا تیاری کرنی چاہیے بہترین اعلی تعلیمی مواقع کہاں کہاں پر میسر ہیں پاکستانی اسٹوڈنٹس ان مواقع سے کب کیسے کہاں فائدہ اٹھا سکتے ہیں یہ اور اس طرح کے اور بہت سے سوالات کا جواب حاصل کرنے اور مستقبل کے کیریئر کی رہنمائی کے
لیے ہمارے پاکستان اور بیرون ملک موجود کنسلٹنٹ سے رہنمائی حاصل کرنے کے لیے ابھی رابطہ کریں اپنے کوائف فون نمبر اور ای میل جیوے پاکستان کے ای میل
Jeeveypakistan@yahoo.com
اور واٹس ایپ
03009253034
پر ارسال کریں ۔ کنسلٹنٹ کی ٹیم خود آپ سے رابطہ کرے گی اپنی دستیابی اور وقت کی سہولت کے حوالے سے آپ خود بتائیں ۔
=========================























