
تحریر: سہیل دانش
وہ کون ہے؟ جس نے سب کے تجزئیے پیشنگوئیاں، تبصرے اور اندازے چوپٹ کردئیے۔ یہ ہالی ووڈ کے کرداروں کی طرح کوئی سپرمین، اسپائیڈرمین یا بیٹ مین ہے، لیکن اُس کی زندگی کے ہر صفحے کو انتہائی احتیاط سے ترتیب دینے والے باب وڈ کا خیال ہے۔ “یہ جو بھی ہے بڑا حیران کن ہے”۔ اور یہ دُرست بھی ہے کہ اس کے متعلق کوئی بھی شاید یقین سے نہیں کہہ سکتا کہ وہ کب کیا کرگزرے گا وہ جان ایف کینڈی کی طرح پُرکشش شخصیت کا مالک تو نہیں۔ لیکن وہ اداکاری سے وہائٹ ہاؤس تک کا سفر کرنے والے رونالڈ ریگن کی طرح اپنے مداحوں کے پُرجوش نعروں کے جواب میں اسٹیج پر ایک مشاق ڈانسر کی طرح تھرک سکتا ہے۔ وہ کلنٹن کی طرح خوبصورت خواتین کے جھرمٹ میں خوش رہتا ہے وہ نکسن کی طرح کتابیں پڑھنے کا شوقین ہے۔ لیکن عوام سے مخاطب ہوتے ہوئے وہ اُن کی خواہشات آرزوؤں اور تمناؤں کو عوامی انداز میں ایسے بیان کرتا۔ جیسے وہ اُن کا ترجمان ہے اور کبھی کبھی جیسے وہ ابراہیم لنکن کی نقل کرنے کی کوشش کررہا ہو یہ چار سال تک دنیا کے سب سے بااثر امریکی صدارت کے عہدے پر فائز رہا۔ وہ امریکی صدر جس کے ایک دستخط سے کسی ملک کی تقدیر بدل سکتی ہے وہ اپنے اثرورسوخ سے دنیا میں ہونے والی کسی جنگ کو رُکواسکتا ہے جو دنیا میں 50 فیصد سے زیادہ ممالک کی حکومتیں تبدیل کرانے پر قدرت رکھتا ہے جس کے ایک بٹن دبانے سے ایٹمی جنگ شروع ہوسکتی ہے جس کے ایک اشارے پر دنیا کے بین الاقوامی مالیاتی ادارے کسی بھی ترقی پذیر یا پسماندہ ملک کا حقہ پانی بند کرنے پر مجبور ہوسکتے ہیں وہ 2016 سے 2020 تک امریکہ پر حکمرانی کرتا رہا۔ ایک ایسا شخص جس نے زندگی کا ہر رنگ اور رُخ دیکھا۔ محنت، جنون ، کامیابی، ناکامی۔ وہ تو ست رنگی شخصیت کا مالک ہے۔ زندگی کو انجوائے کرکے جیتا ہے. 80 سال کی عمر کو پہنچتے پہنچتے اُس کی شخصیت اب بھی Un-predictable ہے۔ وہ بڑھکیں بھی مارتا ہے اور اپنے مخالفین کو زبان دکھا چڑانے اور چھیڑنے سے باز نہیں آتا۔ وہ تعمیراتی اور جائیداد کے چھوٹے سے کاروبار سے ارب پتی بن گیا۔ وہ متعدد جگمگاتے اور پرکشش مقابلہ حسن کا آرگنائزر بھی رہا۔ وہ ان مقابلوں کا جج بھی رہا پھر وہ ریسلنگ کے میدان میں کود پڑا، اُس نے اِن مقابلوں کو فنانس کرنا شروع کردیا۔ اُس نے بعد میں ہالی وڈ میں اپنی راہ و رسم بڑھائی وہ اِس میں فلمسازی سے ڈائریکشن اور پھر سرمایہ کاری کرتا رہا اُس نے مختلف موضوعات پر لیکچرز بھی دئیے۔ کتابیں بھی لکھیں۔ اُس نے پھکڑپن کا ذائقہ بھی چکھا اور امارت کی شان و شوکت کا مزہ بھی لوٹا۔ سیاست میں آیا تو اُس نے امریکی سیاست میں ایک انوکھا رنگ و روپ اور انداز متعارف کرایا وہ اوباما کی طرح متاثر کن خطابت کا فن تو نہیں جانتا ہے لیکن وہ اپنے من کی بات دِل سے کہنے کا ہنر جانتا ہے۔ منہ پھٹ ہے۔ خبروں میں زندہ رہنے کے فن میں طاق ہے 2024 کے امریکی انتخابات میں اُس کی پنجہ آزمائی جوبائیڈن سے ہونی تھی لیکن زندگی کی 8 دہائیاں گزارنے کے بعد امریکی صدر جوبائیڈن کی نہ صرف یادداشت کی بیٹری ڈاؤن ہوگئی بلکہ اُن کے اعصاب اور جسمانی توانائی بھی شارٹ سرکٹ کا شکار ہوگئی۔ لڑکھڑاتے گرتے پڑتے امریکی صدر کو دیکھتے ہوئے اُن کے ساتھی ڈیموکریٹس نے یہ فیصلہ کیا کہ اُن کو رنگ سے سہارا دیکر نیچے اُتار لیا جائے۔ اُن کے باس صدارتی انتخابی معرکہ آرائی کے لئے نائب صدر کمیلا ہیرس کے علاوہ کوئی آپشن نہیں تھا اُسے اس ڈونلڈ ٹرمپ کے مدمقابل لایا گیا جو 2016 میں تمام اندازوں اور تجزیوں کے برخلاف کمیلا ہیرس سے کہیں زیادہ تجربہ کار ذہین اور جہاندیدہ ہیلری کلنٹن کو مات دے چکا تھا۔ 2024 میں ٹرمپ کی کامیابی اِس بات کا واضح سگنل ہے کہ دنیا کے سب سے طاقتور عہدے کے لئے بھی سوشل میڈیا کی جادوگری فیصلہ کن کردار ادا کرسکتی ہے۔ اور یہ جادو 2016 میں بھی سرچڑھ کر بولا تھا۔ لیکن 2016 سے 2020 تک اپنے بڑے بڑے دعوؤں کے برخلاف ٹرمپ دنیا میں امریکی کردار کی نہ تو کوئی روشن مثال قائم کرسکتے اور نہ وہ امریکہ معاشرے میں کوئی قابل ذکر معاشی سماجی اور معاشرتی تبدیلی کا محرک ثابت ہوئے۔ ہاں 2016 میں امریکہ کی مڈل کلاس کو اُن کا یہ نعرہ بہت پسند آیا کہ “امریکہ امریکیوں کا ہے” اسی طرح جیسے 1970 میں پاکستان کے عام انتخابات میں ذوالفقار علی بھٹو کے روٹی کپڑا اور مکان کے نعرے میں غریب طبقوں کی آنکھوں میں اُمید کی ایک نئی روشنی جگائی تھی۔ ٹرمپ بھٹو کی طرح امریکہ جیسے ترقی یافتہ معاشرے میں محروم طبقات اور مڈل کلاس کو درپیش مسائل کو اُن کی زبان میں اس طرح ادا کرتے رہے۔ جیسے وہ جو کچھ کہہ رہے ہیں کر بھی دکھائیں گے 2024 کے انتخابات میں سوشل میڈیا ایکٹوٹی نے جہاں اُن کے بیانئیے کے غبارے میں اس طرح ہوا بھری جس طرح پاکستان میں عمران کا سوشل میڈیا بریگیڈ اُن کی امیج میکنگ اور سیاسی مفادات کی نگہبانی کرتا رہا ہے۔ ٹرمپ بڑی ذہانت سے عمران کی طرح اپنے نت نئے بیانئیے کو رنگ برنگے لباس پہناتے رہے۔ وہی عمران خان جن کے حمایتی سمجھتے ہیں کہ اب ٹرمپ کا فون آتے ہی اڈیالہ کا پھاٹک کھل جائے گا۔ ٹرمپ اس کے ساتھ ساتھ خود کو مظلوم کے طور پر پیش کرنے میں کامیاب رہے۔ کیپٹل پل ہر حملے میں اُنہوں نے ایک طرف اپنے حمایتیوں کو اُکسایا۔ لیکن وہ موقع محل دیکھ کر کبھی جنگجو بن گئی اور کبھی مظلوم کی طرح معصوم۔ تاریخ یہ بھی لکھے گی کہ ٹرمپ کو 2024 میں دوسری بار وہائٹ ہاؤس پہنچانے میں اُن کی گذشتہ کارکردگی سے زیادہ جوبائیڈن کے چار سال کی خراب کارکردگی پلاننگ اور مینجمنٹ کا ردِ عمل تھا۔ غیرقانونی تارکین وطن، افراطِ زر کا دباؤ، یوکرائن اور غزہ کی جنگ، بڑھتی ہوئی بے روزگاری، کراس جینڈر اور اسقاطِ حمل کے عمل کے جائز اور ناجاز قرار دینے کی بحث کے معاملات پر ڈونلڈ ٹرمپ کے موقف کو امریکیوں نے غیر معمولی پذیرائی بخشی۔ اُس نے مذہبی رجحانات کے حامیوں کے دِل کی بات بھی کی ایک انتہائی آزاد خیال ٹرمپ نے یسوع مسیح کی تعلیمات کا بھی تذکرہ کرکے امریکہ کے مذہبی طبقات کو بھی متاثر کیا وہ اپنی تقریروں کے ذریعے سادہ الفاظ میں امریکیوں کو اُن کے مفادات کا یقین دلاتا رہا اُس کے بیانئے کو امریکیوں نے حیرت انگیز پذیرائی سے نوازا کہ اُس کے آگے امریکی اسٹیبلشمنٹ، یہودی لابی، مختلف لابنگ گروپس اور ساتھ ساتھ امریکی انتخابات پر اثر انداز ہونے والے دیگر سینکڑوں فیکٹرز کی تمام تر مزاحمت اور مخالفت کے باوجود کوئی بھی اُس کا راستہ نہ روک سکا۔ بلکہ یہ سب بڑی بے بسی سے امریکی عوام کے فیصلے کا منہ تکتے رہ گئے۔ ثابت ہوگیا آج دنیا بدل گئی ہے۔ پرانے انداز طور طریقے اور ورلڈ آرڈرز سب نے اپنی کیچری بدل لی ہے۔ نئے رول کو ہم سوشل میڈیا کی انفارمیشن ٹیکنالوجی کہتے ہیں جس نے اِس دنیا کے بہت سے تلخ حقائق اور سچائیوں کے پوشیدہ رازوں سے پردے سرکادئیے ہیں۔
===================================

Sohaib Super Store
·
اجرک سوٹ 3 پیس
سندھی کڑاھی شرٹ دوپٹہ کڑھائی کے ساتھ
3,000/- روپے ……
( 03094386375 )
WhatsApp

8 رنگ والا بلوچی کڑاھی سوٹ
قیمت 4,000 روپے
( 03094386375 )
WhatsApp

Embroidery Ladies Suit
( 3,000/- )روپے
For Order Please Contact
( 03094386375 )
WhatsApp
=====================================


بیرون ملک بہترین تعلیم کے لیے کنسلٹنٹ سے رہنمائی حاصل کریں ،ابھی رابطہ کریں
بیرون ملک بہترین تعلیم کے لیے کنسلٹنٹ سے رہنمائی حاصل کریں ،ابھی رابطہ کریں۔
تفصیلات کے مطابق ایسے نوجوان طلبا طالبات جو بیرون ملک اعلی تعلیم حاصل کرنے کے خواہش مند ہیں اور بہترین انٹرنیشنل یونیورسٹیز اور کالجز میں داخلہ حاصل کرنا چاہتے ہیں اور اسٹڈی ویزا یا اسٹوڈنٹ ویزے پر باہر جانا چاہتے ہیں انہیں کب کہاں کیسے داخلہ مل سکتا ہے

ان کی مطلوبہ کوالیفیکیشن کیا ہے کون سی دستاویزات درکار ہوتی ہیں مختلف یونیورسٹیز اور کالجز کی فیس کتنی ہے ادائیگی کیسے ہوتی ہے کتنے عرصے
کا کورس ہوتا ہے اور کتنے عرصے کا ویزا ملتا ہے جو اسٹوڈنٹ پاکستان سے جا کر باہر بڑھ رہے ہیں ان کے تجربات کیا ہیں جو بیرون ملک جانا چاہتے ہیں ان کو کیا تیاری کرنی چاہیے بہترین اعلی تعلیمی مواقع کہاں کہاں پر میسر ہیں پاکستانی اسٹوڈنٹس ان مواقع سے کب کیسے کہاں فائدہ اٹھا سکتے ہیں یہ اور اس طرح کے اور بہت سے سوالات کا جواب حاصل کرنے اور مستقبل کے کیریئر کی رہنمائی کے
لیے ہمارے پاکستان اور بیرون ملک موجود کنسلٹنٹ سے رہنمائی حاصل کرنے کے لیے ابھی رابطہ کریں اپنے کوائف فون نمبر اور ای میل جیوے پاکستان کے ای میل
Jeeveypakistan@yahoo.com
اور واٹس ایپ
03009253034
پر ارسال کریں ۔ کنسلٹنٹ کی ٹیم خود آپ سے رابطہ کرے گی اپنی دستیابی اور وقت کی سہولت کے حوالے سے آپ خود بتائیں ۔
=========================























