وزیرِاعظم کی باکو میں عالمی رہنماؤں کے کلائمیٹ ایکشن سربراہی اجلاس کے موقع پر جمہوریہ چیک کے وزیراعظم سے ملاقات

باکو: 12 نومبر 2024۔

وزیر اعظم محمد شہباز شریف کی باکو میں عالمی رہنماؤں کے کلائیمیٹ ایکشن سربراہی اجلاس کے موقع پر جمہوریہ چیک کے وزیر اعظم پیٹر فیالا (Petr Fiala) سے ملاقات ہوئی۔

ملاقات کے دوران وزیر اعظم شہباز شریف نے پاکستان اور جمہوریہ چیک کے درمیان دیرینہ تعلقات کا ذکر کیا جو دوطرفہ اور کثیرالجہتی شعبوں پر محیط ہیں۔

دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعاون بڑھانے کے مواقع بالخصوص اقتصادی ترقی اور مشترکہ علاقائی اور عالمی چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے تعاون پر گفتگو کی۔ دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور جمہوریہ چیک کی اقتصادی ترقی اور خوشحالی کے لیے تجارتی اور سرمایہ کاری کے تعلقات کو وسعت دینے کی اہمیت پر زور دیا۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے پاکستان کے اسٹریٹجک محل وقوع اور وسطی ایشیا کے گیٹ وے کے طور پر استعداد پر بھی روشنی ڈالی، چیک کمپنیوں کو پاکستان میں توانائی، ٹیکنالوجی اور مینوفیکچرنگ سمیت مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کے مواقع سے مستفید ہونے کی دعوت دی۔

ملاقات میں باہمی دلچسپی کے علاقائی اور عالمی امور پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا، دونوں رہنماؤں نے علاقائی سلامتی اور پائیدار ترقی جیسے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مستقل کوششوں کی ضرورت پر اتفاق کیا۔

وزیر اعظم شہباز شریف نے اس بات پر زور دیا کہ موسمیاتی تبدیلی حالیہ دور اہم ترین مسائل میں سے ایک ہے جس کے لیے اجتماعی عالمی اقدامات کی ضرورت ہے۔ انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ پاکستان موسمیاتی تبدیلیوں سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں سے ایک ہونے کے باوجود ماحولیاتی استحکام اور موسمیاتی اثرات سے بچاؤ کے اقدامات کے فروغ کے لیے پرعزم ہے۔ وزیر اعظم نے اس بات پر زور دیا کہ ، موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے مؤثر طریقے سے نمٹنے، گرین انرجی کو فروغ دینے اور پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول کیلئے جمہوریہ چیک سمیت بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ تعاون ضروری ہے۔
==========


انسانیت کی بقاء گلیشئرز کے تحفظ سے مشروط ہے،گلیشیئرز کے پگھلاؤ کی روک تھام کیلئے سنجیدہ، مربوط اور مؤثر اقدامات کی اشد ضرورت ہے، وزیراعظم محمد شہباز شریف کا گلیشیئرز کے تحفظ سے متعلق اعلیٰ سطح کی تقریب سے خطاب
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے گلیشیئرز کے تحفظ کیلئے سنجیدہ، مربوط اور مؤثر اقدامات کی اشد ضرورت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا ہے کہ انسانیت کی بقاء گلیشئرز کے تحفظ سے مشروط ہے۔ گلیشیئرز پانی کا بڑا ذریعہ ہیں، گلیشیئرز کے مزید پگھلاؤ کی روک تھام کیلئے مربوط کاوشیں اور علاقائی تعاون کی کلیدی اہمیت ہے، پائیدار بنیادوں پر گلیشیئرز کے تحفظ کو یقینی بنانے کیلئے ڈیٹا شیئرنگ اور معیاری مانیٹرنگ کیلئے ممالک کی استعداد کار کو مستحکم بنانا ہو گا، پاکستان اس ضمن میں عالمی برادری کے ساتھ مل کر کام کرنے کیلئے تیار ہے۔ منگل کو یہاں تاجکستان کی میزبانی میں گلیشیئرز کے تحفظ سے متعلق اقدامات کیلئے اعلیٰ سطح کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ تاجکستان کے صدر کی جانب سے اس اہم اجلاس کے انعقاد کا خیرمقدم کرتے ہیں جس میں شریک وفود دنیا بالخصوص اس خطہ میں تیزی سے پگھلتے ہوئے گلیشیئرز کے سدباب کیلئے اپنا مؤثر حصہ ڈال رہے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ گلیشیئرز کے تحفظ کے عالمی سال کے موقع پر ایک واضح پیغام جانا چاہئے کہ گلیشیئرز کی منتقلی کی بجائے اس کے پگھلاؤ کو کم کرنے، وائٹل ایکو سسٹم کے تحفظ اور مستقبل کیلئے پائیدار آبی وسائل کو محفوظ بنانا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان بڑے پیمانے پر گلیشیئرز کا گھر ہے، ان وسیع ذخائر کے نقصانات کی روک تھام ہمارے لئے ناگزیر ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ گلیشیئرز دنیا بھر کے کروڑوں انسانوں کیلئے لائف لائن ہیں، ان گلیشیئرز سے دنیا کو 70 فیصد تازہ پانی ملتا ہے، پاکستان میں سات ہزار سے زائد گلیشیئرز موجود ہیں جس سے دریائے سندھ کا 60 سے 80 فیصد پانی دستیاب ہوتا ہے اور پاکستان کی زراعت کا 90 فیصد پانی یہاں سے میسر آتا ہے اور 20 کروڑ عوام کی خدمت کر رہا ہے، 1960ء کے مقابلہ میں گلیشیئرز میں 23 فیصد کمی واقع ہوئی ہے، اس کے نتیجہ میں درجہ حرارت میں اضافہ ہو رہا ہے، تیزی سے پگھلتے ہوئے ان گلیشیئرز سے پاکستان کے شمالی علاقوں میں تین ہزار سے زائد جھیلیں وجود میں آ چکی ہیں، ان میں سے 33 سے سیلاب کا شدید خطرہ ہے جس سے بڑی تعداد میں زندگیوں کو خطرات لاحق ہیں، یہ ایک تشویشناک صورتحال ہے اور فوری کارروائی کی متقاضی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ”گلیشیئر 2025ء اقدام” اس بحران کی طرف عالمی توجہ مبذول کرانے کیلئے ایک منفرد کاوش ہے، گلیشیئرز کے مزید پگھلاؤ کی روک تھام کیلئے مربوط کاوشوں کی ضرورت ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ ان لائف سورسز کو محفوظ بنانے کیلئے علاقائی تعاون کلیدی ہے اور ان ذرائع کو برف کے پگھلاؤ سے روکنا اشد ضروری ہے، اس حوالہ سے ڈیٹا شیئرنگ اور گلیشیئرز کی معیاری مانیٹرنگ کیلئے ممالک کی استعداد کار کو مستحکم بنانا ہو گا۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کو گلیشیئرز مانیٹرنگ پروگرام، ارلی وارننگ سسٹم، پانی کے ذخیرہ کرنے کے متبادل حل سمیت دیگر اقدامات کیلئے درکار امداد میں اضافہ کی ضرورت ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان ان قدرتی وسائل کے تحفظ کیلئے عالمی برادری کے ساتھ مل کر کام کرنے کیلئے تیار ہے، گلیشیئرز، بنی نوع انسان اور کرہ ارض کے مستقبل کے تحفظ کیلئے تمام ممالک کو متحد ہو کر ٹھوس اقدامات اٹھانا ہوں گے۔


وزیراعظم کی ڈنمارک کی وزیراعظم سے COP 29 کے موقع پر ملاقات
وزیراعظم محمد شہبازشریف نے باکو میں COP-29 کے موقع پر ڈنمارک کی وزیراعظم میٹ فریڈرکسن (Mette Frederiksen) سے دوطرفہ ملاقات کی۔

دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور ڈنمارک کے مابین سیاسی، تجارتی، سرمایہ کاری، زراعت، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور موسمیاتی تبدیلی کے شعبوں میں دوطرفہ تعاون بالخصوص گرین ٹرانزیشن اور انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ کے شعبوں میں تعاون پر زور دیا۔

دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعاون کے فروغ کے ساتھ ساتھ موسمیاتی تبدیلی کی اہم ترجیحات پر عالمی اتفاق رائے پیدا کرنے کی ضرورت پر اتفاق کیا تاکہ کرہ ارض کو موسمیاتی تبدیلی کے مضر اثرات سے بچایا جا سکے۔

اس سال پاکستان اور ڈنمارک کے درمیان سفارتی تعلقات کے 75 سال مکمل ہونے کا ذکر کرتے ہوئے وزیراعظم نے باہمی شراکت داری کے ذریعے اقتصادی تعلقات کو وسعت دینے کی ضرورت پر زور دیا۔ ڈنمارک کی وزیراعظم نے دوطرفہ اقتصادی تعلقات کو مزید فروغ دینے اور مشترکہ دلچسپی کے علاقائی و عالمی مسائل سے نمٹنے کے لیے پاکستان کے ساتھ کام کرنے کی خواہش کا اظہار کیا۔

===================================

Sohaib Super Store
·
اجرک سوٹ 3 پیس
سندھی کڑاھی شرٹ دوپٹہ کڑھائی کے ساتھ
3,000/- روپے ……
( 03094386375 )
WhatsApp


8 رنگ والا بلوچی کڑاھی سوٹ
قیمت 4,000 روپے

( 03094386375 )
WhatsApp


Embroidery Ladies Suit
( 3,000/- )روپے
For Order Please Contact

( 03094386375 )
WhatsApp
=====================================

بیرون ملک بہترین تعلیم کے لیے کنسلٹنٹ سے رہنمائی حاصل کریں ،ابھی رابطہ کریں

بیرون ملک بہترین تعلیم کے لیے کنسلٹنٹ سے رہنمائی حاصل کریں ،ابھی رابطہ کریں۔

تفصیلات کے مطابق ایسے نوجوان طلبا طالبات جو بیرون ملک اعلی تعلیم حاصل کرنے کے خواہش مند ہیں اور بہترین انٹرنیشنل یونیورسٹیز اور کالجز میں داخلہ حاصل کرنا چاہتے ہیں اور اسٹڈی ویزا یا اسٹوڈنٹ ویزے پر باہر جانا چاہتے ہیں انہیں کب کہاں کیسے داخلہ مل سکتا ہے

ان کی مطلوبہ کوالیفیکیشن کیا ہے کون سی دستاویزات درکار ہوتی ہیں مختلف یونیورسٹیز اور کالجز کی فیس کتنی ہے ادائیگی کیسے ہوتی ہے کتنے عرصے

کا کورس ہوتا ہے اور کتنے عرصے کا ویزا ملتا ہے جو اسٹوڈنٹ پاکستان سے جا کر باہر بڑھ رہے ہیں ان کے تجربات کیا ہیں جو بیرون ملک جانا چاہتے ہیں ان کو کیا تیاری کرنی چاہیے بہترین اعلی تعلیمی مواقع کہاں کہاں پر میسر ہیں پاکستانی اسٹوڈنٹس ان مواقع سے کب کیسے کہاں فائدہ اٹھا سکتے ہیں یہ اور اس طرح کے اور بہت سے سوالات کا جواب حاصل کرنے اور مستقبل کے کیریئر کی رہنمائی کے

لیے ہمارے پاکستان اور بیرون ملک موجود کنسلٹنٹ سے رہنمائی حاصل کرنے کے لیے ابھی رابطہ کریں اپنے کوائف فون نمبر اور ای میل جیوے پاکستان کے ای میل

Jeeveypakistan@yahoo.com

اور واٹس ایپ

03009253034

پر ارسال کریں ۔ کنسلٹنٹ کی ٹیم خود آپ سے رابطہ کرے گی اپنی دستیابی اور وقت کی سہولت کے حوالے سے آپ خود بتائیں ۔

=========================