وزیراعظم سے مسلم ورلڈ لیگ کے سیکرٹری جنرل کی ملاقات

وزیر اعظم شہباز شریف سے آج ریاض میں مسلم ورلڈ لیگ کے سیکرٹری جنرل شیخ ڈاکٹر محمد بن عبدالکریم العیسیٰ نے ملاقات کی۔ وزیراعظم نے مسلم ورلڈ لیگ کی جانب سے دنیا بھر میں اسلام کے حقیقی تشخص کو فروغ کے لئے کارہائے نمایاں کو سراہا۔ انہوں نے تنظیم کے کام کو آگے بڑھانے اور اتحاد امت کو فروغ کے لئے سیکرٹری جنرل کی قیادت کو سراہا۔ وزیراعظم نے کہا کہ مسلم ورلڈ لیگ کا مسلمانوں کے مفادات و مقاصد کی وکالت اور بھائی چارے، رواداری اور باہمی احترام کے پیغام کو عام کرنے میں اہم کردار ہے۔ انہوں نے مزید کہا مسلم ورلڈ لیگ کا غزہ میں جاری تنازعہ اور مسلم دنیا کو درپیش دیگر مختلف چیلنجوں کے دوران کردار خاص طور پر اہم ہے۔

وزیراعظم نے سیکرٹری جنرل کے حالیہ دورہ ء پاکستان کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ مختلف منصوبوں اور اقدامات کی جلد تکمیل کے منتظر ہیں جن کی دونوں جانب سے منصوبہ بندی کی گئی ہے۔ انہوں نے پاکستان میں سیرت میوزیم کے قیام کا خاص طور پر ذکر کیا اور کہا کہ یہ عظیم الشان منصوبہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی اور تعلیمات کے مختلف پہلوؤں کو اجاگر کرنے میں معاون ثابت ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ان منصوبوں کے ذریعے مسلم ورلڈ لیگ نوجوان نسل کی توجہ مبذول کر رہی ہے اور جدید ترین ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز کے ذریعے اسلام کے لازوال پیغام کو پھیلا رہی ہے۔ وزیر اعظم نے امید ظاہر کی کہ سیکرٹری جنرل کے آئندہ دورہ پاکستان میں جاری منصوبوں کی رفتار اور تیزی سے عمل درآمد کو آگے بڑھایا جائے گا۔

مسلم ورلڈ لیگ کے سیکرٹری جنرل نے پاکستان اور مسلم امہ کے درمیان تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے وزیراعظم کے عزم اور کوششوں کی تعریف کی۔ انہوں نے سعودی عرب کے حالیہ کامیاب دوروں پر وزیراعظم کو مبارکباد دی۔

قومی
ریاض۔۔۔وزیراعظم
وزیراعظم محمد شہباز شریف عرب-اسلامک ممالک کے غیر معمولی سربراہی اجلاس میں شرکت کے بعد ریاض سے باکو کے لئے روانہ ہوگئے

ریاض ۔11نومبر :وزیراعظم محمد شہباز شریف عرب-اسلامک ممالک کے غیر معمولی سربراہی اجلاس میں شرکت کے بعد ریاض سے باکو کے لئے روانہ ہوگئے۔اپنے تین روزہ دورہ آذربائیجان کے دوران وزیرِ اعظم باکو میں کانفرنس آف پارٹیز کے 29ویں (کاپ 29) کلائمیٹ ایکشن سربراہی اجلاس میں شرکت کریں گے۔وزیر اعظم آفس کے میڈیا ونگ سے جاری بیان کے مطابق ریاض کے انٹر نیشنل رائل ٹرمینل پر پاکستان میں تعینات سعودی سفیر نواف سعید المالکی،سعودی عرب میں تعینات پاکستانی سفیر احمد فاروق اور دیگر سفارتی عملے نے وزیراعظم کو رخصت کیا۔دنیا میں ماحولیاتی آلودگی کو کم کرنے اور موسمیاتی تبدیلی کے مضر اثرات سے دوچار ممالک کی مشکلات کو اجاگر کرنے کیلئے منعقدہ اس اجلاس میں وزیرِاعظم پاکستان کی نمائندگی کریں گے اور پاکستان کو لاحق موسمیاتی تبدیلی کے خطرات پر روشنی ڈالیں گے۔وزیرِاعظم کاپ-29 کے عالمی رہنماؤں کے کلائیمیٹ ایکشن سربراہی اجلاس میں شرکت کریں گے۔وزیرِ اعظم کاپ-29 کے سربراہی اجلاس سے خطاب بھی کریں گے۔وزیرِ اعظم پاکستان کی جانب سے منعقد کلائیمیٹ فنانس گول میز کانفرنس کی میزبانی کریں گے جس میں متعدد عالمی رہنما شرکت کریں گے۔وزیرِ اعظم اس کے ساتھ ساتھ تاجک صدرامام علی رحمن کی جانب سے گلیشیئرز کے تحفظ کیلئے منعقدہ اعلی سطح تقریب “گلیشئیرز 2025: گلیشیئرز کیلئے اقدامات” میں بھی شرکت کریں گے.وزیرِاعظم شہباز شریف اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس کی جانب سے بڑھتے ہوئے عالمی درجہ حرات پر منعقدہ اعلی سطح تقریب میں شرکت کرنے کے ساتھ ساتھ آذربائیجان کے صدر کی جانب سے عالمی رہنماؤں کے اعزاز میں دئیے گئے عشائیے میں بھی شرکت کریں گے۔وزیرِ اعظم COP-29 میں شرکت کیلئے آئے عالمی رہنماؤں سے دو طرفہ ملاقاتیں بھی کریں گے جہاں نہ صرف باہمی تعلقات کے فروغ پر گفتگو ہوگی بلکہ وزیرِاعظم پاکستان کو موسمیاتی تبدیلی سے لاحق خطرات پر بھی روشنی ڈالیں گے۔نائب وزیرِاعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار،وزیرِ اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ اور معاون خصوصی طارق فاطمی وزیرِ اعظم کے ہمراہ ہیں۔
==================================


غزہ میں جنگ بندی، عالمی عدالت انصاف کے فیصلے پر عملدرآمد اور اسرائیل کو ہتھیاروں کی فراہمی پر پابندی عائد کی جائے، جنگی جرائم پر اسرائیل کا محاسبہ اور اقوام متحدہ کی رکنیت پر جامع نظرثانی کی جائے، وزیراعظم شہباز شریف کا عرب-اسلامک سربراہ اجلاس سے خطاب
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے غزہ میں غیر مشروط جنگ بندی، عالمی عدالت انصاف کے فیصلے پر عملدرآمد اور اسرائیل کو ہتھیاروں کی فراہمی پر فوری پابندی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ جنگی جرائم پر اسرائیل کا محاسبہ کیا جائے، اس کی اقوام متحدہ کی رکنیت جامع نظرثانی کی متقاضی ہے، نہتے فلسطینیوں کو بلاتعطل امداد کی فراہمی یقینی بنانا ہو گی، پاکستان فلسطینی عوام کے حقوق کیلئے آواز اٹھاتا رہے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کو یہاں عرب-اسلامک غیر معمولی سربراہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا جس میں غزہ اور فلسطین سمیت مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر غور کیا گیا۔ وزیراعظم نے اپنے خطاب کا آغاز قرآن پاک کی آیت مبارکہ سے کیا۔ انہوں نے خادم حرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز السعود اور سعودی ولی عہد و وزیراعظم محمد بن سلمان کو عرب-اسلامک غیر معمولی سربراہ اجلاس کے انعقاد پر خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ گذشتہ ایک سال سے غزہ اور مقبوضہ فلسطین میں بھوک، افلاس اور قحط نے ڈیرے ڈال رکھے ہیں، غزہ پر اسرائیل جارحیت کی تمام حدیں پار کر چکا ہے، ہزاروں افراد شہید جبکہ لاکھوں بے گھر ہو چکے ہیں، ہسپتالوں کو زخمیوں سمیت اڑایا جا رہا ہے، فلسطینیوں کے خلاف حالیہ بربریت کو میڈیا اور عالمی عدالت انصاف نسل کشی قرار دے چکے ہیں، اس صورتحال پر عالمی برادری کب تک آنکھیں بند رکھے گی۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہر گزرتے دن اسرائیل کے ہاتھوں عالمی قوانین اور اقدار کی پامالیاں جاری ہیں، انسانی بنیادوں پر تسلسل کے ساتھ جنگ بندی اور انسانی ریلیف کی فراہمی اور تحفظ کے مطالبات کئے جا رہے ہیں تاہم غزہ میں رہائشیوں سمیت گھروں کو اڑایا جا رہا ہے، اس صورتحال کے باوجود اسرائیل کو جدید ترین ہتھیاروں کی فراہمی جاری ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ اس کی غیر مشروط حمایت اور تحفظ جاری ہے، عالمی انسانی قوانین بھی مظلوموں کے خلاف ایسے اقدامات کی اجازت نہیں دیتے۔ وزیراعظم نے کہا کہ غزہ خون سے رنگین ہے اور عالمی برادری خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ وزیراعظم نے فلسطین کے حق خود ارادیت کے پاکستان کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ایک آزاد اور خود مختار فلسطینی ریاست کی حمایت جاری رکھے گا جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو اور جس کی سرحدیں 1967ء سے قبل والی ہوں، یہی اس مقدس سرزمین میں پائیدار امن اور انصاف کی ضمانت ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان ایران پر حالیہ اسرائیلی حملوں کی مذمت کرتا ہے جو اس کی سالمیت اور علاقائی خود مختاری کی خلاف ورزی ہے، پاکستان لبنان میں اسرائیلی فوجی جارحیت کی بھی مذمت اور وہاں کے معصوم لوگوں کے ساتھ بھرپور اظہار یکجہتی کرتا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ غزہ میں فوری جنگ بندی وقت کی ضرورت ہے، اسرائیل امداد کی بندش کو بطور ہتھیار استعمال کر رہا ہے، نہتے فلسطینیوں کو بلاتعطل خوراک، ادویات کی فراہمی یقینی بنانا ہو گی۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان فلسطینی عوام کے حقوق کیلئے آواز اٹھاتا رہے گا، آزاد اور خود مختار فلسطینی ریاست کا قیام ضروری ہے، اسرائیل کے توسیع پسندانہ عزائم سے امن کو خطرات لاحق ہیں، اسرائیل کو ہتھیاروں کی فراہمی پر فوری پابندی عائد کی جائے، جنگی جرائم پر اسرائیل کو کٹہرے میں لایا جائے، غزہ سے متعلق عالمی عدالت انصاف بھی فیصلہ دے چکی ہے، عالمی عدالت انصاف کے فیصلے پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے، اسرائیل کی اقوام متحدہ کی رکنیت پر جامع نظرثانی کی جائے۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہمیں مذمت سے آگے بڑھ کر کانفرنس میں اٹھنے والی آوازوں کو عملی شکل دینا ہو گی، دعاگو ہیں کہ فلسطینیوں کی آزادی کا سورج جلد طلوع ہو۔

===================================

Sohaib Super Store
·
اجرک سوٹ 3 پیس
سندھی کڑاھی شرٹ دوپٹہ کڑھائی کے ساتھ
3,000/- روپے ……
( 03094386375 )
WhatsApp


8 رنگ والا بلوچی کڑاھی سوٹ
قیمت 4,000 روپے

( 03094386375 )
WhatsApp


Embroidery Ladies Suit
( 3,000/- )روپے
For Order Please Contact

( 03094386375 )
WhatsApp
=====================================

بیرون ملک بہترین تعلیم کے لیے کنسلٹنٹ سے رہنمائی حاصل کریں ،ابھی رابطہ کریں

بیرون ملک بہترین تعلیم کے لیے کنسلٹنٹ سے رہنمائی حاصل کریں ،ابھی رابطہ کریں۔

تفصیلات کے مطابق ایسے نوجوان طلبا طالبات جو بیرون ملک اعلی تعلیم حاصل کرنے کے خواہش مند ہیں اور بہترین انٹرنیشنل یونیورسٹیز اور کالجز میں داخلہ حاصل کرنا چاہتے ہیں اور اسٹڈی ویزا یا اسٹوڈنٹ ویزے پر باہر جانا چاہتے ہیں انہیں کب کہاں کیسے داخلہ مل سکتا ہے

ان کی مطلوبہ کوالیفیکیشن کیا ہے کون سی دستاویزات درکار ہوتی ہیں مختلف یونیورسٹیز اور کالجز کی فیس کتنی ہے ادائیگی کیسے ہوتی ہے کتنے عرصے

کا کورس ہوتا ہے اور کتنے عرصے کا ویزا ملتا ہے جو اسٹوڈنٹ پاکستان سے جا کر باہر بڑھ رہے ہیں ان کے تجربات کیا ہیں جو بیرون ملک جانا چاہتے ہیں ان کو کیا تیاری کرنی چاہیے بہترین اعلی تعلیمی مواقع کہاں کہاں پر میسر ہیں پاکستانی اسٹوڈنٹس ان مواقع سے کب کیسے کہاں فائدہ اٹھا سکتے ہیں یہ اور اس طرح کے اور بہت سے سوالات کا جواب حاصل کرنے اور مستقبل کے کیریئر کی رہنمائی کے

لیے ہمارے پاکستان اور بیرون ملک موجود کنسلٹنٹ سے رہنمائی حاصل کرنے کے لیے ابھی رابطہ کریں اپنے کوائف فون نمبر اور ای میل جیوے پاکستان کے ای میل

Jeeveypakistan@yahoo.com

اور واٹس ایپ

03009253034

پر ارسال کریں ۔ کنسلٹنٹ کی ٹیم خود آپ سے رابطہ کرے گی اپنی دستیابی اور وقت کی سہولت کے حوالے سے آپ خود بتائیں ۔

=========================