
سچ تو یہ ہے،
بشیر سدوزئی
قارئین! آج کا کالم گزشتہ سے پیوستہ ہے، جو 5 نومبر کو شائع ہوا۔ جس نے بھی پڑا اس کو یاد ہو گا کہ اس میں بتایا گیا تھا کہ انتخابات سے مردہ مسئلہ جموں و کشمیر میں جان پڑھ گئی۔ مودی سے بڑی غلطی ہوئی کہ اس نے اپنے سامنے اپوزیشن کھڑی کر دی۔ جس کی آواز اب بین الاقوامی دنیا میں گھونجنے لگی ہے، اور کشمیر پھر بین الاقوامی میڈیا میں نمایاں ہونے لگا ہے۔ کالم میں پیشن گوئی بھی کی گئی تھی کہ اپوزیشن 370 کی بحالی کے لیے ایوان میں پرائیویٹ قرار داد لا کر عمر عبداللہ کے لیے مشکلات میں اضافہ کرے گی، درست ثابت ہوئی۔ پی ڈی پی کے واحد الرحمن پرہ اچانک ہی قرار داد ایوان میں لے آئے اور پڑھنا شروع کر دیا۔ بھاجپا کے 28 ممبران کھڑے ہو گئے، دوسری جانب سے بھی لفاظی شروع ہوئی۔ لفاظی کی جنگ یہاں تک پہنچی کہ بین الاقوامی میڈیا کی شہ سرخی بن گئی۔ وائس آف امریکہ، بی بی سی سمیت تمام ہی میڈیا ہاوسز نے اس خبر کو فوکس کیا اور کہا کہ کشمیریوں نے 5 اگست 2019ء کے بھارتی حکومتی فیصلہ کو مسترد کردیا۔ اجلاس کے دوسرے روز انتقال کر جانے والے سابق ممبران اسمبلی کو خراج تحسین پیش کرنے کا دن تھا جہاں ممبران نے انتقال ہوئے 51 سابق اراکین کو خراج تحسین پیش کیا۔ وزیر اعلی عمر عبداللہ نے اٹل بہاری واجپائی کی جموں و کشمیر کے حوالے سے پالیسیوں اور پاکستان کے ساتھ بات چیت و تعلقات بڑھانے پر اس کے ویژن کی تعریف کی جب کہ جنوبی کشمیر سے نیشنل کانفرنس کے رکن اسمبلی، بشیر احمد ویری نے سید علی گیلانی کو خراجِ تحسین پیش کیا اور کہا کہ ” وہ تین بار اس ایوان کے معزز رکن رہے ہیں۔‘‘ جس پر جموں میں انتہا پسند ہندو تنظیموں شیوسینا اور ڈوگرہ فرنٹ نے سخت مذمت اور احتجاج کیا۔ یہ خبریں بھی کافی حد تک نمایاں ہوئیں خاص طور پر علی گیلانی کو جموں کشمیر اسمبلی میں خراج تحسین پورے بھارت میں تجسس کے ساتھ دیکھا گیا۔ مقبوضہ جموں وکشمیر میں عوامی حکومت قائم ہوئے ابھی جمعہ، جمعہ آٹھ دن ہوئے(ماوراتا) اور کشمیر کا نام پھر زندہ اور مودی کے دعوے غلط ثابت ہو رہے ہیں۔ عوام اپنے مسائل کے لیے سڑکوں پر نکلنے لگے ہیں اور گھٹن کا ماحول کم ہوا ہے۔ بے اختیار وزیر اعلٰی عمر عبداللہ پر اپوزیشن ضروری اور غیر ضروری ایشوز اٹھا کر اولے برسا رہی ہے۔ انجینیئر رشید نے نئی حکومت کے قائم ہوئے ایک ہفتے بعد ہی سری نگر کی سڑکوں پر “دربار موو” کی بحالی کے مطالبے کے ساتھ احتجاجی مارچ کیا۔ انجینئر رشید نے کہا: ہم عمر عبداللہ کو ان کا وعدہ یاد دلانے آئے ہیں کہ حکومت سازی کے بعد انہوں نے دربار موو کی روایت کو بحال کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ جب کہ محبوبہ مفتی سمیت سجاد غنی لون اور دیگر چھوٹی اپوزیشن پارٹیاں 370 کی بحالی کی یاددہانی کرا رہی ہیں۔ جیسے عمر عبداللہ جادو کی چھڑی گھومانے میں غفلت برت رہا ہو۔ ادھر جموں کےمشہور رگھوناتھ بازار کے دکاندار بھی “دربار موو” کی 149 سال پرانی روایت کو بحال کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں جس کو لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے 2020ء میں چارج سنبھالنے کے بعد ختم کرنے کا اعلان کیا تھا۔ 2021ء سے اب تک جموں و کشمیر کا دربار جموں منتقل نہیں کیا گیا۔ 1846ء کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ جموں و کشمیر کا دربار طویل عرصے سے سری نگر میں ہی قائم ہے۔ روایت کے مطابق یکم نومبر تا 30 اپریل دربار جموں میں لگتا تھا۔ یکم مئی تا 30 اکتوبر سری نگر میں۔ لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کا دعوی ہے کہ 7 اگست 2020ء کو چارج سنبھالنے کے فورای بعد میں نے “دربار موو” جیسے رواج کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا۔ آج تقریباً سبھی سرکاری خدمات ’’آن لائن موڑ‘‘ میں ہیں تو بھاری اخراجات ادا کر کے دربار کو ادھر ادھر منتقل کرنے کا کیا جواز ہے۔ سری نگر میں یوٹی کی پانچویں سالگرہ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ جب مئی 2021ء میں سرکاری دفاتر واپس سرینگر منتقل ہوئے تو “دربار موو”کی دہائیوں پر محیط روایت کو ہمیشہ کے لئے ختم کیا گیا۔ سرینگر سے جموں اور جموں سے سری نگر فائلیں لے جانے کے لیے 270 ٹرک استعمال میں لانے کا رواج ہوا کرتا تھا۔ جو بوسیدہ اور خزانے پر بوجھ کے سوائے کچھ نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ ’’دربار موو” کے مہنگے عمل سے ہر سال 200 کروڑ روپے خرچ ہوتے تھے۔ سری نگر میں ایک ہزار اور جموں صوبے میں 8 سو گھر افسران اور اہلکاروں کی رہائش کے لیے کرائے پر لیے جاتے تھے، جس کا سارا بوجھ خزانہ پر پڑتا تھا۔ ایل جی نے کہا کہ اس پیسے کو بچا کر آج تقریباً 4 سو سرکاری خدمات پبلک سروسز گارنٹی ایکٹ (PSGA) کے تحت آن لائن موڈ میں دستیاب ہیں۔ گورنر کا کہنا تھا کہ حکومت نے عوامی خدمات کی فراہمی پر توجہ دی جس کے نتیجے میں گزشتہ سال 1.88 کروڑ سیاحوں نے جموں و کشمیر کی سیر کی اور اس سال اس تعداد میں مزید اضافہ ہونے کی امید ہے۔ 2020ء سے قبل ایک سال میں 9000 ترقیاتی منصوبے مکمل ہوتے تھے اور اس سال 93000 ترقیاتی منصوبے مکمل ہونے والے ہیں ۔ رگھوناتھ بازار جموں کے تاجروں کا کہنا ہے کہ ‘دربار موو” کی بندش سے ان کے کاروبار بری طرح متاثر ہوئے ہیں جس سے تجارتی محصولات میں زبردست کمی واقع ہوئی ہے۔ بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ اس روایت نے جموں ریجن کی معاشی ترقی میں ایک اہم کردار ادا کیا۔ ہمارا کاروبار ان کشمیریوں پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے جو “دربار موو” کے دوران جموں آتے تھے۔ تاجروں کا کہنا ہے کہ جب سے حکام نے اس روایت کو روکا ہے، تب سے نہ صرف ہماری آمدنی میں نمایاں کمی آئی ہے بلکہ جموں اور کشمیر کے درمیان ثقافتی اور سماجی تعلق بھی کم ہو گیا ہے۔ “دربار موو” کو بحال کرنا معاشی بحالی کے لیے بہت ضروری ہے۔ نیشنل کانفرنس کے صدر فاروق عبداللہ فورا ہی جموں پہنچے اور تاجروں سے ملاقات کے موقع پر “دربار موو” کو روکنے پر افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ “دربار موو” جموں و کشمیر کی پرانی اور ڈوگرہ حکمرانوں کی روایت ہے جسے جاری رہنا چاہیے۔ اس سے دونوں خطوط کے درمیان بھائی چارے اور ثقافتی رشتے مضبوط ہوتے ہیں۔ انہوں نے ڈوگرہ حکومت کے خاتمے کے بعد قائم ہونے والی حکومت کا حوالہ دیا اور کہا کہ شیخ عبداللہ نے ڈوگرہ کی اس روایت کی تعریف کی تھی اور اس کو جاری رکھنے کا فیصلہ کیا تھا۔ لہذا دربار کو جموں میں لازمی موو کیا جائے گا تاکہ جموں کے عوام اور خاص طور پر تاجروں کی حق تلفی نہ ہو۔ واضح رہے کہ عمر عبداللہ اور ان کی کابینہ نے “دربار موو” روایت کو بحال کرتے ہوئے 24 اکتوبر کو جنرل ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ (جی اے ڈی) نے ایک حکم نامہ کے ذریعے تمام سیکریٹریز اور محکموں کے سربراہان کو 11 نومبر سے جموں میں دفاتر فعال کرنے کی ہدایت دی تھی۔ اطلاعات ہیں کہ لیفٹیننٹ گورنر نے اس حکم نامہ پر عمل درآمد روک لیا ہے۔۔ مودی سرکار روز اول سے ہی جموں و کشمیر کے ٹکڑے اور عوام میں بدگمانیاں اور دوریاں پیدا کرنے کی پالیسی پر گامزن رہی ہے۔ خاص طور پر وادی کے مسلمانوں کو جموں و کشمیر کی دیگر ایکائیوں سے الگ اور تناہ کر کے مسلم دہشت گرد کا لیبل لگانے کی کوشش میں بھارتی حکومت خاصی حد تک کامیاب رہی۔ اس میں وادی کشمیر کی قیادت کی نادانی سمجھی جائے یا جذباتی فیصلے کہ آج اگر جموں و کشمیر کے کئی ٹکڑے اور عوام ایک دوسرے سے بہت دور ہیں تو اس میں خاصی حد تک وادی کشمیر کی قیادت کے فیصلے اور بیانیہ کا بھی عمل دخل ہے۔ جموں وکشمیر میں انتخابات کے دوران لداخ کے عوام نے لہیہ سے دہلی تک پیدل مارچ کیا کہ کشمیر سے الگ کر کے ہمارے ساتھ دھوکہ کیا گیا، لیکن آل پارٹیز حریت کانفرنس سمیت وادی کی مین اسٹریم جماعتوں میں سے کسی نے ان کے مسائل پر بیان تک نہیں دیا، جیسے وہ جموں و کشمیر کا حصہ ہی نہ ہوں۔ جب کہ آزاد کشمیر کے حکمرانوں اور سیاست دانوں کو تو معلوم ہی نہیں کہ لداخ بھی ان کا حصہ ہے۔ اب نیشنل کانفرنس سمیت وادی کشمیر کی مین اسٹریم مسلم جماعتیں “دربار موو” میں جموں کے عوام کے ساتھ ہم آواز ہیں تو یہ صبح کا بولا شام کو گھر آنے کے مصداق اس کے اچھے نتائج ہوں گے اور جموں کے غیر مسلموں میں یہ احساس پیدا ہو گا کہ وادی کے لوگ ان کے مسائل کے حل میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ میں وادی کشمیر کے عوام کو ایک مرتبہ پھر ان کے قائدانہ کردار کو یاد دلانا چاہتا ہوں کہ ڈیڑھ اینٹ کی مسجد میں آپ کو کچھ حاصل نہیں ہو گا۔ مانا کہ آپ نے بہت قربانیاں دی ہیں لیکن جموں لداخ، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے عوام کو ساتھ لے کر چلنا آپ کے مسائل کے حل کے لیے ضروری ہے ورنہ آپ کے لیے چلہ کلاں سے نکلنا مشکل ہو گا۔ یہ بھی درست ہے کہ آپ کی تہذیب و تمدن زبان و ثقافت ان اکائیوں کے ساتھ نہیں ملتی لیکن جس گرداب میں آپ پھنس چکے وہاں سے نکلنے کے لیے ان اکائیوں کو اپنے ساتھ ملانا آپ کے لیے بہتر ہے۔ اس لحاظ سے نیشنل کانفرنس کی پالیسی روز اول سے ہی بہتر ہے تب ہی جموں سے ایک ہندو کو نائب وزیر اعلی اور اسمبلی میں علی گیلانی کی خدمت کو خراج تحسین پیش کیا جا رہا ہے۔ متنوع مذہبی معاشرے میں اس سے زیادہ ہم آہنگی قوم پرستی اور بھائی چارگی کی کوشش کیا ہو سکتی ہے
===================================

Sohaib Super Store
·
اجرک سوٹ 3 پیس
سندھی کڑاھی شرٹ دوپٹہ کڑھائی کے ساتھ
3,000/- روپے ……
( 03094386375 )
WhatsApp

8 رنگ والا بلوچی کڑاھی سوٹ
قیمت 4,000 روپے
( 03094386375 )
WhatsApp

Embroidery Ladies Suit
( 3,000/- )روپے
For Order Please Contact
( 03094386375 )
WhatsApp
=====================================


بیرون ملک بہترین تعلیم کے لیے کنسلٹنٹ سے رہنمائی حاصل کریں ،ابھی رابطہ کریں
بیرون ملک بہترین تعلیم کے لیے کنسلٹنٹ سے رہنمائی حاصل کریں ،ابھی رابطہ کریں۔
تفصیلات کے مطابق ایسے نوجوان طلبا طالبات جو بیرون ملک اعلی تعلیم حاصل کرنے کے خواہش مند ہیں اور بہترین انٹرنیشنل یونیورسٹیز اور کالجز میں داخلہ حاصل کرنا چاہتے ہیں اور اسٹڈی ویزا یا اسٹوڈنٹ ویزے پر باہر جانا چاہتے ہیں انہیں کب کہاں کیسے داخلہ مل سکتا ہے

ان کی مطلوبہ کوالیفیکیشن کیا ہے کون سی دستاویزات درکار ہوتی ہیں مختلف یونیورسٹیز اور کالجز کی فیس کتنی ہے ادائیگی کیسے ہوتی ہے کتنے عرصے
کا کورس ہوتا ہے اور کتنے عرصے کا ویزا ملتا ہے جو اسٹوڈنٹ پاکستان سے جا کر باہر بڑھ رہے ہیں ان کے تجربات کیا ہیں جو بیرون ملک جانا چاہتے ہیں ان کو کیا تیاری کرنی چاہیے بہترین اعلی تعلیمی مواقع کہاں کہاں پر میسر ہیں پاکستانی اسٹوڈنٹس ان مواقع سے کب کیسے کہاں فائدہ اٹھا سکتے ہیں یہ اور اس طرح کے اور بہت سے سوالات کا جواب حاصل کرنے اور مستقبل کے کیریئر کی رہنمائی کے
لیے ہمارے پاکستان اور بیرون ملک موجود کنسلٹنٹ سے رہنمائی حاصل کرنے کے لیے ابھی رابطہ کریں اپنے کوائف فون نمبر اور ای میل جیوے پاکستان کے ای میل
Jeeveypakistan@yahoo.com
اور واٹس ایپ
03009253034
پر ارسال کریں ۔ کنسلٹنٹ کی ٹیم خود آپ سے رابطہ کرے گی اپنی دستیابی اور وقت کی سہولت کے حوالے سے آپ خود بتائیں ۔
=========================























