پاکستان کی فوڈ انڈسٹری کیساتھ تقریباً سوا کروڑ لوگ منسلک ہیں، کاروباری طبقہ اور عام شہری گیس کی قیمتوں کی وجہ سے گزشتہ ایک سال سے شدید متاثر ہیں،

05 نومبر 2024ء

صدر ریسٹورنٹس کیٹرز سویٹس اینڈ بیکرز ایسوسی ایشن محمد فاروق چوہدری نے کہا کہ پاکستان کی فوڈ انڈسٹری کیساتھ تقریباً سوا کروڑ لوگ منسلک ہیں، کاروباری طبقہ اور عام شہری گیس کی قیمتوں کی وجہ سے گزشتہ ایک سال سے شدید متاثر ہیں، گزشتہ سال بھی کمرشل صارفین کی گیس کی قیمتوں میں 110 فیصد اضافہ کیا گیا تھا، اس کے باوجود محکمہ سوئی گیس کی جانب سے بتایا جارہا ہے کہ ان کی تنخواہوں، یو ایف جی اور آر ایل این جی پر منتقل کرنے کےلیے گیس کی قیمتوں میں مزید اضافہ درکار ہے، ہم اس مجوزہ اضافے کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہیں۔

صدر ریسٹورنٹس کیٹرز سویٹس اینڈ بیکرز ایسوسی ایشن محمد فاروق چوہدری سماعت سے واپسی پر صحافیوں کو بتایا کہ انھوں نے چیئرمین ایسوسی ایشن ممتاز احمد کے ہمراہ اوگرا کی جانب سے سوئی گیس ٹیرف کے حوالے سے سوئی گیس ہیڈ آفس لاہور میں ہونے وی سماعت میں شرکت کی، سماعت چیئرمین اوگرا مسرور خان نے ممبر آئل زین العابدین اور ممبر فنانس نعیم غوری کے ہمراہ کی، فوڈ سیکٹر کی نمائندگی کرتے ہوئے صدر ریسٹورنٹس کیٹرز سویٹس اینڈ بیکرز ایسوسی ایشن محمد فاروق چوہدری اور چیئرمین ممتاز احمد نے اپنے دلائل میں کہا کہ پاکستان کی فوڈ انڈسٹری کیساتھ تقریباً سوا کروڑ لوگ منسلک ہیں اسی طرح عام لوگ بھی شامل ہیں جوکہ محکمہ سوئی گیس کے صارفین ہیں، یہ تمام تر لوگ گیس کی قیمتوں کی وجہ سے گزشتہ ایک سال سے شدید متاثر ہیں، گزشتہ سال بھی کمرشل صارفین کی گیس کی قیمتوں میں 110 فیصد اضافہ کیا گیا تھا، اس کے باوجود محکمہ سوئی گیس کی جانب سے بتایا جارہا ہے کہ ان کی تنخواہوں، یو ایف جی اور آر ایل این جی پر منتقل کرنے کےلیے گیس کی قیمتوں میں مزید اضافہ درکار ہے، ہم اس مجوزہ اضافے کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہیں، سوال تو یہ بھی ہے کہ گزشتہ سال 110 فیصد اضافے کے باوجود چیزیں کیوں نہیں بہتر ہوسکیں، محکمہ سوئی گیس کے چند سو ملازمین کی خاطر عام پاکستانی جوکہ اس وقت دو وقت کی روٹی کو ترس رہا ہے ان پر اس قدر کیوں بوجھ ڈالا جارہا ہے،صدر ایسوسی ایشن محمد فاروق چوہدری کا کہنا تھا کہ گزشتہ سماعتوں پر بھی ہم نے کچھ چیزیں اور حقائق آپ کے سامنے رکھے تھے مگر بدقسمتی سے ان پر محکمے کی جانب سے کوئی کام نہیں کیا جاسکا، جس کی وجہ سے فوڈ سیکٹر سے منسک کمرشل صارفین کے ہزاروں کی تعداد میں کنکشن کٹ چکے ہیں، اسی طرح یو ایف جی کے حوالے سے بھی محکمے کی جانب سے کوئی چیکنگ نہیں کی جاتی جس کی وجہ سے نہ صرف گیس کی چوری ہورہی ہے بلکہ لیکج کے باعث بڑی مقدار میں گیس ضائع بھی ہورہی ہے جس کا سارا بوجھ عام کنزیومرز پہ ڈالا جارہا ہے، اگر محکمے کی جانب سے اسی طرح غفلت برتی جاتی رہی تو خدانخواستہ پی آئی اے کی طرح محکمہ سوئی گیس کی نجکاری کی طرح بھی معاملات جا سکتے ہیں جوکہ افسوسناک عمل ہوگا، ان کا مزید کہنا تھا کہ اسی طرح محکمے کی جانب سے فالٹ والیم کے نام پر اور ایڈیشنل سیکورٹی کی مد میں لاکھوں روپے کے بلز بھیجے جارہے ہیں جوکہ سراسر ظلم و ناانصافی کے مترادف ہے، محکمہ سوئی گیس کو اپنے صارفین پر بوجھ ڈالنے کی بجائے ان تمام نقائص کو دور کرنا چاہیے اور ٹیمیں تشکیل دے کر اس پر پراپر کام کرنا چاہیے تاکہ نہ صرف محکمے میں بہتری آسکے بلکہ کمرشل صارفین کو بھی خاطر خواہ ریلیف مل سکے، صدر ایسوسی ایشن محمد فاروق چوہدری کا مزید کہنا تھا کہ جس طرح محکمہ سوئی گیس کی جانب سے تندور کےلیے سپیشل پروٹیکٹڈ ٹیرف متعارف کروایا گیا ہے اور آج تک ان کے ٹیرف میں اضافہ نہیں کیا گیا اسی طرح باقی کمرشل صارفین کو بھی یکساں ریلیف فراہم کیا جائے اور سردیوں میں گیس کی فراہمی کو بلاتعطل یقینی بنایا جائے تاکہ لوگ اپنے کاروبار جاری رکھ سکیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

===================================

Sohaib Super Store
·
اجرک سوٹ 3 پیس
سندھی کڑاھی شرٹ دوپٹہ کڑھائی کے ساتھ
3,000/- روپے ……
( 03094386375 )
WhatsApp


8 رنگ والا بلوچی کڑاھی سوٹ
قیمت 4,000 روپے

( 03094386375 )
WhatsApp


Embroidery Ladies Suit
( 3,000/- )روپے
For Order Please Contact

( 03094386375 )
WhatsApp
=====================================

بیرون ملک بہترین تعلیم کے لیے کنسلٹنٹ سے رہنمائی حاصل کریں ،ابھی رابطہ کریں

بیرون ملک بہترین تعلیم کے لیے کنسلٹنٹ سے رہنمائی حاصل کریں ،ابھی رابطہ کریں۔

تفصیلات کے مطابق ایسے نوجوان طلبا طالبات جو بیرون ملک اعلی تعلیم حاصل کرنے کے خواہش مند ہیں اور بہترین انٹرنیشنل یونیورسٹیز اور کالجز میں داخلہ حاصل کرنا چاہتے ہیں اور اسٹڈی ویزا یا اسٹوڈنٹ ویزے پر باہر جانا چاہتے ہیں انہیں کب کہاں کیسے داخلہ مل سکتا ہے

ان کی مطلوبہ کوالیفیکیشن کیا ہے کون سی دستاویزات درکار ہوتی ہیں مختلف یونیورسٹیز اور کالجز کی فیس کتنی ہے ادائیگی کیسے ہوتی ہے کتنے عرصے

کا کورس ہوتا ہے اور کتنے عرصے کا ویزا ملتا ہے جو اسٹوڈنٹ پاکستان سے جا کر باہر بڑھ رہے ہیں ان کے تجربات کیا ہیں جو بیرون ملک جانا چاہتے ہیں ان کو کیا تیاری کرنی چاہیے بہترین اعلی تعلیمی مواقع کہاں کہاں پر میسر ہیں پاکستانی اسٹوڈنٹس ان مواقع سے کب کیسے کہاں فائدہ اٹھا سکتے ہیں یہ اور اس طرح کے اور بہت سے سوالات کا جواب حاصل کرنے اور مستقبل کے کیریئر کی رہنمائی کے

لیے ہمارے پاکستان اور بیرون ملک موجود کنسلٹنٹ سے رہنمائی حاصل کرنے کے لیے ابھی رابطہ کریں اپنے کوائف فون نمبر اور ای میل جیوے پاکستان کے ای میل

Jeeveypakistan@yahoo.com

اور واٹس ایپ

03009253034

پر ارسال کریں ۔ کنسلٹنٹ کی ٹیم خود آپ سے رابطہ کرے گی اپنی دستیابی اور وقت کی سہولت کے حوالے سے آپ خود بتائیں ۔

=========================