
تحریر: سہیل دانش
قدرت کا نظام دیکھئے جو کھلاڑی مقابلے کی دوڑ میں شریک نہ تھا وہ وکٹری اسٹینڈ پر پہنچ گیا سپریم کورٹ کے 12 جولائی کے فیصلے کے بعد طاقت کی موج میں کاغذ کے جہاز اُڑانے والے حکمران یکدم چوکنا ہوگئے تھے۔ جسٹس منصور کی سرکردگی میں مخصوص نشستوں کا فیصلہ حکمرانوں نے اپنے لئے ریڈ کارڈ تصور کیا تھا۔ کھیل میں ریفری کی جانب سے کھلاڑی کو ریڈ کارڈ دکھانے کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ وہ میدان سے باہر جائے۔ ریڈ کارڈ کے خطرے کو ٹالنےکے لئے ضروری تھا کہ 26ویں ترمیم لائی جائے۔ 26ویں ترمیم لڈو کے کھیل “سانپ سیڑھی” کے انداز میں ترتیب دی گئی تھی۔ لیکن اُنہیں اندازہ نہیں تھا کہ اگلا مقابلہ شطرنج کی بساط پر ہوگا اور گھوڑے کی ڈھائی گھر کی چال اُن کے سارے منصوبے کو تتر بتر کردے گی۔ کئی دھائیاں پہلے میں نے پیر مردان شاہ پیرپگارا سے دریافت کیا تھا۔ آپ تو کنگ میکر ہیں۔ خود صدر یا وزیراعظم کیوں نہیں بن جاتے۔ اُنہوں نے جواب میں کہا تھا “بابا جتنی پرکشش سیٹ ہوتی ہے اُس کے قریب اُتنے ہی زیادہ بم پھٹتے ہیں۔ میزائل گرتے ہیں” جو سمجھدار ہیں وہ اس آتش بازی سے دور رہتے ہیں۔ اس سوال پر کہ براہِ راست اختیار حاصل کئے بغیر اپنا حکم مرضی اور منشا کیسے منوائی جائے۔ پیر صاحب نے مسکراتے ہوئے کہا تھا۔ یہ نسخہ کیمیا الطاف بھائی سے پوچھو جو نائین زیرو پر بیٹھا ہو یا لندن میں سب کے کان بھی پکڑواتا ہے اور اپنے کام بھی نکلواتا ہے۔ پھر معنی خیز انداز میں کہنے لگے لیکن یہ یاد رکھنا کسی بھی اہم پالیسی شفٹ کا نوٹیفکیشن ہمارے دوستوں کی مرضی کے بغیر نہیں نکلتا”۔ تاہم ہوتا تو یہی ہے کہ جب دو پہلوانوں میں مقابلہ ہو تو جب تک کوئی ناک آؤٹ نہ ہو۔ یا پھر ایک پہلوان اکھاڑہ چھوڑ کر بھاگ کھڑا نہ ہو۔ اُس وقت تک مقابلہ جاری رہتا ہے۔ اس وقت ہمارے سیاسی اکھاڑے میں جو کچھ ہورہا ہے اُس میں دونوں پہلوانوں کی فلاسفی ملک کو ڈبوتی جارہی ہے۔ ایک پہلوان نے پہلے لوگوں کی محرومی اور خوابوں کو بڑی خوبصورتی سے اپنی سیاست کے لئے استعمال کیا پھر جب اُسے موقع ملا تو وہ اپنے وعدے کے مطابق اپنی صلاحیت نہ منواسکا، اقتدار سے الگ ہونے کے بعد وہ اس بات کا بھی ادراک نہ کرسکا کہ وہ اُس باہبرڈ سسٹم کا جونیئر پارٹنر تھا لیکن اپنی برخاستگی کے بعد وہ اس سسٹم کے سینئر پارٹنر سے اُلجھ پڑا وہی پارٹنر جو اُسے اقتدار میں لائے تھے۔ آج وہ جیل کی اونچی دیواروں کے پیچھے سوچ کے اس دائرے میں گھوم رہا ہے کہ اُسے سیاست کرنی ہے بغاوت کرنی ہے یا انقلاب برپا کرنا ہے لیکن وہ اچھی طرح جانتا ہے کہ سیاسی داؤ پیچ کی لڑائی کو شیر شاہ سوری کی جنگ میں تبدیل کرنے کی کوشش اُسے مہنگی پڑی ہے اور دلچسپ بات یہ ہے کہ اُس کے ایمیچر کھلاڑی اپنی اپنی پسند کے شاٹس کھیل کر اِس سیاسی کھیل کو انجوائے کررہے ہیں یہ انسانی نفسیات کا ایک مستند سبق بھی ہے اور یونانی ڈرموں میں ٹریجک کرداروں کی ناکامی کی وجہ بھی کہ جب کوئی لیڈر غیرضروری اعتماد اور تکبر کا شکار ہوکرخود کو Over Estimate اور مدِمقابل کی صلاحیت کو Under Estimateکرتا ہے تو وہ پانی پت میں ابراہیم لودھی کی طرح مات کھاجاتا ہے۔ خواہ وہ کتنا پاپولر کیوں نہ ہو، پھر وہ سسٹم کا حصہ ہوکر سسٹم کو چیلنج کرنے کی غلطی کررہے ہیں۔ ایک صوبے میں اُن کی حکومت ہے پارلیمنٹ میں اُن کی پارٹی اپوزیشن کی لیڈر ہے۔ سب سے بڑے صوبے میں اُن کی جماعت سب سے بڑی اپوزیشن ہے۔ وہ ایک بڑی سیاست جماعت کے لیڈر ہیں اُن کے سامنے ایک نسبتاً کمزورحکومت ہے۔ وہ گورنمنٹ ان ویٹنگ ہیں پھر وہ خود سے سوال پوچھیں کہ وہ اتنے بڑے بحران میں کیوں پھنسے ہوئے ہیں اُن کی سوشل میڈیا بریگیڈ اور غیر ممالک میں اسی شعبے کے فدائین کی گالم گلوچ نے اُن کی جماعت کے لئے نئی مشکلات کھڑی کردی ہیں اگر آپ کے ساتھ زیادتی ہورہی ہے تو آپ درپیش مشکلات کو دلیل اور شائستگی کے ساتھ پیش کرسکتے ہیں آپ اپنے ساتھ روارکھے جانے والے سلوک پر خود کومظلوم بناکر پیش کریں احتجاج کریں نہ کہ بدمعاشی۔ جو روایات اور اسٹائل آپ کی جماعت نے اپنائی ہیں اِس سے معاشرہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہورہاہے۔ گالم گلوچ اور غیر اخلاقی طرزِ عمل نے معاشرے میں منفی رجحانات پیدا کئے ہیں اِس کی تو کوئی حد نہیں ہے اِس طرزِ عمل کو بریک لگنے چاہئیں ایسے لوگوں کو شٹ اپ کال دیں ورنہ کل یہ ٹرینڈز آپ کے اُلٹے گلے پڑجائیں گے ظلم کوئی بھی کرے اور کسی پر ھی ہو اِس کی کوئی بھی حمایت نہیں کرتا۔ تاریخ کے ہر دور کے چند سوال ہوتے ہیں اور قوموں کی ترقی تنزلی اور پسماندگی کا فیصلہ یہی سوال کرتے ہیں قومیں اگر ان سوالوں کے جواب تلاش کرلیں تو اِن کا سفر مختصر بھی ہوجاتا ہے اور بامراد بھی۔ پہلا سوال یہی ہے کہ ہمارے حکمران اور بااختیار لوگ ملک کو مسائل سے کیوں نہیں نکال پارہے آخر عام پاکستانی کب تک کڑی دھوپ میں بیٹھ کر اپنے زخم چاٹتا رہے گا اشرافیہ کب تک اپنی من مانیاں کرتی رہے گی اور منتخب نمائندے تمام تر کروفر کے ساتھ اسمبلی کی گھومتی ہوئی آرام دہ کرسیوں پر جھولتے رہیں گے۔ کوئی ہے جو اس کا جواب دے اور یاد رکھیں اقتدار اور اختیار اللہ تعالیٰ کی نعمت نہیں آپکا امتحان اور مہلت ہے اور وہ سب کچھ دیکھ رہا ہے۔
===================================

Sohaib Super Store
·
اجرک سوٹ 3 پیس
سندھی کڑاھی شرٹ دوپٹہ کڑھائی کے ساتھ
3,000/- روپے ……
( 03094386375 )
WhatsApp

8 رنگ والا بلوچی کڑاھی سوٹ
قیمت 4,000 روپے
( 03094386375 )
WhatsApp

Embroidery Ladies Suit
( 3,000/- )روپے
For Order Please Contact
( 03094386375 )
WhatsApp
=====================================


بیرون ملک بہترین تعلیم کے لیے کنسلٹنٹ سے رہنمائی حاصل کریں ،ابھی رابطہ کریں
بیرون ملک بہترین تعلیم کے لیے کنسلٹنٹ سے رہنمائی حاصل کریں ،ابھی رابطہ کریں۔
تفصیلات کے مطابق ایسے نوجوان طلبا طالبات جو بیرون ملک اعلی تعلیم حاصل کرنے کے خواہش مند ہیں اور بہترین انٹرنیشنل یونیورسٹیز اور کالجز میں داخلہ حاصل کرنا چاہتے ہیں اور اسٹڈی ویزا یا اسٹوڈنٹ ویزے پر باہر جانا چاہتے ہیں انہیں کب کہاں کیسے داخلہ مل سکتا ہے

ان کی مطلوبہ کوالیفیکیشن کیا ہے کون سی دستاویزات درکار ہوتی ہیں مختلف یونیورسٹیز اور کالجز کی فیس کتنی ہے ادائیگی کیسے ہوتی ہے کتنے عرصے
کا کورس ہوتا ہے اور کتنے عرصے کا ویزا ملتا ہے جو اسٹوڈنٹ پاکستان سے جا کر باہر بڑھ رہے ہیں ان کے تجربات کیا ہیں جو بیرون ملک جانا چاہتے ہیں ان کو کیا تیاری کرنی چاہیے بہترین اعلی تعلیمی مواقع کہاں کہاں پر میسر ہیں پاکستانی اسٹوڈنٹس ان مواقع سے کب کیسے کہاں فائدہ اٹھا سکتے ہیں یہ اور اس طرح کے اور بہت سے سوالات کا جواب حاصل کرنے اور مستقبل کے کیریئر کی رہنمائی کے
لیے ہمارے پاکستان اور بیرون ملک موجود کنسلٹنٹ سے رہنمائی حاصل کرنے کے لیے ابھی رابطہ کریں اپنے کوائف فون نمبر اور ای میل جیوے پاکستان کے ای میل
Jeeveypakistan@yahoo.com
اور واٹس ایپ
03009253034
پر ارسال کریں ۔ کنسلٹنٹ کی ٹیم خود آپ سے رابطہ کرے گی اپنی دستیابی اور وقت کی سہولت کے حوالے سے آپ خود بتائیں ۔
=========================























