main education link

سندھ بھر میں 25 سرکاری جامعات اور آٹھ سرکاری تعلیمی بورڈز عمدگی سے خدمات انجام دے رہے ہیں
سندھ بھر میں جامعات اور ان کے معیاری کیمپس کا ایک جال بچھا دیا گیا ہے اور بہترین والی تعلیم کے مثالی مواقع کے دہلیز پر فراہم کیے جا رہے ہیں جس کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ وہ وقت چلا گیا جب طلبہ اور طالبات کو اپنے علاقوں سے…….مزید پڑھیں

یہ بات پورے اعتماد کے ساتھ کہی جاسکتی ہے کہ کوالٹی ایجوکیشن کی فراہمی کے حوالے سے شہید بے نظیر بھٹو یونیورسٹی شہید بے نظیر آباد کا بڑا نام ہے اور بہترین تعلیم کے ساتھ ساتھ شاندار تعلیمی ماحول اس یونیورسٹی کی پہچان اور انفرادیت ہے یہاں کی فیکلٹی اپنی مثال آپ ۔طلبہ کے لیے بہترین تعلیمی ماحول جدید سہولتوں کی فراہمی۔ محفوظ اور پرسکون یونیورسٹی ہے ۔
سال 2012 میں قائم ہونے والی یونیورسٹی اپنے جمنازیم 
                                         ……..مزید پڑھیں

دورحاضر میں روایتی علوم سے زیادہ اہمیت ٹیکنیکل ایجوکیشن کو دی جا رہی ہے اور یہ بات عالمی سطح پر تسلیم شدہ ہے دنیا میں ترقی کرنے کے لئے جدید تکنیکی امور کا جاننا بے حد 

 

ضروری ہے اور ان سے گہری واقفیت اور عبور رکھنے والے ہیں کامیابی کے سنگ میل طے کر رہے ہیں ۔لہذا تکنیکی صلاحیتوں کو اجاگر کرنا اور فنی تعلیمی قابلیت حاصل کرنا وقت کی ضرورت بن چکی ہے اس معاملے میں بے نظیر بھٹو شہید یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی اینڈ اسکل ڈویولپمنٹ کا وژن اور مشن مثالی حیثیت رکھتا ہے۔

اپنی نوعیت کی اس منفرد اور کامیاب یونیورسٹی میں سٹوڈنٹس کی درست سمت میں رہنمائی اور میری پڑھائی کا مکمل اطمینان بخش انتظام موجود ہے بہترین اور قابل اساتذہ کے زیرنگرانی طلباء کو اپنی صلاحیتوں اور جدید تکنیکی علوم سیکھنے میں زبردست مدد ملتی ہے اور وہ ایک روشن کہہ رہی ہے اور ملک و قوم کا نام روشن کرنے کے نئے سفر پر گامزن ہو سکتے ہیں

 اور اپنے لوگوں اور دھرتی کی ترقی اور خوشحالی میں بھی نمایاں کردار ادا کر کے قابل فخر زندگی اور مثالی کیریئر گزارنے کے قابل بن سکتے ہیں ۔
یونیورسٹی میں بہترین پرسکون انداز میں سرسبز ماحول دوست پر فضا مقام اور ماحول میں اعلی تعلیم کے حصول کے پرکشش اور متاثر کن مواقع دستیاب ہیں ڈگری اور ڈپلومہ کورسز پڑھائے جارہے ہیں اسٹوڈنٹس کو عملی تجربات سے 

آگاہی حاصل کرنے کے لئے فیکٹریز اور سائٹس کے فیلڈ وزٹ  کرائے جاتے ہیں تاکہ وہاں پر کام دیکھ کر سیکھنے کا موقع مل سکے اور ذہن میں ابھرنے والے سوالوں کا موقع پر ہی جواب حاصل کیا جا سکے ۔یونیورسٹی نے ماحول دوست اقدامات میں بیل کرتے ہوئے پلاسٹک بیگز کے استعمال پر مکمل پابندی لگا رکھی ہے جسے ہر سطح پر سراہا جاتا ہے اور دوسروں کے لئے ایک قابل تقلید مثال ہے ۔

سندھ مدرسہ الاسلام یونیورسٹی
بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کی مادر علمی
1885 میں حسن علی آفندی نے اس کی بنیاد رکھی 2012 میں
 حکومت سندھ نے اسے یونیورسٹی کا درجہ دیا
ڈاکٹر محمد علی شیخ اس کے موجودہ وائس چانسلر اور حقیقی معنوں میں
 اسے یونیورسٹی کا درجہ دلانے کے مرکزی کردار اور قومی ہیرو ہیں

1885 سے نمایاں درسگاہ کی حیثیت رکھنے والی سندھ مدرسہ الاسلام کو یونیورسٹی کی حیثیت 2012 میں حاصل ہوئی ۔حکومت سندھ نے باقاعدہ  یونیورسٹی کے لیے 2012میں چارٹر دیا ۔اسے جنوبی ایشیا میں سب سے قدیم درسگاہوں میں نمایاں حیثیت حاصل ہے 1885 میں اس کی بنیاد حسن علی آفندی نے رکھی اسے بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کی مادر علمی ہونے کا منفرد اعزاز حاصل ہے قائد اعظم محمد علی جناح نے  یہاں سے میٹرک کیا ۔انگریز راج میں اس مدرسے کے قیام کی حمایت سرسید احمد خان اور سید امیر علی نے بھی کی ۔

 

اس دور میں سندھ اور بلوچستان کے کئی مشہور لوگوں کا یہ اسکول بنا ۔برٹش پبلک اسکول کے بعد سندھ مدرسہ الاسلام 1943 تک ہائی اسکول رہا پھر اسے کالج کا درجہ دیا گیا اور 2012 میں حکومت سندھ نے اسے یونیورسٹی کا چارٹر دے دیا آج یہ ایک سرکاری یونیورسٹی ہے جس کے لیے حکومت باقاعدہ طور پر فراہم کرتی ہے کراچی کے مشہور کاروباری علاقے آئی آئی چندریگر روڈ کے قریب حبیب بینک پلازہ کے عقب میں آٹھ ایکڑ اراضی پر واقع ہے یہ ایک تاریخی عمارت ہے اسے مشہور آرکیٹیکٹ جیمز اسٹریچن نے ڈیزائن کیا تھا سندھ مدرسہ الاسلام یونیورسٹی چار سال کے انڈر گریجویٹ اور دو سال کے ماسٹر ڈگری پروگرام آفر کرتی ہے انتظامیہ موجودہ کیمپس میں 15 منزلہ اکیڈمی ٹاور بنانے کا ارادہ بھی رکھتی ہے اگر یہ کہا جائے کہ موجودہ وائس چانسلر ڈاکٹر محمد علی شیخ سندھ مدرستہ السلام کو کالی سے یونیورسٹی کا درجہ دلانے کے مرکزی کردار ہیں اور ایک قومی ہیرو ہیں تو یہ غلط نہ ہوگا انہوں نے اس عظیم الشان ادارے کی تاریخی عظمت اور حیثیت کو برقرار رکھنے اور اسے ایک عظیم الشان یونیورسٹی کا درجہ دلاکر دنیا کے سامنے اپنے اعلی معیاری تعلیم کی وجہ سے الگ شناخت بنانے میں بے حد محنت کی ہے جس پر وہ یقینی طور پر مبارکباد کے حقدار ہیں ۔

کسی بھی ملک کی ترقی میں تعلیمی نظام بنیادی اور مرکزی اہمیت رکھتا ہے

خوشحال قوموں  نے اچھے مضبوط تعلیمی نظام کی بدولت ہی ترقی کی ہے

بورڈ آف انٹرمیڈیٹ ایجوکیشن کراچی کو انیس سو چوہتر میں آزاد اور بااختیار ادارے کی حیثیت حاصل ہوئی تھی آج بورڈ کی کنٹرولنگ اتھارٹی صوبے کا منتخب وزیراعلی ہے بورڈ کے چیئرمین کو اپنی سپلائرز یکٹو اور اکیڈمی آفیسر آف بورڈ کے اختیارات حاصل ہوتے ہیں بورڈ کے سیکرٹری کو اکیڈمی اور ایڈمنسٹریٹر کے اختیارات حاصل ہوتے ہیں کنٹرولر آف ایگزامینیشن کو امتحانات کرانے کی ذمہ داریاں دی جاتی ہیں 1974 میں صرف سترہ افسران ہوئے 113 افراد کے عملے کے ساتھ کام کرنے والا وہ گزرنے کے ساتھ ساتھ کام بڑھنے کی وجہ سے 51 افسران اور 246 سے زائد عملے پر مشتمل ہے۔ 

بورڈ آف انٹرمیڈیٹ ایجوکیشن کراچی کے موجودہ چیئرمین پروفیسر انعام احمد کا شمار پاکستان کے انتہائی ذہین اور قابل پروفیسرز میں ہوتا ہے انہوں نے چھتیس سال سے زائد عرصہ انٹرمیڈیٹ اور پوسٹ گریجویٹ لیول پر ٹیچینگ میں گزارا وہ ڈائریکٹر آف کالج ایجوکیشن کراچی کے طور پر بھی فرائض انجام دے چکے ہیں وہ انتہائی ذہین قابل باصلاحیت اور محنتی انسان ہیں۔
بورڈ کے چیئرمین کی حیثیت سے پروفیسر رانا محمد کا کہنا ہے کہ کسی بھی ملک کی ترقی میں تعلیمی نظام بنیادی اور مرکزی اہمیت کا حامل ہوتا ہے اگر نظام ناقص اور کرپٹ ہوگا تو وہ بمشکل بہتر نتائج دے سکے گا۔

اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ بطور چیئرمین انہوں نے اس ادارے کو کی قسم کی مشکلات مسائل اور چیلنجوں کے باوجود بہتری اور کامیابی کے راستے پر گامزن کیا ہے ان کے جرات مندانہ اقدامات کے بہتر اور اچھے نتائج سامنے آئے ہیں اور یہ ان کی محنت لگن اور دیانت داری کی بدولت ممکن ہوا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ کسی بھی ملک کی ترقی میں وہاں کا نظام تعلیم بنیادی اور اہم کردار کا حامل ہوتا ہے آج جن ملکوں کے میں ترقی اور خوشحالی نظر آتی ہے ان کو انہوں نے اچھے مضبوط تعلیمی نظام کی بدولت تیز رکھیں حاصل کی ہے پاکستان جیسے ملک میں جہاں شرح خواندگی پہلے ہی کم ہے وہاں سائنس اور ٹیکنالوجی کی تعلیم حاصل کرنے والوں کی تعداد اور بھی کم ہے جب طلبہ کی بنیاد مضبوط ہوگی تو وہ اعلیٰ تعلیم کی طرف جا سکیں گے کامیابی کے لئے تعلیمی نظام کو ہر قسم کی مداخلت سفارش اور دباؤ سے آزاد رکھنا ہوتا ہے ۔



 

قائد عوام یونیورسٹی آف انجینئرنگ سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی نوابشاہ

یہ سندھ کے شہری علاقوں میں طلبہ کو بہترین
 تعلیم 
 فراہم کرنے والی یونیورسٹی ہے



 یونیورسٹیز اینڈ بورڈ کے صوبائی مشیر نثار کھوڑو کی صدارت میں سندھ کے چیئرمین بورڈز کا اجلاس

 اجلاس میں سیکریٹری یونیورسٹیز اینڈ بورڈز ریاض الدین، انٹر اور میٹرک بورڈز کے چیئرمین کی شرکت۔  اجلاس میں بورڈز کے امتحانات میں کاپی کلچر کے خاتمے کے لئے سینٹرز پر وجیلنس بڑھانے اور سینٹرز کا تعداد کم کرنے کا فیصلہ۔  اجلاس میں نثار کھوڑو نے کہا کہ میں امتحانات میں کاپی کلچر کو کسی صورت برداشت نہیں کروں گا۔   کاپی کلچر سے پڑھنے والے طلبہ و طالبات اور میرٹ کی حق تلفی ہوتی ہے ۔  سندھ نے علم و ادب سمیت ہر میدان میں بڑے نام پیدا کئے ہیں۔  سندھ سے ان قابل نوجوانوں کا آگے بڑھنے کا سلسہ مزید بڑھنا چاہیئے۔ 
اس لئے میرٹ ہوگی تو ٹیلنٹ کی اہمیت بڑھے گی۔

  جو نوجوان کاپی پر منحصر کر رہے ہیں وہ اصل خود کو آگے بڑھنے کے مقابلے سے دور کر رہے ہیں۔  قابلیت کی پوری دنیا میں اہمیت ہے۔   سندھ حکومت کاپی کلچر کا خاتمہ کرکے نوجوانون کو بہتر مستقبل فراہم کرنے اور آگے بڑھنے کے لئے پلیٹ فارم فراہم کر رہی ہے۔   امتحانات میں کاپی کلچر کی روک تھام کے لئے وجیلنس اور مانیٹرنگ سسٹم کو مزید تیز کیا جائے گا۔ امتحانات کے دوران سینٹرز کی تعداد کم کرنے پر غور کر رہے ہیں تاکے وجیلنس اور مانیٹرنگ بہتر ہو اور کاپی کلچر کا خاتمہ ہوسکے۔

پیپلز یونیورسٹی آف میڈیکل اینڈ ہیلتھ سائنسز نوابشاہ ضلع شہید بینظیر آباد
یہاں مستقبل کے لیڈرز کو پڑھایا جاتا ہے

پیپلز یونیورسٹی آف میڈیکل اینڈ ہیلتھ سائنسز نوابشاہ ضلع شہید بینظیر آباد کا شمار سندھ کی بہترین اور انتہائی معیاری تعلیمی خدمات فراہم کرنے والی یونیورسٹیز میں ہوتا ہے ۔پروفیسر ڈاکٹر غلام علی میمن اس بہترین یونیورسٹی کے وائس چانسلر اور ڈین فیکلٹی آف   آف سرجری اینڈ اپلائیڈ سائنسز کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں اور اپنی محنت لگن ذہانت قابلیت اور بہترین کارکردگی کی بدولت یونیورسٹی کی شناخت بن چکے ہیں ان کی شخصیت اور کردار مثالی اور ساتھی اساتذہ اور طلبہ کے لیے فخر کا باعث ہے ۔
یہ یونیورسٹی پراعتماد انداز میں دعویٰ کرتی ہے کہ یہاں تعلیم حاصل کرنے والے کی زندگی تبدیل ہوجاتی ہے اس کا تجربہ یہاں کے طلباء کرچکے ہیں یہاں داخلہ حاصل کر کے تعلیم حاصل کرنے والے روزانہ کچھ نیا سیکھتے ہیں

peoples university of medical and health sciences nawabshah
 

 ان کے لئے زندگی میں نئے امکانات پیدا ہوتے ہیں اور زندگی میں دلچسپ چیلنجز نظر آنے لگتے ہیں ۔
یونیورسٹی کے وائس چانسلر کی حیثیت سے پروفیسر ڈاکٹر گلشن علی میمن کا کہنا ہے کہ انوائرمنٹ آپ کے ذہن پر شخصیت پر سب سے زیادہ اہم اثر ڈالتا ہے اور شخصیت بدل جاتی ہے ۔
یونیورسٹی میں انڈر گریجویٹ پروگرام کا بنیادی مقصد مختلف زاویوں سے سچ تک رسائی حاصل کرنا اور اسے سمجھنا ہے ۔یہاں کا بےمثال ماحول ٹیکنالوجی سے آراستہ کلاسز ۔خیال رکھنے سی لےکر ذہین اور باصلاحیت فیکٹری کی دستیابی اور تعلیمی ضروریات کے مطابق انفرادی توجہ کی فراہمی اس یونیورسٹی کو صوبے کی دیگر یونیورسٹی سے منفرد اور ممتاز بناتی ہیں اس کے علاوہ یہ یونیورسٹی ڈسٹرکٹ شہید بے نظیر آباد میں انتہائی آسان لوکیشن پر واقع ہے اور یہ علاقہ ایک کلچرل کیپیٹل کی حیثیت رکھتا ہے ہر جگہ اس یونیورسٹی کے اعلیٰ معیار اور بہترین ماحول کی مثال دی جاتی ہے یونیورسٹی کی انتظامیہ بڑے فخریہ انداز سے کہتی ہے کہ ہمارے یہاں مستقبل کے لیڈرز کو پڑھایا جاتا ہے ۔
یونیورسٹی میں چار اور پانچ سال کے بیچلر پروگرام آفر کیے جاتے ہیں عام طور پر طلبہ فزیشن سرجن ریسرچر ایڈمنسٹریٹر میڈیکل پروفیسر بننے کے خواب آنکھوں میں سجائے یہاں آتے

HOW TO APPLY
The date of opening of admissions, availability of forms and other details are announced on BBSUL University website www.bbsul.edu.pk and through advertisement in the newspapers

New Admission Advertisement November 2019

An application form for admission is available along with this booklet

Applicants are directed to read carefully the directions in this booklet before filling in the form

They are also directed attach two attested powder photocopies of the mark sheet of the pre-requisite examination(Matric/Intermediate) for master program(Graduation) & Pass Certificate

It should be noted that mark sheets which do not give details of the marks awarded in academic the years, but only give a consolidated total will not be accepted

Applicants are directed attach two attested powder photocopies of CNIC/B-Form & Father CNIC

Applicants are directed attach two attested powder photocopies of Domicile

Applicants are directed attach Six Passport Size Photograph with white background

Applicants are directed attach filled Application Form & Bank Fee voucher Rs.1000

Applicants are instructed to select departments strictly in accordance with eligibility criteria A maximum of 03 choices of departments can be given in order of preference.

The names of the departments should be mentioned very carefully since it is not possible to make any changes in the form once it is submitted

A merit list will be prepared for every department after verification of the eligibility and mark sheets of the applicants, on the basis of criteria set down for that department

The provisional list of successful candidates along with necessary instructions will be displayed at the admission office

The provisional list of successful candidates should submit original mark sheet of the pre-requisite examination

Students applying on Sports seats should attach sport certificates and other supporting documents with their application

At the time of admission of Foreign Student, they required to submit original equivalent certificates issued by I.B.C.C permanently or photocopy of the same

ADMISSION CRITERIA
The date of opening of admissions, availability of forms and other details are announced on BBSUL
university website www.bbsul.edu.pk and through advertisement in the newspapers
An application form for admission is available along with this booklet

Applicants are directed to read carefully the directions in this booklet before filling in the form

They are also directed attach two attested powder photocopies of the mark sheet of the pre-requisite examination (Matric / Intermediate) for master program (Graduation) & Pass Certificate

It should be noted that mark sheets which do not give details of the marks awarded in academic the years, but only give a consolidated total will not be accepted

Applicants are directed attach two attested powder photocopies of CNIC/B-Form & Father CNIC

Applicants are directed attach two attested powder photocopies of Domicile

Applicants are directed attach Six Passport size Photograph with white background

Applicants are directed attach filled Application Form & Bank Fee voucher Rs.1000

Applicants are instructed to select departments strictly in accordance with eligibility criteria A maximum of 03 choices of departments can be given in order of preference

The names of the departments should be mentioned very carefully since it is not possible to make any 
changes in the form once it is submitted

A merit list will be prepared for every department after verification of the eligibility and mark sheets of the applicants, on the basis of criteria set down for that department

The provisional list of successful candidates along with necessary instructions will be displayed at the admission office

The provisional list of successful candidates should submit original mark sheet of the pre-requisite examination

Students applying on Sports seats should attach sport certificates and other supporting documents with their application

At the time of admission of Foreign Student, they required to submit original equivalent certificates issued by I.B.C.C permanently or photocopy of the same

لیاقت یونیورسٹی آف میڈیکل اینڈ ہیلتھ سائنسز جامشورو

سرکاری شعبے میں اسے ملک کی پہلی میڈیکل یونیورسٹی ہونے کا منفرد اعزاز حاصل ہے
یونیورسٹی کو میڈیکل تعلیم کے شعبے میں اپنے قائدانہ کردار اور ذمہ داریوں کا پوری طرح ادراک ہے

لیاقت یونیورسٹی آف میڈیکل اینڈ ہیلتھ سائنسز جامشورو کو سرکاری شعبے میں ملک کی پہلی میڈیکل یونیورسٹی ہونیکا منفرد اعزاز حاصل ہے اور اسے میڈیکل تعلیم کے شعبے میں اپنے قائدانہ کردار اور ذمہ داریوں کا پوری طرح ادراک ہے طبی پڑھائی مریضوں کی دیکھ بھال اور میڈیکل ریسرچ اس کے بنیادی اہداف ہیں اور اسے بخوبی علم ہے کہ معاشرے کیلئے بہترین ہیلتھ پروفیشنلز تیار کرنا اسکی ذمہ داریوں میں اولین ترجیح ہے ۔انڈر گریجویٹ لیول ہو یا پوسٹ گریجویٹ لیول دونوں لیول پر یہ یونیورسٹی اپنی ذمہ داریوں کو بڑی محنت کے ساتھ ادا کرتی آرہی ہے ۔        لیاقت یونیورسٹی آف میڈیکل اینڈ ہیلتھ سائنسز جامشورو کے وائس چانسلر پروفیسر بیکھا رام دیو را جانی ہیں ان کا شمار انتہائی ذہین اور قابل اساتذہ میں ہوتا ہے اور وہ یونیورسٹی کی مزید ترقی اور کامیابی کے لیے دن رات محنت کر رہے ہیں ۔
یونیورسٹی کو ریسرچ اینڈ ٹیچنگ میں ورلڈ لیڈر بننا ہے یہ اس کے اہداف میں شامل ہے اس کے علاوہ عالمی معیار کی تعلیم اور ریسرچ کے ذریعے انسانی علم اور انڈسٹری کو فروغ دینا ۔طلبہ کو اتنی مہارت اور علم دینا کہ وہ مختلف امراض سے دنیا کے کسی بھی کونے میں لڑ سکیں اور مریض کو شفا یاب کرنے میں اپنا کردار ادا کر سکیں ۔اپنے ملک اپنے خطے سے لے کر بین الاقوامی سطح پر اور فیشن طریقے سے اکیڈمی طور پر اور کلچرل انداز سے بہترین خدمت کر سکیں ۔یہ حرام حاصل کرنا معمولی بات نہیں ہے انحراف کو حاصل کرنے کے لیے سخت محنت لگن توجہ صلاحیت قابلیت ذہانت درکار ہوتی ہے جس پر یونیورسٹی میں بےحد توجہ دی جاتی ہے طلبہ کے اعتماد کو فروغ دینے ان کے علم میں اضافہ کرنے اور ان کی صلاحیتوں کو نکھارنے پر یونیورسٹی میں بھرپور کام ہوتا ہے ۔

 

پروفیسربرکت علی حیدری اے ڈستی
چیئرمین انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن میرپورخاص

چیئرمین بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن میرپورخاص کا چارج سنبھالنے کے بعد ، بورڈ ویب سائٹ کو اپ گریڈ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے تاکہ امتحانات کے مطابق اور پوسٹ پوسٹس سے متعلقہ طریقہ کار میں شفافیت کو یقینی بنایا جاسکے اور ساتھ ہی تمام ٹیک ہولڈرز کو کوالٹی خدمات فراہم کی جاسکیں۔ تنظیم نے اساتذہ اور بورڈ کے سرشار عملے کو سیکھا۔ یہ ایک ثابت شدہ حقیقت ہے کہ ویب سائٹ ہمارے اہم اسٹیک ہولڈرز کو سہولت فراہم کرنے میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے اور اسے اب معزز وزیر اعلی سندھ ، حکومت سندھ کے چیف سکریٹری اور سیکرٹری بورڈز اور یونیورسٹیز سندھ کے بصیرت پیغام سے روشن کیا گیا ہے۔ ہم معتبر نتائج کے ساتھ ساتھ امتحانات کے لئے معیاری تعلیم اور فول پروف میکانزم کے لئے بغیر روک تھام کی کوششیں کرنے کے لئے پرعزم ہیں۔ اللہ سبحانہ وتعالیٰ ، قوموں کی خدمت کے لئے ہمارے ساتھ رہے ، آمین۔

                                                                                                                                                                  پروفیسر برکت علی حیدری اے دستی                                                              

ہمارا وژن اینڈ مشن

وژن یہ ہے کہ آنے والی نسل کو مہذب اور عقلی انداز میں آگے چل کر بڑے چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑے۔
مشن کا مقصد منصفانہ ، شفاف اور موثر امتحانی نظام کے ذریعے بورڈ کے معیار اور ساکھ کو بلند کرنے اور آئی ایس او اسٹینڈرڈ کے
 مطابق قابل اطمینان ہمارے صارفین کو خدمات فراہم کرنے میں مدد کرنا ہے۔

مسرور احمد ، پی ایچ ڈی
چیئرمین  سندھ بورڈ آف ٹیکنیکل ایجوکیشن (SBTE)

این ای ڈی یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی ، کراچی ، پاکستان سے بیچلر آف سول انجینئرنگ 1985 میں مکمل ہوئی۔
سال 1992 میں ، پی ایچ ڈی کے لئے اسکالرشپ سے نوازا گیا۔ وزارت تعلیم ، حکومت پاکستان کے ذریعہ۔ ایم ایس سی میں شرکت کے بعد۔ ٹرانسپورٹیشن پلاننگ اینڈ انجینئرنگ برائے انسٹی ٹیوٹ آف ٹرانسپورٹ اسٹڈیز ، یونیورسٹی آف لیڈس ، یوکے۔
جیو ٹیکنیکل انجینئرنگ کے شعبے میں پی ایچ ڈی کی ڈگری برطانیہ کی اسکاٹ لینڈ ، یونیورسٹی آف گلاسگو سے حاصل کی گئی۔ پی ایچ ڈی کے دوران برطانیہ کی یونیورسٹیوں کی وائس چانسلرز کمیٹی اور پرنسپلز ’(سی وی سی پی) کی کمیٹی سے اوورسیز ریسرچ اسٹوڈنٹ ایوارڈ ملا

 

طلباء ، اساتذہ ، والدین اور لوگوں کو یہ خصوصی پیغام بھیجنے سے مجھے بے حد خوشی ہوئی ہے کہ ، بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن ، لاڑکانہ انٹرنیٹ پر اپنی ویب سائٹ کا آغاز کیا ہے۔ عالمگیریت کے دور میں ، کوئی بھی ادارہ جدید سائنسی طریقوں کو اپنائے بغیر مکمل طور پر ترقی نہیں کرسکتا۔ ہماری ویب سائٹ اس بورڈ کے ذریعہ انفارمیشن ٹکنالوجی کے استعمال میں ایک بہت آگے بڑھے گی ، اور یہ تصور کیا جاتا ہے کہ اس ویب سائٹ  http://www.biselrk.edu.pk/کے ذریعے بورڈ کے کام میں نمایاں بہتری آئے گی۔ انٹرنیٹ پر بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن ، لاڑکانہ کی ویب سائٹ عام طور پر پوری دنیا کے لوگوں اور پاکستان کے عوام اور خاص طور پر علاقے کو اس بورڈ کے کام کے بارے میں معلومات تک ان کی دہلیز پر مکمل رسائی حاصل کرنے میں مدد فراہم کرے گی۔ .

اس بورڈ کے علاقائی دائرہ اختیار کے اندر وابستہ اداروں کے بارے میں معلومات ، امتحانات کے فارموں کو پُر کرنے کا شیڈول ، امتحانات کے انعقاد ، نصاب کی سرگرمیاں ، کھیلوں کے واقعات ، تفصیلی نتیجہ گزٹ ، نقل مکانی کے سرٹیفکیٹ جمع کرنے کا طریقہ کار ، اہلیت کے سرٹیفکیٹ ، مارک سرٹیفکیٹ اور اندراج کارڈ وغیرہ انٹرنیٹ پر دستیاب ہوں گے۔ دور دراز علاقوں میں دیہی تعلیمی ادارے جہاں مواصلات کا نظام ناقص ہے یا تقریبا non غیر موجود ہے وہ اس بورڈ کی ویب سائٹ پر انٹرنیٹ کے ذریعے معلومات حاصل کرسکتے ہیں۔ انٹرنیٹ پر ویب سائٹ کا آغاز اس بورڈ کے طلبا کو زیادہ سے زیادہ سہولیات کی فراہمی کے عزم کی واضح مثال ہے۔ اس سے نہ صرف عوام کو ساری دنیا میں بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن لاڑکانہ کے بارے میں جاننے میں مدد ملے گی بلکہ بین الاقوامی میدان میں بھی اس کی حیثیت میں اضافہ ہوگا۔

 احمد علی بروہی (چیئرمین) پی ایچ ڈی (سوشیالوجی)

تحقیقات و جدت پر مبنی اسکول امتحانات اور تشخیصی نظام میں ایک قابل اعتماد نام قائم کرنا اور قومی اور عالمی سطح پر مسابقت کے لئے نوجوان نسل کے انٹلیجنس اور تعمیراتی کردار کو بہتر بنانے کے ذریعے معیاری تعلیم کو عام کرنے کے لئے جدید ٹکنالوجی کے ساتھ مربوط۔
BISE اچھی حکمرانی کے ذریعہ نوجوان نسل کو تعلیم اور روشن کرنے میں اہم کردار ادا کرے گی اور فیصلہ سازی میں کلیدی اسٹیک ہولڈرز کی شرکت کے مقصد سے منصفانہ ، شفاف اور مستند سیکنڈری اسکول سرٹیفکیٹ (ایس ایس سی) ، ہائر سیکنڈری سرٹیفکیٹ (HSC) کے انعقاد سے معیاری تعلیم کی فراہمی ہے۔ عام طور پر اور خاص طور پر صوبہ سندھ میں ملک کے دور دراز علاقوں میں طلبہ کے سیکھنے کے نتائج کا جائزہ لینے کے لئے دیگر امتحانات۔
ہم امتحانات اور تشخیص میں اعلی معیار کو اپناتے اور طے کرتے ہیں جو عالمی سطح پر قبول کیے جاتے ہیں۔

داؤد یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کا مقصد انجینئرنگ کے علم اور طریقوں میں تیزی سے ترقی کے لئے انسانی سرمائے میں سرمایہ کاری کرنا ہے ، R&D میں نئے محاذیں اس ل Knowledge علم کی وجہ سے معیشت اور آنے والی نسلوں کے بہتر مستقبل کی تشکیل کریں گے۔
انجینئرنگ کے محکموں میں الیکٹرانکس، کیمیکل، صنعتی اور انتظام اور دھات کاری اور مواد شامل ہیں۔ سیشن 2010-2011 سے ، یونیورسٹی نے توانائی اور ماحولیات ، پٹرولیم اور گیس ، ٹیلی مواصلات ، اور کمپیوٹر سسٹم انجینئرنگ جیسے چار نئے شعبے متعارف کروائے ہیں۔

پروفیسر ڈاکٹر فیض اللہ عباسی



یونیورسٹی کے دو کیمپس ہیں ، ایک قائداعظم مزار کے قریب اور دوسرا بلاک 17 گلشنِ اقبال ، کراچی میں واقع ہے۔ ان کیمپس میں متعدد سہولیات شامل ہیں جن میں کلاس رومز ، اسٹیٹ آف دی آرٹ لینڈرنگ اور ریفرنس لائبریریاں ، لیبارٹریز ، ورکشاپس ، ڈرائنگ ہالز ، طلباء کیفےٹیریا ، آڈیٹوریم ، جس کی گنجائش 650 ہے ، سیمینار رومز گرلز کامن روم وغیرہ ہیں۔
یونیورسٹی میں طلباء کو پک اینڈ ڈراپ کی سہولت کے لئے سات بسوں کا بیڑا ہے۔ ڈیو ای ٹی میں کمپیوٹر لیبارٹریز کی لیس ہے۔ ہم کراچی کے وسط میں واقع ہیں جس میں شہر کے تمام صنعتی زونوں تک رسائی ہے۔ ہمارے طلبا کو عملی تربیت کے لئے صنعتوں کا دورہ کرنے کا باقاعدہ موقع ہے۔
یہ بات قابل ذکر رہے گی کہ ہائیر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) کی مدد اور مدد سے پی ای آر این کے تحت ایک ویڈیو کانفرنس روم تشکیل دیا گیا ہے ، جو ڈیجیٹل لائبریری تک بھی رسائی فراہم کرتا ہے۔
کوالٹی اشورینس کی اہمیت کا احساس کرتے ہوئے ، DUET نے نومبر 2009 میں ہائیر ایجوکیشن کمیشن اور QAA کی نگرانی اور ہدایت نامے کے تحت DUET کے تمام محکموں اور اساتذہ میں معیار کی بہتری کے پروگراموں کو نافذ کرنے کے لئے اپنا کوالٹی بڑھاوا سیل قائم کیا ہے۔
چونکہ DUET پاکستان کے سب سے بڑے صنعتی شہر میں واقع ہے ، لہذا محکمہ انجینئرنگ مقامی صنعتوں کو حل / 

صلاح مشورے فراہم کرنے میں براہ راست ملوث ہے۔ انڈسٹری کے ماہرین کی فعال نگرانی میں طلبا کو کراچی میں اور باہر پلانٹ کی تربیت اور انٹرنشپ کے ساتھ حتمی سال کے منصوبے تفویض کردیئے گئے ہیں۔
ہمارے طلبا میں کاروباری خصوصیات پیدا کرنے اور اثرات پر مبنی تحقیق کے لئے ایک بنیاد تیار کرنے کے لئے DUET نے حال ہی میں جدت طرازی کی تخلیقی صلاحیتوں کو سیکھنے اور کاروباری شخصیت (سرکل) کے لئے ایک مرکز قائم کیا ہے۔ توقع کی جاتی ہے کہ سنٹر تحقیق کا مرکز ہوگا اور ہمارے طلبا کو صنعت اور کاروبار کی دنیا میں جانے کے لئے انکیوبیٹر کی حیثیت سے بھی کام کرے گا۔

پروفیسر ڈاکٹر محمد سعید قریشی
وائس چانسلر
ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز

 دسمبر 2003 میں قائم ہونے والی ، ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز (DUHS) تعلیم ، تحقیق اور برادری کی خدمات میں فضیلت کی روایت کو فروغ دے رہی ہے۔ ڈی یو ایچ ایس نے 20 تعلیمی اداروں کے 8،000 سے زیادہ طلباء اور رہائشیوں کو تعلیم اور تربیت دی ہے۔ اس یونیورسٹی میں تقریبا 3 3،000 ملازمین ہیں ، جن میں فی الحال 850 فیکلٹی ممبران شامل ہیں۔
ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز (DUHS) انڈرگریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ پروگرام پیش کرتا ہے جو معیاری انسانی وسائل مہیا کرکے ہیلتھ کیئر سائنسز کی ضروریات کو پورا کرتا ہے۔ یونیورسٹی اپنی مکمل طور پر لیس لیبارٹریوں ، عجائب گھروں ، انفارمیشن ٹکنالوجی کے ذریعہ عمدہ تعلیمی سہولیات مہیا کرتی ہے ، جس میں ویڈیو کانفرنسنگ شامل ہے ، اس کے علاوہ تدریسی محکموں ، ہاسٹلز اور عام طور پر کیمپسز میں لاجسٹک سہولیات بھی موجود ہیں۔
عالمی سطح پر ، تحقیق انڈرگریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ لیول اسٹڈیز کے نصاب کے درمیان حد بندی پیدا کرتی ہے ، لیکن ڈی یو ایچ ایس بھی باقاعدہ نصاب کے ایک حصے کے ساتھ ساتھ اجتماعی کاموں کے ساتھ ساتھ تحقیق کو ضم کرنے پر بھی زور دیتا ہے۔ جب تحقیق شروع میں طالب علموں کو پڑھائی جاتی تھی تو بنیادی اعداد و شمار کے ذرائع کے ذریعہ معلومات سیکھنے اور ان کے حصول کی ان کی عادت پیدا ہوتی ہے۔
ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے بین الاقوامی معیارات ہیں ، جن میں تمام مرکزی ادارے اور محکمے آئی ایس او 9001-2008 کے ساتھ ونکوٹ انٹرنیشنل ، برسلز کے ذریعہ آئی ایس او کے ساتھ تصدیق شدہ ہیں۔ ڈاؤ یونیورسٹی نے ایک تدریسی اور سیکھنے کا طریقہ کار متعارف کرایا ہے ، جس سے طلبا کو تاحیات زندگی بھر کے سیکھنے میں مدد ملتی ہے۔ انسٹی ٹیوٹ اپنے طالب علموں کے لئے کوشش کرتا ہے کہ وہ اپنے مریضوں سے بات چیت کرنے اور اپنے طلبا کو قابل پیشہ ورانہ پیشہ ورانہ زندگی کے ل Prepare تیار کرنے کے ل Communication بہتر مواصلات کی مہارت کو فروغ دے۔

یونیورسٹی کے اہم اہداف
تعلیم و تحقیق میں عصری اپروچ رکھنا۔
قومی اور بین الاقوامی تعاون کے ذریعے علم اور مہارت کو بڑھانا۔
اسکالرشپ کے ساتھ تحقیق میں توجہ مرکوز کرنا۔
معاشرے کی صحت کا درجہ بلند کرنا اور عوام میں شعور اجاگر کرنا۔
مسائل کی نشاندہی کرنے اور اسٹیک ہولڈرز کے اشتراک عمل کے ساتھ حل کرنا۔
بین الاقوامی معیار کی صحت کی دیکھ بھال کی سہولیات کی فراہمی۔
اصلاح اور اضافے کے ل. عمل کا باقاعدہ جائزہ لینے اور ان کی عکاسی کرنا۔

بنیادی اقدار
1. کسٹمر سروسز: مریضوں اور طلبا کو پہلے رکھیں
2. ہمدردی اور ہمدردی: فیصلہ کرنے سے پہلے ہی سمجھیں اس سے پہلے کہ دوسروں کی تکالیف اور بدقسمتیوں کا خدشہ ہو
3. ایکسی لینس: غیر معمولی معیار اور خدمات کا بہترین عہد بنو
4. تجسس کی حوصلہ افزائی کریں ، تصور کریں ، تخلیق کریں اور شیئر کریں

5 ٹیم ورک: مشغول اور تعاون کریں
6. سالمیت اور قیادت: ایک رول ماڈل بنیں اور دوسروں کو ان کا بھترین حصول کرنے کے لئے متاثر کریں، ہمت کریں کہ صحیح کام کریں، اپنے آپ کو اور دوسروں کو جوابدہ رکھیں
7. احترام اور اجتماعیت: مہربانی سے پیش آؤ، سننے کومختلف رائے کی قدر کریں

 ایک عوامی یونیورسٹی ہے جو کراچی ، سندھ ، پاکستان میں واقع ہے۔ SZABUL پاکستان میں پہلی لا یونیورسٹی ہے۔ ہائر ایجوکیشن کمیشن کے ذریعہ یونیورسٹی کو تسلیم کیا گیا ہے۔
شہید ذوالفقار علی بھٹو یونیورسٹی آف لاء میں قانونی تعلیم کے ابھرتے ہوئے رجحانات کے ساتھ ، پاکستان میں ایک لا یونیورسٹی کی 

 ترقی کی ضرورت بڑھ گئی ہے جو دنیا کی معروف یونیورسٹیوں کے برابر اور بین الاقوامی معیار کے مطابق قانونی تعلیم فراہم کرتی ہے۔ خاص طور پر ، پاکستان میں وکیل کی نقل و حرکت اور عدلیہ کی بڑھتی ہوئی آزادی کے نتیجے میں ، پیشہ ور وکلا کی تربیت بالکل ناگزیر ہوگئ ہے۔ پوری دنیا میں ، حالیہ برسوں میں قانونی تعلیم واضح طور پر تیار ہوئی ہے ، اور ایسا لگتا ہے کہ پاکستانی لاء اسکول قانونی اسکالرشپ ، تحقیق اور ماہرین تعلیم میں نمایاں طور پر پیچھے ہیں۔
لہذا اب وقت کی ضرورت ہے کہ ایک جدید ترین ادارہ قائم کیا جائے جو پاکستان میں قانونی تعلیم میں انقلاب لائے۔ اسی پس منظر میں ، گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد خان ، جو جامعہ کراچی کے چانسلر بھی ہیں ، کی سرپرستی میں ، پاکستان کی پہلی لاء یونیورسٹی قائم کی گئی تھی ، جس کا اطلاق حکومت سندھ نے عمل میں لایا تھا۔ شہید ذوالفقار ھ بھٹو یونیورسٹی آف لاء کراچی ایکٹ ، 2012 (سندھ ایکٹ XIII 2013)۔
شہید ذوالفقار اے ایچ بھٹو یونیورسٹی آف لاء ، جیسا کہ ظاہر ہے ، پاکستان کے سرشار ڈیموکریٹ اور بین الاقوامی سطح کے سیاسی رہنما ، شہید ذوالفقار اے ایچ بھٹو کے نام پر رکھا گیا ہے۔ یہ ذکر کرنا مناسب ہے کہ مسٹر بھٹو خود لنچن ان لن ، لندن سے بیرسٹر کی حیثیت سے کوالیفائی کرنے والے ایک اہم وکیل تھے۔ وہ ایس ایم میں پروفیسر برائے قانون سے بھی مل رہے تھے۔ لا کالج ، کراچی۔ امید ہے کہ یہ یونیورسٹی شہید بھٹو کی خواہشات کے مطابق سندھ اور باقی پاکستان کے عوام کو عالمی معیار کی قانونی تعلیم فراہم کرے گی۔

یونیورسٹی ، زیر نگرانی ، اس سے وابستہ کالجوں کے علاوہ ، بیک وقت مندرجہ ذیل پروگرام پیش کرے گی
1. LL.B ڈگری پروگرام (05 مناظر)
2. ایل ایل ایم (02 محل)
3. پی ایچ ڈی (03 محل)
4. ایل ایل ڈی
یونیورسٹی قانون کے مختلف شعبوں ، اور متعلقہ خصوصیات میں ڈپلوما اور سرٹیفکیٹ کورسز بھی چلائے گی۔ اساتذہ میں ریٹائرڈ ججز ، سینئر وکلاء ، اور غیر ملکی تعلیم یافتہ نوجوان بیرسٹر شامل ہوں گے۔ اساتذہ کل وقتی اور آنے والے دونوں ممبروں پر مشتمل ہوگا ، اس طرح طلباء کے مفادات کے لئے پریکٹس اور اکیڈیمیا کے مابین صحیح توازن کو یقینی بنایا جائے۔ اساتذہ کی بھرتی خالصتاrit میرٹ پر ہوگی ، اور اعلی تعلیمی قابلیت اور سالمیت رکھنے والوں کو بھرتی کیا جائے گا۔
کورنگی کراچی۔ شہر کے کیمپس کے لئے۔ متعلقہ حکام کو پہلے ہی ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اس مقصد کے لئے اراضی الاٹ کریں۔ کورنگی ٹاؤن میونسپل ایڈمنسٹریشن اور کراچی میٹرو پولیٹن کارپوریشن نے یونیورسٹی کی عمارت کی تعمیر کے لئے 1 فیصد ایکڑ پر مشتمل کورنگی ٹاؤن شپ کراچی میں پلاٹ نمبر ایس ٹی 7 سیکٹر 31-B کو استعمال کرنے کی اجازت دے دی ہے۔ پی سی ون 1 کے تخمینے لاگت پر Rs. 1019.734 ملین (کیپیٹل لاگت) 935.296 ملین روپے اور محصول کی لاگت 664.438 ملین روپے) سندھ حکومت کے ایگزیکٹو انجینئر ایجوکیشن ورکس ڈویژن 1 نے تیار کیا ہے۔

مشن:
درس و تدریس ، سیکھنے ، اور تحقیق میں اس طرح کے اعلی معیار کے حصول کے ل soon کہ یہ جلد ہی عالمی شہرت یافتہ تعلیمی اداروں کے ساتھ موازنہ ہوگا اور سیکھنے کو آجر کی ضرورت کے ساتھ ہم آہنگ کیا جانا چاہئے تاکہ ہم اپنے سبکدوش ہونے والے طلبا کو روزگار فراہم کرنے کا اپنا آخری مقصد حاصل کرلیں۔ ہم وکلاء کو اپنے 

مؤکلوں ، انصاف کے نظام ، اور عوام کی خدمت کے لئےPrepare ایک اعلیٰ سطح کی کامیابی اور قانونی پیشہ کے اعلیٰ ترین نظریات کے عزم کے ساتھ تیار کرنے کی خواہش رکھتے ہیں۔ ہم کاروباری گریجویٹس کو اعلیٰ درجے کی پیشہ ورانہ مہارت ، اخلاقیات اور اخلاص کے ساتھ صنعت اور ملک کی خدمت کیلئے تیار کرنیکی خواہش رکھتے ہیں۔



اولین مقصد:
اعلی تعلیم اور تحقیق کی عالمی سطح پر تسلیم شدہ نشست بنیں جو علم کے محاذوں کو وسعت دیتے ہیں اور بنی نوع انسان کے لئے نمایاں شراکت کرتے ہیں۔ یونیورسٹی تمام اساتذہ میں ملازمت کے ل a ایک نرسری بن جاتی ہے اور آجر کے لئے پہلی پسند ہونی چاہئے۔

ہماری بنیادی اقدار یہ ہیں:
! سالمیت: دیانتداری ، خلوص اور اعتماد کا ماحول فروغ دیں جس میں ہم خود کو اعلی اخلاقی معیار پر قائم رکھیں۔

ایکسی لینس: ہر کام میں جو ہم کرتے ہیں اس میں انتہائی اعلی معیار کے لئے کوشش کرتے ہیں۔
!
قیادت: آئندہ رہنماؤں کی حوصلہ افزائی اور ترقی کرکے اپنے ورثے کو ترقی دیتی ہے۔
! احترام کرنا۔ ULSZAB یونیورسٹی آف قانون میں ہر فرد کے ساتھ عزت اور وقار کے ساتھ سلوک کیا جانا ہے اور اسے ہر حالت میں مساوی سلوک کرنا ہے۔
! تنوع۔ ایک عالمی باہمی منحصر معاشرے میں معیاری تعلیم کے ل S ایس زیب یونیورسٹی قانون میں لوگوں اور نظریات کی ایک وسیع تنوع کا خیرمقدم اور حمایت کی جاتی ہے۔ طلباء کو اعلی معیار کے تعلیمی پروگراموں اور خدمات کی ایک جامع حد تک معقول اور سستی رسائی حاصل ہوگی۔
! بدعت۔ ULSZAB یونیورسٹی آف لاء اپنے اساتذہ ، عملے ، اور طلباء کو ہر قسم کے وظائف میں حوصلہ افزائی اور مدد دیتی ہے جس میں درس و تدریس اور جدید مصنوعات اور عمل کی نشوونما میں علم کی دریافت اور استعمال شامل ہے۔



سندھ ایگریکلچر یونیورسٹی ٹنڈو جام

زراعت کے شعبے میں جدید علوم پڑھانے والی یہ منفرد یونیورسٹی ہے

سندھ ایگریکلچر یونیورسٹی ، حیدرآباد سے میرپورخاص شاہراہ پر حیدرآباد سے 18 کلومیٹر کے فاصلے پر ٹنڈو جام شہر میں واقع ہے اور کراچی ایئرپورٹ سے 200 کلومیٹر کے فاصلے پر ہائی وے حیدرآباد سے منسلک ہے۔ ہائر ایجوکیشن کمیشن کے ذریعہ سندھ ایگریکلچر یونیورسٹی زراعت میں چوتھی بہترین یونیورسٹی ہے۔
یہ یونیورسٹی پانچ اساتذہ ، دو مراکز ، دو حلقہ کالج اور ڈائریکٹوریٹ آف ایڈوانسڈ اسٹڈیز اینڈ ریسرچ کا ایک تعلیمی کمپلیکس ہے۔ پانچوں فیکلٹیوں میں فصلوں کی پیداوار کی فیکلٹی ، فصلوں سے تحفظ کی فیکلٹی ، زرعی سوشل سائنسز کی فیکلٹی ، زرعی انجینئرنگ کی فیکلٹی اور جانوروں سے متعلق شوہر اور ویٹرنری سائنسز کی فیکلٹی ہیں۔ تقریبا 36 36 محکموں میں پڑنے والی پانچوں فیکلٹیوں میں تین گریجویٹ ڈگری پروگرام پیش کیے جاتے ہیں۔ ان میں ڈاکٹر آف ویٹرنری میڈیسن (D.V.M) ، بیچلر آف انجینئرنگ ان زراعت (B.E.Agriculture) اور بیچلر آف سائنس (زراعت) آنرز شامل ہیں۔ یونیورسٹی پوسٹ گریجویٹ پروگرام پیش کرتا ہے جس کے نتیجے میں ایم ایس سی ، جانوروں کی تربیت اور ویٹرنری سائنسز ، زرعی انجینئرنگ اور زراعت کے مذکورہ بالا تمام شعبوں میں ڈگری حاصل ہوتی ہے۔ ایم فل اور پی ایچ ڈی ڈگری پروگرام بھی منتخب مضامین والے علاقوں میں پیش کیے جاتے ہیں جہاں تربیت یافتہ عملہ اور دیگر سہولیات میسر ہیں۔
زراعت کے افسران ، فیلڈ اسسٹنٹس ، بینک افسران ، زرعی ٹیکنیشنز ، ترقی پسند کسانوں ، چھوٹے کسانوں ، کرایہ داروں ، باغبانوں ، گھریلو خواتین اور دیگر موکل گروپوں کی مسلسل اور خدمت تعلیم کی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے معمولی سی مختصر کورسز اور تربیتی پروگرام پیش کیے جاتے ہیں۔



یونیورسٹی کے زیر احاطہ کل رقبہ 416.66 ایکڑ (1.6862 کلومیٹر 2) ہے جس میں 80 ایکڑ سے زیادہ کا رقبہ ہے جس میں یونیورسٹی کی رہائشی اور غیر رہائشی عمارتوں ، زراعت ریسرچ انسٹی ٹیوٹ ، نیوکلیئر انسٹی ٹیوٹ آف زراعت ، دیہی اکیڈمی ، زرعی انجینئرنگ ورکشاپ ، شامل ہے۔ نکاسی آب ریسرچ سینٹر ، اور سینٹرل ویٹرنری تشخیصی لیبارٹری۔
یونیورسٹی ایک تعلیمی کمپلیکس ہے۔
فصل کی پیداوار کی فیکلٹی ،
فصلوں سے تحفظ کی فیکلٹی۔
زرعی سوشل سائنسز کی فیکلٹی۔
زرعی انجینئرنگ کی فیکلٹی۔
جانوروں کی کھیتی اور ویٹرنری سائنسز کی فیکلٹی ٹنڈوجام۔

1987 میں فیکلٹی کو الگ کرنے کے نتیجے میں سامنے آیا تھا۔ اس فیکلٹی کو یونیورسٹی کی سب سے بڑی فیکلٹی ہے جس میں مندرجہ ذیل محکموں اور انسٹی ٹیوٹ پر مشتمل ہے۔ تمام محکمے اور انسٹی ٹیوٹ دونوں گریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ ڈگری پیش کرتے ہیں۔
مٹی سائنس کا شعبہ۔
زرعی شعبہ۔
محکمہ باغبانی۔
پلانٹ کی افزائش اور جینیاتیات کا محکمہ۔
بائیوٹیکنالوجی کا شعبہ۔
فصل فزیالوجی کا شعبہ۔
ادارہ برائے خوراک سائنس اور ٹیکنالوجی۔

بنیادی طور پر 1976 میں اسے یونیورسٹی آف سندھ کے ایک کیمپس کے طور پر کھولا گیا تھا لیکن ایک سال کے عرصے کے بعد ہی اسے ایک خودمختار یونیورسٹی کی حیثیت دے دی گئی ۔اسے ہائرایجوکیشن انسٹی ٹیوشن میں پاکستان کی ٹاپ یونیورسٹیوں میں شامل کیا جاتا ہے یہاں کا تدریسی ماحول اپنی مثال آپ ،بہترین اور منفرد ہے ۔موجودہ وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد اسلم عقیلی اس یونیورسٹی کے شاندار روایات کو باوقار انداز سے آگے بڑھانے کے لئے سرگرم عمل ہیں اور وہ بڑی محنت اور اپنی پوری ذہانت قابلیت اور صلاحیت کے ساتھ یونیورسٹی کو ترقی کی نئی منزل کی طرف لے کر آگے بڑھ رہے ہیں ۔

اگر اسے کالج سے یونیورسٹی بننے کے سفر کے تناظر میں دیکھا جائے تو  کالج سے یونیورسٹی تک کا سفر انتہائی شاندار نظر آتا ہے اس کا پہلا بیچ 450 اسٹوڈنٹس کے ساتھ سامنے آیا جن میں سیول مکینیکل الیکٹریکل الیکٹرانکس میٹلرجی کیمیکل اور انڈسٹریل انجینئر شامل تھے ۔
اس یونیورسٹی میں پوسٹ گریجویٹ کورس کا آغاز 1978 میں کیا گیا جس کے بعد ماسٹر ڈگری کا اجرا شروع ہوا ۔
آج اس یونیورسٹی میں جدید ترین تعلیمی تدریسی سہولتیں دستیاب ہیں بہترین اور سکون ماحول ہے جدید سہولتوں سے آراستہ ریسرچ لیب ہے لائبریری ہے ایک ہزار سے زائد اس کورٹس کے قیام کے لیے ہاسٹل کی 

سہولت ہے ۔
یونیورسٹی کی جانب سے آرکیٹیکچر ،
بائیومیڈیکل ،ویسٹ سائنسز اینڈ ریلیٹڈ سٹڈیز ،
کیمیکل ،کمپیوٹر سسٹم ،سول ،الیکٹریکل الیکٹرونکس انڈسٹریل مکینیکل بٹرجی مانگ سافٹ ویئر ٹیکسٹائل ٹیلی کمیونیکیشن سٹی اینڈ ریجنل پلاننگ جیسے ڈیپارٹمنٹس کی تعلیم میں مختلف پروگرام پیش کئے جاتے ہیں ۔
یونیورسٹی کی جانب سے ریسرچ کے شعبے میں خاص طور پر توجہ دی جاتی ہے ریسرچ جرنل ریسرچ گروپس کانفرنس اور سیمینار منعقد کرنا شامل ہے ۔



 

بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن ، حیدرآباد سندھ
بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن ، حیدرآباد
 ایک قدیم ترین بورڈز میں سے ایک ہے جو مغربی پاکستان آرڈیننس 1961 کے تحت قائم کیا گیا تھا

بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن ، حیدرآباد سندھ کے قدیم ترین بورڈز میں سے ایک ہے اور اب یہ اکیسویں صدی میں داخل ہوچکا ہے جو تنقیدی سوچ کی مہارت ، تخلیقی صلاحیتوں ، مسئلے کو حل کرنے کی مہارت اور انفارمیشن ٹکنالوجی کی خواندگی کو فروغ دینے کا مطالبہ کرتا ہے۔ اس کے قیام کے بعد سے ہی بورڈ نے سیکنڈری میں اپنی حد تک شفافیت اور انصاف پسندی کو برقرار رکھا ہے۔
بورڈ کی تاریخ
بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن ، حیدرآباد ایک قدیم ترین بورڈز میں سے ایک ہے جو مغربی پاکستان آرڈیننس 1961 کے تحت قائم کیا گیا تھا۔ اس کے قیام کے بعد سے ، بورڈ کے موثر انداز میں چلانے کے لئے متعدد آرڈیننس / ایکٹ موجود تھے۔ بورڈ کے قیام سے پہلے ، سندھ یونیورسٹی سندھ یونیورسٹی ایکٹ 1947 کے تحت میٹرک کے امتحانات کی ذمہ داری سنبھالتی تھی۔ ابتدا میں ، بورڈ کا قیام جنرل پوسٹ آفس،  حیدرآباد کے قریب واقع  ‘میتھرام 

ہاسٹل’ میں کیا گیا تھا۔ ‘ترقی کے دہائی’ (1958-1968) کے عنوان سے بورڈ کی دستاویز کے پیش نظر، بورڈ کے سابق چیئرمین پروفیسر ابراہیم شمیم نے روشنی ڈالی کہ بورڈ کے ملازمین کی اجتماعی کوششوں کی وجہ سے ، بورڈ ایک طاقتور تعلیمی ادارہ کے طور پر ابھرا جس نے فرض کیا کراچی کو چھوڑ کر سندھ کے تمام اضلاع میں سیکنڈری اور انٹرمیڈیٹ سطح پر تعلیم کے معیار کو بہتر بنانے کی ذمہ داری۔ کمیشن برائے قومی تعلیم (1958) نے میٹرک (کلاس X) کے بعد دو سالہ انٹرمیڈیٹ تعلیم (کلاس بارہویں بارہویں) کی سفارش کی اور بورڈ کو سیکنڈری اور انٹرمیڈیٹ کی سطح پر امتحانات کی ذمہ داری سونپی گئی۔ چنانچہ سندھ یونیورسٹی نے سن 1961 میں ڈاکٹر جی.اے کی قیادت میں سیکنڈری اور انٹرمیڈیٹ تعلیم کے امتحانات کے لئے بورڈ کو ذمہ داری سونپ دی۔ جعفری ، بورڈ کے بانی چیئرمین۔ مسٹر اے جی اخوند ، اس وقت کے وزیر قانون و پارلیمانی امور ، حکومت مغربی پاکستان نے 24 فروری 1967 کو اس مقصد سے تعمیر عمارت کا سنگ بنیاد رکھا تھا۔

بورڈ 26 دسمبر 1967 کو اپنی موجودہ عمارت (1.75 ایکڑ) میں منتقل ہوگیا۔ تاہم ، اس عمارت کا باضابطہ افتتاح مسٹر ملک عبد اللطیف خان نے کیا تھا ، جو اس وقت کے سیکرٹری وزارت تعلیم نے 3 ستمبر 1968 کو کیا تھا۔ موجودہ عمارت تین پر مشتمل ہے اضافی سہولیات والی منزلیں جیسے لائبریری ، آڈیٹوریم وغیرہ۔ بورڈ نے طلباء کو کھیلوں کی زیادہ سے زیادہ سہولیات کی فراہمی کے لئے حیدرآباد کے لطیف آباد یونٹ 6 میں اسپورٹس اسٹیڈیم (8 ایکڑ سے زیادہ) تعمیر کیا۔ بورڈ نے رہائش گاہ کو زیادہ سے زیادہ رہائشی سہولیات کی فراہمی کے لئے چیئرپرسن رہائش گاہ بھی بنائی۔ بورڈ نے ملک بھر کے مختلف تعلیمی اداروں کے طلباء کو سالانہ کھیلوں کی سرگرمیوں میں حصہ لینے کے لئے رہائش فراہم کرنے کے لئے یوتھ ہاسٹل بھی تعمیر کیا۔ بورڈ نے اسپورٹس اسٹیڈیم اور یوتھ ہاسٹل کو مزید تجدید کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔ اسکولوں اور کالجوں میں خاطر خواہ توسیع کے ساتھ ، حکومت سندھ نے مزید تین تعلیمی بورڈ بنائے جن میں بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن میرپورخاص ، لاڑکانہ اور سکھر شامل تھے۔ فی الحال ، بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن ، حیدرآباد دس (10) اضلاع میں اپنا ثانوی اور انٹرمیڈیٹ امتحانات منعقد کرتا ہے۔ یہ شامل ہیں؛ حیدرآباد ، جامشورو ، مٹیاری ، دادو ، ٹنڈو الہ یار ، سید بینظیر آباد ، ٹنڈو محمد خان ، ٹھٹھہ ، سجاول اور بدین۔ بورڈ نے سابق طلباء کی ایک بڑی تعداد تیار کی ہے جس میں ماہرین تعلیم ، محققین ، سیاست دان ، سربراہ مملکت ، پارلیمنٹیرینز ، ججز ، وکلاء ، انجینئرز ، سرکاری ملازمین ، سائنس دانوں ، انسانی حقوق کے کارکنوں ، مخیر حضرات ، معاشرتی مصلحین ، شاعروں ، ادیبوں ، اسکالروں ، معاشی ماہرین کو شامل کیا گیا ہے۔ ، مورخین ، آثار قدیمہ کے ماہرین ، معمار ، صنعتکار ، زرعی ماہرین اور دیگر۔

اولین مقصد
نوجوان نسل کو قومی اور عالمی سطح پر مسابقت کے قابل بنانے کے لئے تعلیمی معیار کو بلند کرنے کے لئے اسکول کے امتحانات اور تشخیص کے ذریعہ مطلع کردہ اسکول کے امتحانات اور تشخیص میں ‘سنٹر آف ایکسی لینس’ بننا۔

مشن
منصفانہ ، شفاف اور مستند سیکنڈری اسکول سرٹیفکیٹ (ایس ایس سی) ، ہائر سیکنڈری سرٹیفکیٹ (ایچ ایس سی) اور طلبہ کے سیکھنے کے نتائج کا اندازہ کرنے کے ل other دیگر امتحانات کا انعقاد کرنے کے لئے جو قومی اور عالمی سطح پر اعلیٰ تعلیمی اداروں کے ذریعہ قابل قدر ہیں۔



ادارہ جاتی اصول (کوئسٹ)
معیار:
امتحان اور تعلیم کا معیار ہمارا بنیادی ادارہ ہے۔
انفرادیت:
انفرادیت ہمارے گریجویٹس کی ایک اہم خصوصیت ہے۔

مساوات:
مساوات معاشرتی انصاف کو یقینی بنانے کے لئے ادارہ جاتی پالیسی کا لازمی جزو ہے۔
وظیفہ:

ہم انکوائری ، جدت اور تخلیقی صلاحیتوں کے ذریعہ اپنے فارغ التحصیل افراد میں اسکالرشپ کو فروغ دیتے ہیں۔
ایک ساتھ:
ہم اجتماعی مقصد کے حصول کیلئے تمام اسٹیک ہولڈرز کے مابین یکجہتی کے جذبے کو فروغ دیتے ہیں۔

شہید بے نظیر بھٹو دیوان یونیورسٹی

ایس بی بی ڈی یو یوسف دیوان کمپنیوں کا ایک حصہ ہے،   یونیورسٹی 2013 میں قائم کی گئی،  اسے ہائر ایجوکیشن کمیشن (پاکستان) نے تسلیم کیا

شہید بے نظیر بھٹو دیوان یونیورسٹی (ایس بی بی ڈی یو) – ایک نجی یونیورسٹی ہے جو کراچی ، سندھ ، پاکستان میں واقع ہے۔ یہ یونیورسٹی 2013 میں قائم کی گئی تھی – اسے ہائیر ایجوکیشن کمیشن (پاکستان) نے تسلیم کیا ہے۔ ایس بی بی ڈی یو یوسف دیوان کمپنیوں کا ایک حصہ ہے۔ 
پروگرام
ڈی پی ٹی
پی پی ڈی پی ٹی
بی بی اے
بی کام

بی اے ڈی
بی ایس سی ایس
PharmD
ایم ایس سی ایس
میڈ
ایم بی اے
ایگزیکٹو ایم بی اے
پی ایچ ڈی مینجمنٹ سائنسز
پی ایچ ڈی ہیلتھ مینجمنٹ 

شہید بے نظیر بھٹو دیوان یونیورسٹی کا قیام سندھ ایکٹ نمبر IX 2013 کے ذریعہ یکم مارچ 2013 کو سندھ اسمبلی نے کیا تھا۔ ہائیر ایجوکیشن کمیشن آف پاکستان (ایچ ای سی) نے 2014 میں یونیورسٹی کو ڈگری ایوارڈ دینے والے انسٹی ٹیوٹ کے طور پر تسلیم کیا تھا۔
یونیورسٹی نے جنوری 2015 میں اپنے پہلے کلاس کے طلبا کو داخلہ لیا تھا۔ ایس بی بی دیوان یونیورسٹی کے اساتذہ اب ڈی پی ٹی ، پیرم میں مختلف پروگرام پیش کررہے ہیں۔ ڈی بی بی اے ، ایم بی اے ، اقتصادی اور خزانہ میں بی ایس اور زراعت اور صنعتی اقتصادیات میں بی ایس۔ دیوان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن ، فیشن ڈیزائن میں بیچلر کا چار سالہ ڈگری پروگرام اور فیشن ڈیزائن میں دو سالہ ڈپلومہ پیش کررہا ہے۔ اسٹیٹ بینک دیوان یونیورسٹی کا قیام دیوان محمد یوسف فاروقی نے کیا ، جو مخیر حضرات اور یوسف دیوان کمپنیوں کے چیئرمین ، جو پاکستان کے معروف کاروباری گروپ ہیں۔ دیوان یونیورسٹی اپنے طلباء کو یوسف دیوان کمپنیوں جیسے کہ آٹوموبائل ، سیمنٹ ، ٹیکسٹائل اور شوگر کے دوران اور اس کے بعد کاروباری شعبوں میں انٹرن شپ اور عملی تربیت کے لorm بے حد مواقع فراہم کرتی ہے۔ یہ تربیت ایس بی بی دیوان یونیورسٹی کے طلبا کو پیشہ ورانہ کیریئر شروع کرنے میں دوسروں کے مقابلے میں ایک اہم سمت فراہم کرتی ہے۔



دیوان محمد یوسف فاروقی
چانسلر کا پیغام
دیوان یونیورسٹی میں خوش آمدید

 آپ پاکستان میں اعلیٰ تعلیم کی بحالی کے لئے ایک دلچسپ نئے منصوبے کے آغاز میں ہمارے ساتھ شامل ہو رہے ہیں۔
حالیہ برسوں میں ہمارے بیشتر شہروں میں اعلیٰ تعلیم کے اداروں نے  توسیع کی ہے لیکن اس کے باوجود پاکستان کی بین الاقوامی مسابقت میں کوئی بہتری نہیں آئی ہے کیونکہ ہم ایک کے بعد ایک بین الاقوامی سروے سے سیکھتے ہیں۔
میرے خیال میں ، اس کی ایک بڑی وجہ پاکستان میں تعلیم کے نظام اور کاروبار اور مالیات کی حقیقی دنیا کے مابین ہم آہنگی کا فقدان ہے۔
تعلیمی اور کاروباری شعبے کے مابین فرق کو ختم کرنے کے واضح مقصد کے ساتھ ایس بی بی دیوان یونیورسٹی قائم کی گئی ہے۔ ایس بی بی دیوان 

یونیورسٹی ہاتھی دانت کا ٹاور نہیں ہے۔ ہم ایسے نصاب تیار کرنے کی کوشش کریں گے جو تمام شعبوں میں طب اور انتظامیہ ، طب ، نظم و نسق ، انفارمیٹکس اور معاشرتی علوم میں نظریہ اور عمل کو مربوط بنائے۔
دیوان گروپ انکیوبیشن پروجیکٹس کے ذریعہ اور گروپ کے اندر موجود کمپنیوں کے کام میں حصہ لینے کے ذریعہ دیوان یونیورسٹی کے طلباء کو اپنے ڈگری پروگراموں میں مستقل طور پر حاصل کردہ علم کو بروئے  

کار  لانے کے لئے پرعزم ہے۔ آپ واقعی اپنے کورسز کے دورانحقیقی  دنیا کے مسئلے کو حل کرنے میں حصہ لیں گے۔ دیوان یونیورسٹی کا وژن اکیسویں صدی کی ایک بڑی معاشی طاقت کے طور پر پاکستان کے ابھرنے میں موثر کردار ادا کرنا ہے۔
دیوان یونیورسٹی نے جس اہم سوال کا جواب دیا ہے وہ ہے۔ کیا ہم پاکستان اور معیشت کو جس طرح کی پیشہ ورانہ مہارت کی ضرورت کی تیاری کر رہے ہیں اسی طرح یہ قومی اور عالمی دونوں بازاروں میں وسیع ہوتا ہے۔ اس سوال کے جواب کے لئے تعلیمی پروگرام ڈیزائن کے شعبے میں مثبت طور پر جدت طے کرنا انتہائی ضروری ہے۔ عالمی سطح پر بہترین طریقوں کی نقل تیار کرنا کافی نہیں ہے۔ ایسی پالیسیاں اور حکمت عملی تیار کرنا بھی اتنا ہی ضروری ہے جو پاکستان کے کاروبار اور ہماری معاشی طور پر مجموعی طور پر عملی ضروریات کی عکاسی کرتی ہیں۔
میں دیوان یونیورسٹی میں آپ کا خیرمقدم کرتا ہوں اور اس جدید منصوبے میں آپ کی تخلیقی شرکت کے منتظر ہوں۔

ڈاکٹر محمد اورنگزیب خان
وائس چانسلر کا پیغام

مجھے ایس بی بی دیوان یونیورسٹی میں آپ کا خیرمقدم کرتے ہوئے مجھے بہت خوشی ہوئی ہے ، جو پاکستان میں اعلیٰ تعلیم کو فروغ دینے اور اعلی پیشہ ورانہ معیار کا انسانی سرمائے تیار کرکے ملک کی خدمت کرنے کے 

ہمارے عزم کا مظہر ہے۔ 
مجھے یقین ہے کہ ہماری بین الاقوامی منڈی میں مسابقت کی نمو میں اعلی معیار کے انسانی سرمائے کا فقدان بنیادی رکاوٹ ہے۔ جیسا کہ ہم سب تکلیف سے واقف ہیں کہ پاکستان کئی سالوں سے عالمی معیشت میں کھو رہا ہے۔
دیوان یونیورسٹی کے تعلیمی اور تحقیقی پروگراموں اور انتظامی و تعلیمی طریقوں کو ایچ ای سی کے قواعد کے مطابق سختی سے تیار کیا گیا ہے۔ ہم پہلے چند چھوٹے قدموں سے ایک ہزار میل سفر طے کررہے ہیں۔ جیسا کہ ہم سالوں پر غور کرتے ہیں ، ہم کہہ سکتے ہیں کہ ہم نے صحیح سمت شروع کی تھی۔ ہمارے کوالٹی اشورینس کے طریقہ کار کو یہ یقینی بنانے کے لئے ڈیزائن کیا گیا ہے کہ ہمارے طلباء اعلی پیشہ ورانہ معیار کو حاصل کریں اور مارکیٹ کی ضروریات کو موثر انداز میں پیش کرنے کے اہل ہوں۔ ہم 

معاشرے کے مراعات یافتہ طبقات کے لئے سستی پروگرام پیش کرنے کی ضرورت سے بھی آگاہ ہیں۔ اس طرح ، دیوان ٹرسٹ کے تعاون سے ہم پاکستان کے اعلی تعلیم کے شعبے میں ایک بہت ہی فراغت اور اسکالرشپ پروگرام پیش کرنے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔ جو طلبہ ہمارے میرٹ پر مبنی داخلے کے معیار پر پورا اترتے ہیں ان کو معاشی رکاوٹوں کے لئے ہمارے کسی بھی پروگرام میں داخلے سے انکار نہیں کیا جاتا ہے۔
قابل فہم ، ہم نے ایک دلچسپ اور جدید اقدام شروع کیا ہے جس میں پاکستان کے اعلی تعلیم کے شعبے میں تبدیلی کا کردار ادا کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔
ایس بی بی دیوان یونیورسٹی میں آپ کا خیرمقدم ہے اور میں آپ سب کو کامیابی کی امید کرتا ہوں