سندھ مدرسۃ الاسلام یونیورسٹی






سندھ مدرسۃ الاسلام یونیورسٹی
بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کی مادر علمی
1885 میں حسن علی آفندی نے اس کی بنیاد رکھی 2012 میں
 حکومت سندھ نے اسے یونیورسٹی کا درجہ دیا
ڈاکٹر محمد علی شیخ اس کے موجودہ وائس چانسلر اور حقیقی معنوں میں
 اسے یونیورسٹی کا درجہ دلانے کے مرکزی کردار اور قومی ہیرو ہیں
1885 سے نمایاں درسگاہ کی حیثیت رکھنے والی سندھ مدرسہ الاسلام کو یونیورسٹی کی حیثیت 2012 میں حاصل ہوئی ۔حکومت سندھ نے باقاعدہ  یونیورسٹی کے لیے 2012میں چارٹر دیا ۔اسے جنوبی ایشیا میں سب سے قدیم درسگاہوں میں نمایاں حیثیت حاصل ہے 1885 میں اس کی بنیاد حسن علی آفندی نے رکھی اسے بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کی مادر علمی ہونے کا منفرد اعزاز حاصل ہے قائد اعظم محمد علی جناح نے  یہاں سے میٹرک کیا ۔انگریز راج میں اس مدرسے کے قیام کی حمایت سرسید احمد خان اور سید امیر علی نے بھی کی ۔

 


اس دور میں سندھ اور بلوچستان کے کئی مشہور لوگوں کا یہ اسکول بنا ۔برٹش پبلک اسکول کے بعد سندھ مدرسہ الاسلام 1943 تک ہائی اسکول رہا پھر اسے کالج کا درجہ دیا گیا اور 2012 میں حکومت سندھ نے اسے یونیورسٹی کا چارٹر دے دیا آج یہ ایک سرکاری یونیورسٹی ہے جس کے لیے حکومت باقاعدہ طور پر فراہم کرتی ہے کراچی کے مشہور کاروباری علاقے آئی آئی چندریگر روڈ کے قریب حبیب بینک پلازہ کے عقب میں آٹھ ایکڑ اراضی پر واقع ہے یہ ایک تاریخی عمارت ہے اسے مشہور آرکیٹیکٹ جیمز اسٹریچن نے ڈیزائن کیا تھا سندھ مدرسہ الاسلام یونیورسٹی چار سال کے انڈر گریجویٹ اور دو سال کے ماسٹر ڈگری پروگرام آفر کرتی ہے انتظامیہ موجودہ کیمپس میں 15 منزلہ اکیڈمی ٹاور بنانے کا ارادہ بھی رکھتی ہے اگر یہ کہا جائے کہ موجودہ وائس چانسلر ڈاکٹر محمد علی شیخ سندھ مدرستہ السلام کو کالی سے یونیورسٹی کا درجہ دلانے کے مرکزی کردار ہیں اور ایک قومی ہیرو ہیں تو یہ غلط نہ ہوگا انہوں نے اس عظیم الشان ادارے کی تاریخی عظمت اور حیثیت کو برقرار رکھنے اور اسے ایک عظیم الشان یونیورسٹی کا درجہ دلاکر دنیا کے سامنے اپنے اعلی معیاری تعلیم کی وجہ سے الگ شناخت بنانے میں بے حد محنت کی ہے جس پر وہ یقینی طور پر مبارکباد کے حقدار ہیں ۔





Facebook


Twitter


Google-plus



good hits