بورڈ آف انٹرمیڈیٹ ایجوکیشن کراچی

بورڈ آف انٹرمیڈیٹ ایجوکیشن کراچی کے چیئرمین پروفیسر انعام احمد کہتے ہیں

کسی بھی ملک کی ترقی میں تعلیمی نظام بنیادی اور مرکزی اہمیت رکھتا ہے

خوشحال قوموں  نے اچھے مضبوط تعلیمی نظام کی بدولت ہی ترقی کی ہے






بورڈ آف انٹرمیڈیٹ ایجوکیشن کراچی کو انیس سو چوہتر میں آزاد اور بااختیار ادارے کی حیثیت حاصل ہوئی تھی آج بورڈ کی کنٹرولنگ اتھارٹی صوبے کا منتخب وزیراعلی ہے بورڈ کے چیئرمین کو اپنی سپلائرز یکٹو اور اکیڈمی آفیسر آف بورڈ کے اختیارات حاصل ہوتے ہیں بورڈ کے سیکرٹری کو اکیڈمی اور ایڈمنسٹریٹر کے اختیارات حاصل ہوتے ہیں کنٹرولر آف ایگزامینیشن کو امتحانات کرانے کی ذمہ داریاں دی جاتی ہیں 1974 میں صرف سترہ افسران ہوئے 113 افراد کے عملے کے ساتھ کام کرنے والا وہ گزرنے کے ساتھ ساتھ کام بڑھنے کی وجہ سے 51 افسران اور 246 سے زائد عملے پر مشتمل ہے۔ 

 

بورڈ آف انٹرمیڈیٹ ایجوکیشن کراچی کے موجودہ چیئرمین پروفیسر انعام احمد کا شمار پاکستان کے انتہائی ذہین اور قابل پروفیسرز میں ہوتا ہے انہوں نے چھتیس سال سے زائد عرصہ انٹرمیڈیٹ اور پوسٹ گریجویٹ لیول پر ٹیچینگ میں گزارا وہ ڈائریکٹر آف کالج ایجوکیشن کراچی کے طور پر بھی فرائض انجام دے چکے ہیں وہ انتہائی ذہین قابل باصلاحیت اور محنتی انسان ہیں۔
بورڈ کے چیئرمین کی حیثیت سے پروفیسر رانا محمد کا کہنا ہے کہ کسی بھی ملک کی ترقی میں تعلیمی نظام بنیادی اور مرکزی اہمیت کا حامل ہوتا ہے اگر نظام ناقص اور کرپٹ ہوگا تو وہ بمشکل بہتر نتائج دے سکے گا۔

 

 

 

اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ بطور چیئرمین انہوں نے اس ادارے کو کی قسم کی مشکلات مسائل اور چیلنجوں کے باوجود بہتری اور کامیابی کے راستے پر گامزن کیا ہے ان کے جرات مندانہ اقدامات کے بہتر اور اچھے نتائج سامنے آئے ہیں اور یہ ان کی محنت لگن اور دیانت داری کی بدولت ممکن ہوا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ کسی بھی ملک کی ترقی میں وہاں کا نظام تعلیم بنیادی اور اہم کردار کا حامل ہوتا ہے آج جن ملکوں کے میں ترقی اور خوشحالی نظر آتی ہے ان کو انہوں نے اچھے مضبوط تعلیمی نظام کی بدولت تیز رکھیں حاصل کی ہے پاکستان جیسے ملک میں جہاں شرح خواندگی پہلے ہی کم ہے وہاں سائنس اور ٹیکنالوجی کی تعلیم حاصل کرنے والوں کی تعداد اور بھی کم ہے جب طلبہ کی بنیاد مضبوط ہوگی تو وہ اعلیٰ تعلیم کی طرف جا سکیں گے کامیابی کے لئے تعلیمی نظام کو ہر قسم کی مداخلت سفارش اور دباؤ سے آزاد رکھنا ہوتا ہے ۔