پاکستان کا ڈیگال کون بنے گا؟

پاکستان میں ان دنوں اسلامی صدارتی نظام کے حوالے سے بحث چھڑ چکی ہے نئے صدارتی نظام کی خصوصیات اور اس کی افادیت کے حوالے سے بحث ہو رہی ہے ماضی کے صدارتی نظام و کی ناکامیوں اور نقصانات یادیں بھی تازہ ہو رہی ہیں ان دنوں پاکستان کے ممکنہ نئے صدارتی نظام کے حوالے سے امریکی صدارتی نظام کی بجائے فرانسیسی صدارتی نظام کی حمایت ہو رہی ہے یہ سب کب کیسے کیوں کر ممکن ہوگا یہ تو کوئی نہیں بتاتا البتہ صدارتی نظام کی مخالفت اور حمایت کرنے والے اب آمنے سامنے آ رہے ہیں بلی تھیلے سے باہر آ رہی ہے تو جلد یا بدیر کئی چہرے بے نقاب ہو جائیں گے۔
یہ سوال بھی پوچھا جا رہا ہے کہ پھر پاکستان میں اگر فرانسیسی صدارتی نظام آئے گا تو پاکستان کا ڈیگال کون بنے گا؟

کیا پاکستان میں کوئی ایسا حکمران بن سکتا ہے جو ڈیگال جیسا ہو اپنے مخالف کی رائے کا احترام کرے اور اپنے مخالف کااحترام بھی اپنے اوپر لازم رکھے۔ بظاہر تو یہ خصوصیت ابھی ہمارے حکمرانوں میں نہیں۔

یہ بحث بھی ہو رہی ہے کہ صدارتی نظام کے حامیوں سے یہ سوال کیوں نہیں پوچھا جاتا کہ جب قائداعظم نے خود پارلیمانی نظام متعارف کروایا تو اسے بدلنے والے کیا معمار پاکستان سے بھی بڑا وژن رکھتے ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ جن ملکوں میں سیاسی گھٹن پیدا کر دی جاتی ہے وہاں ڈیگال جیسے حکمران نہیں آتے۔ اگر دے گا جیسے حکمران چاہیے تو پہلے سیاسی مخالفت کا سامنا کرنے اور مخالفانہ رائے سننے کا حوصلہ اپنے اندر پیدا کرنا ہوگا۔

چارلس ڈیگال 1890 میں پیدا ہوئے وہ ایک ملٹری جرنیل تھے جنہوں نے ورلڈ وار سے شہرت حاصل کی اور پھر انیس سو اٹھاون میں فرانس کے صدر بنے اور انیس سو انہتر تک اس پوزیشن پر فائز رہے انیس سو ستر میں ان کا انتقال ہوا۔

 

فرانس کے سابق صدر چارلس ڈی گال

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

Website Protected by Spam Master