آن لائن ٹیکسی سروس اوبر کے ڈرائیور پریشان کیوں؟

ایک طرف حکومت سندھ نے آن لائن ٹیکسی سہولیات فراہم کرنے والی کمپنی اوبر اور کریم کو قانونی دائرہ کار میں لانے کے لیے اقدامات شروع کر رکھے ہیں تو دوسری طرف یہ کمپنیاں خود بھی نئے اقدامات کررہی ہیں جس کی وجہ سے ان کمپنیوں کو اپنی خدمات فراہم کرنے والے ڈرائیور اب پریشانی کا شکار نظر آ رہے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان میں اوبر اور کریم کمپنیوں نے ایک انقلاب برپا کیا ہے لوگوں کو بہترین سفری سہولت میسر آئی ہے جو آرام دہ بھی ہے نسبتا محفوظ بھی ہے اور سستی بھی۔ بالخصوص خواتین کے لئے اور بزرگ شہریوں کے لیے سروس انتہائی مناسب اور مقبول ہے فیملی بھی اس سے استفادہ کررہی ہیں البتہ چھوٹی فیملی کے افراد خوش اور بڑی فیملیوں کے افراد ناراض نظر آتے ہیں کیونکہ اکثر گاڑیوں میں چار سے زائد مسافروں کو بٹھانے سے منع کردیا جاتا ہے۔ کراچی میں تو بڑی گاڑیاں ہی دستیاب ہیں لاہور میں بڑی گاڑیوں کی کمی کی وجہ سے یہ شکایت سامنے آتی ہے کہ وہاں بہت چھوٹی گاڑیاں استعمال کی جاتی ہیں جن میں زیادہ مسافر نہیں بیٹھ سکتے ۔ کچھ عرصہ پہلے ایئرپورٹ پر تین گاڑیوں کے داخلے اور وہاں سے سواریوں کو اٹھانے کے حوالے سے پابندیاں سامنے آئی تھی لیکن پھر یہ مسئلہ بھی حل ہو گیا ۔ حکومت سندھ نے اس حوالے سے سوچ بچار کی کہ کس طرح ان کمپنیوں سے حکومت کو ریونیو حاصل ہو سکتا ہے اس حوالے سے انکار یو کو قانونی دائرہ کار میں لانے کے لیے ایک بل اسمبلی میں منظور کرانے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں۔ محکمہ ٹرانسپورٹ نے اس سلسلے میں ایک سمری تیار کر کے چیف سیکرٹری کے ذریعے وزیراعظم کو ارسال کی تھی ۔ دوسری طرف ان کمپنیوں نے بھی اپنے ڈرائیورز کے لیے بعض اقدامات کئے ہیں جن پر ڈرائیور مشکلات کا شکار ہیں اور غصے میں دکھائی دے رہے ہیں۔ مثال کے طور پر اوبر کی جانب سے کلٹس گاڑی کو گو Go سے تبدیل کرکے منی کیٹیگری میں شامل کیا گیا ہے۔ ڈرائیوروں کو کمپنی کی جانب سے ایک پیغام کے ذریعے آگاہ کیا گیا تھا کہ بہت سی وجوہات کی بنا پر 2017 اور اس کے بعد کئی گاڑیوں کو چھوڑ کر تمام کلٹس گاڑیاں کیٹگری Go سے کیٹگری Mini میں شامل کی جا رہی ہیں اس حوالے سے ڈرائیوروں کو کہنا ہے کہ پہلے ہمیں ایک رائیڈ حاصل کرنے کے لیے پانچ سے چھ کلومیٹر کا سفر نہیں کرنا پڑتا تھا بلکہ تین کلومیٹر کے اندر اندر ہمیں سواریاں مل جاتی تھی کی ڈگری تبدیل ہونے سے اب ہمیں پانچ سے چھ کلو میٹر کا فاصلہ کبر کرنا پڑرہا ہے جس کا مطلب ہے کہ ہمیں زیادہ ایندھن خرچ کرنا پڑتا ہے جب ہم زیادہ پٹرول خرچ کرتے ہیں یا زیادہ سی این جی خرچ کرتے ہیں تو ہماری لاگت بڑھ جاتی ہے اور بچت کام ہو جاتی ہے کمپنی ترجمان کی جانب سے کیٹیگری تبدیل کرنے کی کوئی خاص وجہ بیان نہیں کی گئی اسے کمپنی کا اندرونی معاملہ قرار دیا گیا ہے۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ ان آن لائن سفری سہولیات مہیا کرنے والی کمپنیوں نے زیادہ تر ایسے ڈرائیوروں کی خدمات حاصل کر رکھی ہیں جو نوجوان ہیں اور اپنی پڑھائی کے لیے ڈرائیونگ کرتے ہیں نئے غماد سے ایسے نوجوانوں بالخصوص پڑھائی کرنے والے طلبہ کو نقصان ہونے کا اندیشہ ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

Website Protected by Spam Master