فارما بیورو کی ایگزیکٹیو ڈائریکٹرعائشہ تیمی حق کی جیوے پاکستان ڈاٹ کام سے خصوصی گفتگو۔ ملاقات وحید جنگ

عائشہ  عائشہ تیمی حق فارما بیورو میں ایگزیکٹیو ڈائریکٹر ہیں اور پاکستان میں ادویات کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ اور اس پر ہونے والی تنقید اور اس کی اصل صورتحال پر گہری نظر رکھتی ہیں حقیقت کیا ہے اس حوالے سے انہوں نے جیوے پاکستان ڈاٹ کام کے ساتھ ایک خصوصی گفتگو میں مختلف پہلو پر روشنی ڈالی ۔انہوں نے بتایا کہ فارما بیورو اور پاکستان فارما مینوفیکچرنگ اسوسی ایشن کی جانب سے مشترکہ پریس کانفرنس منعقد کرنے کی بنیادی وجہ یہ وضاحت کرنا ضروری تھی کہ ہماری ادویات ساز کمپنیوں نے کوئی ناجائز فائدہ نہیں اٹھایا نہ ہی کوئی ناجائز کام کیا ہے ۔2001 سےلے کے 2018 تک قیمت میں وہ اضافہ نہیں ہوا تھا جو ہونا چاہیے تھا اس کا حساب کتاب خود حکومت نے لگایا حکومت میں جو ایس آر او جاری کیے اس کے مطابق ہی قیمتوں میں ردوبدل ہوا تھا لیکن میڈیا میں ایک منفی طوفان آگیا اور حکومت اس دباؤ کا شکار ہو گئی پھر ہمارا اس آباد میں حکومت سے رابطہ ہوا اور کچھ ادویات کے بارے میں کمپنیوں نے رضاکارانہ طور پر نو لاس نوپرافٹ کی بنیاد پر فیصلہ کیا گیا ہے کہ عوام کو ریلیف دیا جائے ۔یہ تو سب جانتے ہیں کہ نقصان میں تو کوئی کمپنی نہیں چلائی جا سکتی ڈالر کے مقابلے میں روپے کے ساتھ جو کچھ ہوا ہے اس کی وجہ سے صورت حال سب کے سامنے ہی مشکلات سب کے لئے ہی ادویات ساز کمپنیوں کے لیے بھی ہیں عوام کے لیے بھی ہیں حکومت کے لیے بھی ہیں ۔ہماری کمپنیوں نے 18 سال تک مشکلات کا سامنا کیا ہم سمجھ رہے تھے کہ اب ایسا رو کے مطابق قیمتوں میں ردو بدل کے بعد ہماری مشکلات ختم ہو جائیگی لیکن ہماری مشکلات جوں کی توں ہے۔
ایک سوال پر انہوں نے بتایا ہے کہ اگر انڈسٹری کو حکومت سپورٹ کرے گی پالیسی اچھی بنائی گئی تو ایکسپورٹ مارکیٹ میں ہم لیڈر بن سکتے ہیں جو کمپنیاں یہاں رجسٹر نہیں ہے ان کو رجسٹر کیا جائے جس طرح پڑوسی ملک انڈیا میں کیا گیا ہے اور وہاں 34 ارب ڈالر کے کنٹریکٹ مینوفیکچرنگ ہوئی ہے اگر پاکستان میں بھی یہ کام کر لیا جائے تو پاکستان پانچ سال کے اندر ایک ارب ڈالر تک انڈسٹریل آسکتی ہے اور یہ تو دو ہزار دس کے سروں کا سروے ہے اگر آج-19- 2018 میں یہ عمل درآمد ہو چکا ہوتا تو یہ رقم تین ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہوتی ہے ۔دراصل ہمارے ہاں حکومت اعلان تو کرتی ہیں لیکن جب میڈیاپر کوئی چیز آتی ہے تو پھر اس کے دباؤ کا شکار ہو جاتی ہیں ۔حکومت نے خود حساب کتاب لگایا تھا  مجھے یقین تھا  اور آئندہ قیمت یہی ہونی چاہیے کیونکہ ڈالر 143 پر چلا گیا ہے تو آپ خود سوچئے اور بتائیے کہ انڈسٹری کیا کرے ہر چیز کی لاگت بڑھ گئی ہے اور ہمیں کوالٹی بھی برقرار رکھنی ہے ہم کوالٹی پر کوئی کمپرومائز نہیں کر سکتے یہ زمانہ ہو گا آپ کو یاد ہوگا ادویات کے ساتھ چمچ بھی آیا کرتا تھا وہ چمچ ختم ہوگیا ہے دوائی کی پیکنگ بھی تبدیل ہو گئی اب صرف بوتل آتی ہے کیونکہ ہم جو خرچے کم کر سکتے تھے وہ چمچ اور پیکنگ کے ذریعے کم کر چکے ہیں لیکن دواوٗں کو سیلڈ رکھنا ہے بوتل کو سیل حالت میں رکھیں گے تو ہی وہ اپنی اصل و افادیت برقرار رکھ پائے گی بہت سے پہلو ہیں جن پر حکومت کو غور کرنا چاہیے اور ہمارے ساتھ بیٹھنا چاہیے ۔ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ فارمر بیورو کے ممبران سے شکایت کرتے ہیں اور یونیورسٹی گریجویٹس کے لئے سب سے بڑی گنجائش ہمارے پاس ہی ہے اب آپ سوچیں کہ اس ملک میں 60 فیصد یوتھ ہے اس کو آگے آنا ہے حکومت کو سوچنا چاہیے اور حکومت کو سپورٹ کرنی چاہیے تاکہ انڈسٹری کو فروغ حاصل ہو ۔ روزگار کے مواقع پیدا ہوں ۔ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ حکومت سے بہت توقع ہے کہ یہ مسائل کو سمجھے گی اور بہتر فیصلے کرے گی اور آنے والے دنوں میں صورت حال بہتر ہو گی لیکن اب یہ دوبارہ حکومت کی کورٹ میں چلی گئی ہے ہم pain لے رہے تھے مزید pain لینے کے لیے تیار ہیں.
آخر میں انہوں نے جیوے پاکستان ڈاٹ کام کی جانب سے ادویات کی قیمتوں کے حوالے سے صحیح صورتحال عوام کے سامنے پیش کرنے اور خاص طور پر فارما بیورو کا موقف عوام حکومت کے سامنے رکھنے کی کوشش پر اس کی تعریف کی اور نیک تمناؤں کا اظہار کیا ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

Website Protected by Spam Master