42

سیف فارماسٹیکل کے چیف ایگزیکٹیو محمد فاروق میمن کی جیوے پاکستان سے خصوصی گفتگو. ملاقات وحید جنگ

پاکستان کی فارما انڈسٹری میں سیف فارماسوٹیکل ایک بڑا معتبر نام ہے جس کے چیف ایگزیکٹیو محمد فاروق میمن ہیں آپ نہایت ذہین محنتی کامیاب انسان ہیں خوش لباس خوش گفتار خوش اخلاق شخصیت کے مالک ہیں فارما انڈسٹری کے معاملات پر گہری نظر رکھتے ہیں مسائل کو بخوبی سمجھتے ہیں فارما انڈسٹری کی ترقی اور فروغ کے لیے ان کے پاس اچھی تجاویز ہیں ان کی خواہش ہے کہ فارما انڈسٹری پوری دنیا میں پاکستان کے لیے مزید نیک نامی حاصل کرے اور ایکسپورٹ میں مزید اضافے کی گنجائش ہے حکومت تھوڑا سا متحرک ہوکر اس سے بھرپور فائدہ اٹھائے ۔گزشتہ دنوں جیوے پاکستان ڈاٹ کام سے ایک خصوصی نشست میں انہوں نے جو گفتگو کی وہ قارئین کی دلچسپی کے لیے یہاں پیش خدمت ہے ۔
ادویات کی قیمتوں میں اضافے کا آج کل بہت اشو بنا ہوا ہے اب بتائیے اصل مسئلہ کیا ہے ۔
اس بارے میں محمد فاروق میمن نے کہا کہ…شکریہ وحید جنگ صاحب …آپ تشریف لائے اور اس اہم معاملے پر ہماری آواز عوام اور حکام تک پہنچائیں گے ۔حقیقت یہ ہے کہ ادویات کی قیمتوں میں اضافے کے معاملے کو میڈیا میں بہت منفی انداز سے پیش کیا جا رہا ہے اسی لئے ہمارے ایسوسی ایشن پی پی ایم اے کے چیئرمین زاہد سعید نے پریس کانفرنس میں تفصیلی طور پر تمام واقعات اور حالات بیان کئے ہیں 2002 سے یہ معاملہ چلے آرہے ہیں اور 2015 میں جاکر کچھ ریلیف ملا تھا لیکن وہ بھی دو دن کی زندگی تھی اس کے بعد دوبارہ پرانی صورتحال سامنے آئی تھی ہم وہیں پر کھڑے رہ گئے تھے اور ہماری لاگت بڑھتی جا رہی تھی ہوا کچھ یوں کہ جنرل ادویات کی قیمتوں میں اضافہ 31 دسمبر 2018 کو ہوا اور ہارڈ شپ کیس کا معاملہ بھی دس جنوری 2019 کو ریلیف کی صورت میں سامنے آیا ۔یہ دونوں چیزیں تھوڑے وقفے کے ساتھ تقریبا ایک ساتھ سامنے آئی اس لیے زیادہ ایشو بن گیا ۔قیمتوں کا جو معاملہ ہے اسے سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ہماری 90 فیصد امپورٹ بیسڈانڈسٹری ہے
جب ڈالر کی قیمت بڑھتی ہے تو جو چیزیں ہم نے باہر سے منگوانی ہوتی ہیں وہ خود بہت مہنگی پڑتی ہیں 2010 سے کوئی جنرل پرائز بڑھائی نہیں گئی تھی اب آپ یاد کریں دو ہزار دس منٹ ڈالر نوے سے پچانوے روپے کا تھا آج 2019 میں ڈالر کی قیمت بڑھائی جا رہی تھی تو 138 روپے کا تھا اب تو اس سے بھی زیادہ مہنگا ہوگیا ہے قیمت بڑھ کر بھی ہمارا منافع کم ہی ہوا ہے زیادہ فائدہ نہیں ہوا کیونکہ لاگت بڑھ چکی ہے ہم اپنے منافع میں سے ہی رقم دے رہے ہیں ۔

اس سوال پر کہ کاروباری لاگت بڑھ گئی ہے تو انڈسٹری کو کیسے حالات اور مشکلات کا سامنا ہے ۔محمد فاروق محمد نے کہا کہ فارما انڈسٹری کا ٹیکسٹائل انڈسٹری سے موازنہ نہ کریں ۔وہاں اسٹینڈرز نہیں ہیں وہاں کسٹمرز کی چوائس کے مطابق کوالٹی پر کمپرومائز ہو جاتا ہے فارما انڈسٹری میں کوالٹی پر کمپرومائز نہیں ہو سکتا جب ہم کسی ملک کے لیے کچھ پلان کرتے ہیں تو وہاں سے آل شروع ہونے یا رجسٹریشن ہونے میں ہی دو سال لگ جاتے ہیں اس وقت تک قیمتیں بڑھ جاتی ہیں اس طرح اکثر اوقات ہماری فزیبلیٹی فیل ہو جاتی ہے کوالٹی پر ہم کمپرومائز کر نہیں سکتے اب حکومتی ادوار بیٹ پالیسی دے یا اوپن مارکیٹ دے تاکہ ہم باہر ہونے والی نمائشوں میں اپنی پروڈکٹس کو آسانی سے لے جا سکیں اور وہاں رجسٹریشن ہمارے لیے آسان بنانے میں حکومت مدد کرے ایکسپورٹ بڑھانے میں ہمیں حکومت مدد کرے تو ہماری لاگت نکل آئے گی جو لوکل مارکیٹ میں نہیں نکل پاتی ۔

اس سوال پر کہ ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان کا کیا کردار رہا ہے پہلے تو آپ کے بزنس مین لیڈر تھے ان کے دور میں اور اب کیا کارکردگی ہے ۔محمد فاروق محمد نے کہا کہ رجسٹریشن اگر آسانی سے کرا دی جائے تو وہاں ہمارے سفارت خانے مدد کر کے یہ کردار بہتر طریقے سے ادا کر سکتے ہیں کم از کم ہمارے سفارت خانے اتنا تو کریں کہ چھ مہینے میں رجسٹریشن دلوا دیں وہاں تو دو دو سال لگ جاتے ہیں اب میں آپ کو نائجیریا کی ہی مثال دیتا ہوں جہاں سمپل پروڈکٹ کی قیمت چار ہزار دو سو ڈالر کر دی گئی ہے یہ رجسٹریشن فیس ہے اگر ایک پروڈکٹ پے اتنی فیس ہے تو آپ اندازہ لگائیں ہے جب ہم دس پروڈکٹس رجسٹر کرانے جائیں گے تو دس ملین روپے خرچ ہو جاتے ہیں اس کے بعد مارکیٹنگ پے خرچہ ہوتا ہے اس کے بعد سیل کا مرحلہ آتا ہے اس پر اچھی خاصی بھاری انویسٹمنٹ کرنی پڑتی ہے فارما انڈسٹری پیچھے نہیں ہٹ رہی فارما انڈسٹری نے ہمت کی ہے ان حالات میں بھی ہم لوگ کام کر رہے ہیں ورنہ باقی انڈسٹریاں تو بند ہو رہی ہے پی پی ایم اے کے چیئرمین زاہد سعید بہت متحرک شخص ہیں وزیراعظم سے بھی انہوں نے ملاقات کی ہے حکومت کے ساتھ مل کر انڈسٹری کی بہتری کیلئے کام کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ۔

اس سوال پر کہ نئی حکومت سے کیا توقعات ہیں حکومت کا کردار کیا ہے اور حکومت نے اب تک کیا ریلیف دیا ہے ؟

محمد فاروق محمد نے کہا کہ پچھلی حکومت میں بھی مشکلات تو تھی ڈرگ ایکٹ تبدیل ہوا تھا صوبائی حکومتوں کو معاملہ دے دیے گئے تھے لیکن پھر بھی وہ حکومت آسانی سے ہمارے مسائل کو سمجھ لیتی تھی یہ حکومت ابھی نہیں ہے لوگ پیروکار نہیں ہیں بیوروکریٹس اور وزارت ساتھ ان کی انڈرسٹینڈنگ نہیں ہے اس لیے انڈسٹری کو حکومت کی طرف سے کوئی خاص مدد نہیں مل سکی ہے لیکن ابھی آٹھ نو مہینے ہی ہوئے ہیں ابھی ہم انتظار کریں گے کہ یہ چیزیں بہتر پہلے پچھلی حکومت مسائل کو سمجھ گئی تھی اور وہ مسائل کو حل کرنے کی طرف چل پڑی تھی اب اگر یہ اسی پالیسی کو لے کر چلیں تو اچھا ہے لیکن عام طور پر یہی دیکھا گیا ہے کہ پالیسیاں حکومت کے ساتھ بدل جاتی ہیں لیکن ہم اس حکومت سے اچھی توقعات وابستہ کیے ہوئے ہیں ۔

آخر میں فاروق میمن نے جیوے پاکستان ڈاٹ کام کے پلیٹ فارم سے فارماسٹیکل انڈسٹری کے مسائل کو اجاگر کرنے اور فارما انڈسٹری کی آواز اعلی حکام اور عوام تک پہنچانے پر جیوے پاکستان ڈاٹ کام کا شکریہ ادا کیا اور مستقبل میں جیوے پاکستان ڈاٹ کام کی مزید کامیابی کے لئے نیک تمناؤں کا اظہار کیا ۔




اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں