63

کابینہ کے سب سے مہذب لوگ

دو سابق فوجی ڈکٹیٹر جنرل ضیاء الحق اور جنرل پرویز مشرف کی بھرپور حمایت کے بعد ایم کیو ایم نے جس طرز سیاست کو اپنایا تھا اس کے نتیجے میں کراچی اور حیدر آباد میں آپریشن کلین اپ تک بات جا پہنچی ان آپریشنز کے حوالے سے قدیم کیم کا دعوی ہے کہ بڑی تعداد میں پارٹی کے لوگ مارے گئے اور متعدد تاحال لاپتہ ہیں۔

جنرل ضیاء اور جنرل پرویز مشرف نے جس انداز میں ایم کیو ایم کی تائید اور حمایت کی تھی اس کا ایک مقصد تو سندھ میں پیپلزپارٹی کے سامنے ایک سیاسی فورس کھڑی کرنا تھا دونوں ادوار میں حمایت اتنی بھرپور تھی کے ایم کیو ایم سیاست سے آگے چلی گئی تو پھر اس پر جناح پور بنانے سمیت سندھ کی تقسیم اور دہشت گردی جیسے الزامات کے باعث آپریشن کرنا پڑے نوے کی دہائی میں تو فوجی آپریشن تک کرنا پڑا جب کہ جنرل پرویز مشرف کی حمایت سے ایم کے متنی مضبوط ہوگی کہ بارہ مئی اور 22 اگست کے بغاوت جیسے سانحے تک جا پہنچی۔

اب ایک بار پھر وزیراعظم عمران خان نے ایم کےایم کے جس انداز میں حمایت اور تعریف کی ہے اور انہیں “مہذب ” جیسے القاب سے نوازا ہے ایم کیو ایم نے وزیر اعظم کی بھرپور حمایت کے بعد یہ مطالبہ کر دیا ہے کہ “سندھ کی تقسیم اب ناگزیر ہے “۔یہ اعلان پارٹی کے سب سے “مہذب ” رہنما ڈاکٹر خالد مقبول نے کیا اور یہ مطالبہ بھی کردیا کہ آئین کے آرٹیکل 149 کے تحت وفاق سندھ میں مداخلت کرے ۔جواز یہ بتایا گیا ہے کہ سندھ کی انتظامیہ میں شہری علاقوں سے کوئی افسر تعینات نہیں۔

ایم کیوایم جو ہمیشہ سے اردو بولنے والوں کی رہنمائی کا دعویٰ کرتی ہے یہ بھول گئی کہ اس نے اپنے بیس سالہ دور اقتدار میں کیا کیا تھا۔شہری علاقوں میں نوجوانوں سے قلم چھین کر اسلحہ دینے کی سیاست کون کرتا رہا اب تو اردو بولنے والے نوجوان مقابلے کے امتحان تک ہی نہیں پہنچ پاتے امن امان اور تعلیم کے خلاف معیار کے باعث شہری علاقوں کے نوجوان اب عبرت کی تصویر بن گئے ہیں۔

سیاسی مبصرین کی رائے ہے کہ ایم کیو ایم دوبارہ لسانی سیاست کا آغاز خود کو بچانے کے لئے کر رہی ہے۔
یہ بھی کوئی اہم بات نہیں اہم بات یہ ہے کہ پی ٹی آئی سندھ میں لسانی سیاست کی حمایت کرکے کیا پیغام دے رہی ہے صرف پیپلزپارٹی کی دشمنی ایک صوبہ میں عدم استحکام کو فروغ دینے سے ملک کی کیا خدمت ہوگی۔

سیاسی مبصرین ایم کیو ایم اور پی ٹی آئی کے سندھ پر اس حملے کو دراصل پیپلز پارٹی کی 18 ویں ترمیم کے خلاف شدت اختیار کرتی وہین کو قرار دے رہے ہیں۔

اٹھارویں ترمیم میں مزید ترمیم پر بات ہو سکتی ہے اس کے لیے حالات کو سازگار بنانا حکومت کی ذمہ داری ہے مگر دو اتحادی حکمران جماعتوں نے جو سیاسی راستہ اپنایا ہے اور جس کا اظہار ایم کیو ایم کر رہی ہے اس کا نقصان صرف اور صرف پی ٹی آئی کو ہوسکتا ہے سندھ میں اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد جی ڈی اے نے ایم کےایم کے بیان پر سخت رد عمل کا اظہار کیا ہے ان کا کہنا ہے کہ عمران خان نے ایم کےایم کو ایک بار پھر سیاسی طور پر مضبوط کرنے کی کوشش کی ہے اور سندھ کی تقسیم کے ذمہ دار عمران خان ہوں گے ۔
ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی وزیراعظم عمران خان کی کابینہ میں وفاقی وزیر ہیں اور ایک وفاقی وزیر کی جانب سے سندھ کی تقسیم صرف لسانی بنیادوں پر کرنا انتہائی حیران کن اور آئین کی خلاف ورزی ہے صرف نوکریوں پر افسران کی تعیناتی کی بنیاد پر ایک صوبے کو تقسیم کرنے کا مطالبہ بات بہت آگے نکل جائے گی اور وزیراعظم عمران خان اس کے اصل ذمہ دار ہوں گے۔




اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں