88

غیر معمولی حالات … غیر معمولی اقدام پیپلزپارٹی کو نئے سیاسی بحران کا سامنا

تحریر… طاہر حسن خان

یہ اس وقت کی بات ہے جب سندھ کے وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ تھے انہوں نے پیپلز پارٹی کے ان امیدواروں کو جو ایم کیو ایم کے خلاف 2008 میں الیکشن ٹریبونل میں گئے تھے ان کو چیف منسٹر ہاؤس میں بلایا اور انہیں بتایا کہ پارٹی قیادت آصف علی زرداری کا حکم ہے کہ ایم کیو ایم کے خلاف تمام انتخابی عذرداری واپس لے لی جائیں ۔امیدواروں سے زبردستی دستخط کرائے گئے اور ایم کیو ایم کو سیاسی برتری دلادی گی ۔
کراچی کی ایک کاروباری شخصیت ڈاکٹر مرزا اختیار بیگ سمیت دیگر پانچ قومی اور چار صوبائی اسمبلیوں کے پی پی پی کے امیدواروں نے 2008 کے الیکشن کے بعد الیکشن ٹریبونل سے رجوع کیا ان کا خیال تھا کہ انہیں دھاندلی سے ہرایا گیا ہے جبکہ ان کو غیر سرکاری طور پر جو نتائج موصول ہوئے تھے ان میں وہ کامیاب قرار پائے تھے جبکہ نتائج کا اعلان اس کے۔ برعکس ھوا ۔ٹریبونل میں کاروائی کا آغاز ہوا اور اس بات کے قوی امکانات تھے کہ فیصلہ پیپلز پارٹی کے حق میں آرہا ہے اچانک پارٹی قیادت نے اپنے ان امیدواروں کو حکم دیا کہ وہ قربان دل سے اپنی شکایات واپس لے لیں ۔ایک ایسے موقع پر جب یہ امیدوار کامیاب قرار پانے والے تھے ان کو ایم کیو ایم کے امیدواروں کے خلاف انتخابی عذرداری واپس لینے کا حکم ان امیدواروں پر بم کے گولے کی طرح گرا ۔ان کو بتایا گیا تھا کہ ایم کیو ایم اب پیپلز پارٹی کے ساتھ حکومت میں شامل ہونے جا رہی ہے اور ہم اپنے اتحادیوں کے خلاف عدالتوں میں نہیں جائیں گے۔
پی پی پی پی ایم کیو ایم کے سامنے یہ پہلی دستبرداری تھی اس کے بعد کراچی اور حیدرآباد کے ہر معاملے پر پی پی پی نے ایم کیو ایم کے سامنے دستبردار ہو تی گی ۔اس بات کا بھی فیصلہ کیا گیا کہ ایم کیو ایم کے سامنے ضمنی الیکشن میں بھی پیپلزپارٹی کوئی امیدوار کھڑا نہیں کرے گی ۔اس مکمل سیاسی دستبرداری نے پی پی پی کو کراچی اور حیدر آباد میں شدید سیاسی دھچکا پہنچایا۔

ایم کیو ایم کے خلاف ہونے والے آپریشن کے بعد کراچی اور حیدرآباد میں جو سیاسی خلا پیدا ہوا پیپلز پارٹی اس کو بھی بھرنے میں ناکام رہی نہ ہی پارٹی نے کوئی سنجیدہ کوشش کی ۔2008 کے دست برداری کے فیصلے کے بعد پارٹی قیادت میں جو مایوسی پھیلی تھی وہ آج تک برقرار ہے اب ایک اور سیاسی حملہ پیپلز پارٹی پر ہونے جا رہا ہے وہی ایم کیوایم جس کے لیے پارٹی امیدواروں کو مقدمات واپس لینے کا حکم دیا گیا تھا اس کے خلاف ضمنی الیکشن میں حصہ نہ لینے کا فیصلہ کیا گیا تھا آج وہی ایم کیو ایم پی ٹی آئی کے ساتھ مل کر پیپلز پارٹی کو کراچی سے سیاسی طور پر مکمل باہر کرنے کا پلان بنا رہی ہے جس سیاسی خلا کو پی پی پی نے ایم کیو ایم کے لیے خالی چھوڑا تھا جو پی ٹی آئی نے2013 کے الیکشن میں پڑھ کر دیا ۔اب ایم کیو ایم اور پی ٹی آئی نے مل کر فیصلہ کیا ہے کہ وہ پیپلز پارٹی کو سندھ حکومت سے ہٹانے کے لئے قانون کا سہارا لیں گے ۔ایم کیو ایم کے وفاقی وزیر قانون بیرسٹر فروغ نسیم نے آئین کے تحت پی پی پی حکومت کے خلاف ایکشن لینے کا وزیراعظم عمران خان کو مشورہ بھی دے دیا ہے وزیراعظم کو کہا گیا ہے کہ حالات غیر معمولی ہیں اور غیر معمولی ایکشن کی ضرورت ہے یہی نہیں بلکہ دونوں جماعتوں نے مل کر کراچی سے آئندہ الیکشن لڑنے کا فیصلہ بھی کیا ہے وزیراعظم عمران خان نے تو ایم کیو ایم کو مہذب قرار دیکر کلین چٹ دے دی ہے ۔
دونوں جماعتوں نے جس معاملے پر متحد ہونے اور پیپلزپارٹی کے خلاف ایکشن کی بات کی ہے وہ ہے کراچی کے معاملات یعنی گندگی پانی صفائی انتظامی معاملات سمیت دیگر معاملات میں کراچی کو نظر انداز کرنے کا ایشو بنایا گیا ہے۔
سیاسی حل کے اس معاملے کو پیپلز پارٹی کے خلاف بڑا سیاسی حملہ قرار دے رہے ہیں کہا جارہا ہے کہ غیر معمولی حالات میں غیر معمولی کام ہونے والا ہے۔
آصف علی زرداری نے 2008 میں ایم کیو ایم کے سامنے دست بردار ہو کر جو سیاسی غلطی کی تھی اب اس کے نتائج سامنے آنا شروع ہوگئے ہیں اور اس کی ابتدا سندھ حکومت کے خاتمے سے شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔آئینی اور سیاسی ماہرین اس آئینی اقدام کو اسی طرح کا ایکشن قرار دے رہے ہیں جو سابق وزیراعظم نواز شریف کے دوسرے دور اقتدار میں ان کی جماعت کی سندھ کی تحادی حکومت کے خلاف ہوا تھا اس وقت کے وزیر اعلی لیاقت علی جتوئی کی حکومت کو کراچی میں امن و امان کی بدترین صورتحال کے باعث برطرف کر دیا گیا تھا اور سید غوث علی شاہ کو وزیر اعظم کا معاون خصوصی برائے سندھ بناکر سندھ کے وزیر اعلی کے تمام اختیارات تفویض کیے گئے تھے۔




اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں