34

میڈیا اور ملک کی سلامتی

(رفیق شیخ)

چالیس سال کے بعد ایک بار پھرحکومت میڈیا کے خلاف صف آراہے اور میڈیا میدان عمل میں ہے چالیس سال قبل ملک میں ماشل لا نافز تھا مارشل لا کے ضابطوں کے تحت پریس کا گلا گھونٹا جارہا تھا لیکن آج ملک میں منتخب حکومت ہے ،جمہوری حکومت ہے جس جمہوریت کے لیے پریس نے ماشل لا کاسامنا کیا جیلیں بھی کاٹیں،کوڑے بھی کھائے تھےافسوس آج اسی منتخب اور جمہوری دور میں جس کے لیے جیلیں اور کوڑے کھائے تھے پریس کا پھر گلا نہ صرف گھونٹا بلکہ کاٹاجارہا ہے آج میڈیا کارکنوں کو ماشل لا سے زیادہ خوفناک صورت حال کا سامنا ہے مارشل لا میں تو آزادی اظہار اورجمہوری سوچ پر پابندی لگائی گئی تھی لیکن آج توکارکنوں کا روزگار چھین لیا گیا ہے بظاہر یہ روزگار میڈیا مالکان نے چھینا ہے لیکن اس کا جواز حکومت نے انھیں فراہم کیا ہے مالکان کے کارنوں کے خلاف اقدامات کی بحیثیت ایک حکومت کوئی دادرسی بھی نہیں کی اس سے اس تاثر کو بڑی تقویت ملتی ہے کہ یہ مصنوعی بحران ہے جو میڈیا مالکان اور حکومت نے مل کر کارکنوں کے خلاف پیدا کیاہے
میڈیا مالکان کے خلاف شروع ہونے والی میڈیا کارکنوں کی تحریک کا رخ اب مکمل طور پر حکومت کے خلاف ہوگیا ہے،وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری کے بیانات اور رویے نے میڈیا کارکنوں کو مشتعل کردیا ہے کارکنوں نے شدید رد عمل کا بھی اظہار کیا ہے ملک کے تقریباّ تمام بڑے پریس کلبوں جن میں اسلام آباد پریس کلب،لاہور پریس کلب،کراچی پریس کلب،پشاور پریس کلب اور کوئٹہ پریس کلب سمیت دیگر پریس کلب شامل ہیں نے فواد چوہدری کی پریس کلبوں میں داخلے پر پابندی لگادی ہے سندھ میں کارکنوں نے وفاقی وزرا کی پریس کانفرنسوں کے بائیکاٹ بھی اعلان کرتے ہوئے کراچی اور حیدرآباد میں وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید کی پریس کافرنسوں کا بائیکاٹ کیا۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنسوں میں تنخواہیں نہ دینے اور کارکنوں کی برطرفیاں کرنے والے مختلف چینلز کے مائک ہٹانے کا سلسلہ بھی جاری ہے جدوجہد کو کامیابی سے ہمکنار کرنے لیے جہاں میڈیا کارکنوں نے اپنے درمیان موجود دھڑے بندیوں کو بالائے طاق رکھ کر ایک پلیٹ فارم سے جدوجہد شروع کی ہوئی ہے وہاں ملک کے دیگر محنت کش طبقات اور سول سوسائٹی کو بھی ساتھ ملا کر ایک بڑی جدوجہد کی بنیاد رکھ دی ہے کراچی میں جوائنٹ ورکرز ایکشن کمیٹی تشکیل دی گئی ہے اس جدوجہد نے چالیس سال پہلے کا منظر دوہرادیاہے جب ملک بھر کے محنت کشوں ،ہاریوں اور طلبا نے صحافیوں کے شانہ بشانہ کھڑے ہوکر جیلیں بھری تھیں آج ایسی ہی ایشن کمیٹی کے تحت میڈیا ہائوسز کے باہر احتجاجی دھرنے دیے جارہےہیں دوسرے مرحلے میں ملک گیر دھرنوں کا سلسلہ شروع کرنے کابھی اعلان کیا گیا ہے پورے ملک میں ایک وقت ایسے مقامات پر کیے جائیں گے جس سے ملک میں پہیہ جام ہوسکتا ہے۔انیس سو اٹھتّر کی طرح ضرورت پڑنے پر جیل بھرو تحریک کا آغاز بھی کیا جاسکتا ہے
حکومت کی میڈیا پالیسی جس میں اشتہارات اور اس کے ریٹس میں بڑے پیمانے پر کٹوتی اور اشتہارات کی مد کے بقایاجات کی ادائیگی روکے جانے کا جواز بناکر میڈیا مالکان نےبڑے پیمانے پر کارکنوں کو برطرف کردیا کئی اخبارات بند کر دیے کئی مہینوں سے تنخواہیں نہیں دیں اس کے نتیجے میں میڈیا میں بے روزگاری کا طوفان پیدا ہوگیااور کارکن ایک طرف بے روزگار ہوئے دوسری طرف ان کی کئی کئی ماہ کی تنخواہیں نہیں دی گئیں اس صورت حال میں حکومت کا فرض بنتا ہے کہ وہ کارکنوں کی دادرسی کے لیے آتی اس کے برعکس حکومت کی طرف سےکہا جارہا ہے کہ نوجوان میڈیا کی طرف رخ نہ کریں یہ ختم ہورہاہے،جامعات میں میڈیا ڈیپارٹمنٹ بند کرنے کی باتیں کی جارہی ہیں،یہ سب کچھ وہ حکومت کررہی جو خود میڈیا کے کندھے پر بیٹھ کر آئی ہے
میڈیا جو ملک میں جمہوریت اور مظلوم طبقے کی آواز مانا جاتا ہے کیا اس کا گلا گھوٹنے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے جس کسی نے اگر یہ سوچا ہے تو اسے یہ بھی سوچ لینا چاہیے کہ آج کے گلوبل ولیج میں آپ محدود نہیں رہ سکتے اگر محدود ہونے کی کوشش کی بھی کی تو وجود کو خطرہ ہوجائے گا سعودی عرب جو تقریباّ ایک صدی تک بند معاشرے میں رہا آج گلوبل تقاضوں کے تحت خود کو اومن کررہا ہے۔ پاکستان میں الیکٹرانک میڈیا کے اجرا کا سہرا یوں تو ہر کوئی لیتا ہے جنرل پرویز مشرف سب بڑے دعویدار بنتے ہیں لیکن وہ کھل کر یہ نہیں بتاتے کہ کن حالات میں انھوں نے یہ فیصلہ کیا تھا ۔کارگل کی جنگ سب جانتے اور مانتے ہیں کہ میدان پاکستان نے مار لیا تھا لیکن بھارتی میڈیا خاص طور سے اس کا پرائیویٹ میڈیا آگے آیا اور اس نے دنیا بھر میں پاکستان پر ایسےمیڈیائی حملے کیے جس کا پاکستان کے پاس کوئی توڑ نہیں تھا یوں کامیابی ناکامی میں بدل گئی اس صورتحال نے ریاست کو مجبور کیا کہ وہ بھی پرائیویٹ الیکٹرنک میڈیا کو اجازت دے۔۔لہٰزا جو گلا گھوٹنے کا سوچ رہے ہیں وہ سمجھ لیں کہ نہ تو انڈیا کا رویہ بدلہ ہے نہ مخالفین کی تعداد کم ہوئی ہے تازہ مثال پلوامہ مقبوضہ کشمیر کی ہے بھارت نے خود ایک کارروائی کرکے پورے میڈیا کو پاکستان کے خلاف لگا دیا پاکستانی میڈیا اپنی استعداد کے مطابق اس کا جواب دے رہا ہے سوچنا ہوگا کہ اگر یہ میڈیا نہ ہو تو بھارت دنیا بھر میں ہمیں تنہا کرنے میں دیر نہیں لگائے گا ۔لہّزا یہ سوچ ختم کرنا ہوگی کہ میڈیا کا گلا گھونٹا جائے یا اسے کنٹرول یا اس کی سائز کو کم کیا جائے اس کے برعکس ایک طاقت ور اور محب وطن میڈیا کو پروان چڑھانے کی ضرورت ہے یہ طاقتور اور محب وطن میڈیا کارکن ہی بنا سکتے ہیں اس کے لیے ضروری ہے ایسے تمام اقدامات کی نفی کی جائے جس سے کارکن بد حال ہوں اور ایسے اقدامات کی حوصلہ افزائی کی جائے جس سے کارکن خوشحال ہوں ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں