167

جہانگیر صدیقی کی حیدرآباد سے کراچی آمد کے بعد کاروبار میں اونچی اڑان کی کہانی

پاکستان کے انتہائی کامیاب اور امیر ترین گروپوں میں شامل جے ایس گروپ کے بانی اور روح رواں حیدرآباد سے تعلق رکھنے والے جہانگیر صدیقی ہیں جن کے خاندان نے پاکستان کے اندر اور باہر اپنی ذہانت قابلیت اور صلاحیت کی بدولت خوب دولت اور نام کمایا۔ جہانگیر صدیقی کی بزنس ورلڈ میں اصل اونچی اڑان کراچی منتقل ہونے کے بعد شروع ہوئی جس کے لیے انہوں نے بڑے بڑے خواب دیکھے اور دل لگا کر محنت کی بالآخر قدرت نے مسلسل محنت کا صلہ دیا ۔قسمت کی دیوی کچھ اس طرح مہربان ہوئی کہ وہ مشکلات اور مسائل کو پیچھے چھوڑ کر کامیابی کے گھوڑے پر بیٹھ کر آگے ہی آگے دوڑتے چلے گئے۔ ایک وقت آیا جب ان کا شمار پاکستان کے کامیاب لوگوں میں ہی نہیں بلکہ امیر ترین لوگوں میں بھی کیا جانے لگا۔

کوئی یقین کرے یا نہ کرے یہ وہی جہانگیر صدیقی ہے جس نے اپنا بزنس شروع کرنے کے لئے والد سے چھ ہزار روپے مانگے تو گھر والوں نے وہ بھی دینے سے انکار کردیا ۔پھر ایک مرتبہ والد دو روز کے لیے حیدرآباد سے باہر گئے تو جہانگیر کو موقع مل گیا پرانی گاڑی کباڑیے کو بیچ دی۔ مزید رقم کا بندوبست کرنے کے لئے گھر میں پڑی گندم کی 30بور یا بھی بے چین اس کے بعد رقم کی ضرورت پڑی تو کوئلہ بھی بیچ دیا ۔یوں اپنے خواب سچے کرنے کا سفر شروع ہوا ۔

ایسے بھی لوگ ہیں جنہوں نے جہانگیر کو پرانی کتابیں بیچتے دیکھا۔ بزنس کی تو نے ایسی سوار ہوئی کے پڑھائی سے جی چرانے لگے۔ انٹر کے امتحان میں فیل ہو گئے۔ ڈانٹ پڑی اور والد کے کہنے پر دوبارہ سپلیمنٹری میں بیٹھے اور کامیابی حاصل کی۔ پڑھائی کی اہمیت سمجھائی تو پھر خوب دل لگا کر پڑھا اور چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ بن گئے۔ کراچی آئے اسٹاک ایکسچینج کے بزنس کو روزانہ کراچی سٹاک جاکر سمجھنا شروع کیا اور ایسا سمجھا کہ اپنی کمپنی بنائی پھر پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔

انیس سو ساٹھ ہزار 971 طرح کے جدوجہد کی کہانی تھی لیکن پرانی گاڑی کباڑیوں کو بیچنے والے جہانگیر نے برینڈ نیو گاڑی پہلے سال ہی خرید لی تھی جس پر گھر والے اور والے بہت خوش تھے۔

مشرقی پاکستان بھارت سے جنگ کے بعد بنگلہ دیش بن گیا تو اسٹاف کا کاروبار بھی مندی میں چلا گیا کئی دن تک تو اسٹاک مارکیٹ بند رہیں جہانگیر کو بڑا جھٹکا لگا لیکن ہمت نہیں ہاری۔ خرچہ پورا نہیں ہو رہا تھا تو گاڑی گھر پر کھڑی کردی ملازم کی موٹر سائیکل پر اس کے پیچھے بیٹھ کر دفتر جانے لگے مہینے کا دو سو روپے کا پیٹرول بچا کر گزارا کیا۔ ………. جاری ہے

اگلی قسط پڑھنے کے لئے وزٹ کرتے رہیں جیوے پاکستان ڈاٹ کام ۔




اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں