کھانے پینے کی غیر معیاری اشیا اور صفائی ستھرائی کے ناقص اور غیر تسلی بخش انتظامات کے خلاف سندھ فوڈ اتھارٹی کا کریک ڈاؤن جاری

سندھ فوڈ اتھارٹی نے 46 لاکھ روپے کے جرمانے کئے (جیوے پاکستان سپیشل رپورٹ)

سندھ فوڈ اتھارٹی ایکٹ 2016 کے تحت اپریل 2018 میں سندھ فوڈ اتھارٹی نے صوبے بھر میں قیام کے بعد اپنا کام شروع کیا اور 16 مختلف کیٹیگریز میں صورتحال کو بہتر بنانے کے لئے سندھ فوڈ اتھارٹی کی جانب سے مجموعی طور پر اب تک چھ ہزار 395 لیٹرز جاری کیے گئے جن میں سرکاری اسپتالوں کی کینٹین میڈیکل کالجز کی کینٹین ۔برف بنانے والی فیکٹریاں ۔ریسٹورنٹس ۔سوءیٹس بیکرز نمکو کیٹرنگ پکوان سینٹر بال پروڈیوسر ملک ہول سیلرز ۔ملک ریٹیلر شاپ مٹن بیف چکن ۔سلاٹر ہاؤس ۔بوتل ڈرنکنگ واٹر منرل واٹر کمپنیاں ۔کھلا گھی اور کوکنگ آئل ۔پیک ملک کمپنیز اور ان کے علاوہ ڈیپارٹمنٹل ہو جنرل سٹور شامل ہیں جن کو نوٹس بھیجے گئے ۔یہ مشہور کمپنی اور برانڈز کے سیمپل حاصل کیے گئے ان میں haleeb کے 9 سیمپل ….شکر گنج کے 11 اینگرو کے 5 فوجی کے دو مہران کے 24 ڈے فریش کے نو اور نیسلے کے موسم پر شامل ہیں ۔۔عدالتی احکامات کے تحت بھی مختلف کمپنیوں سے ایم پلاسل کیے گئے بیوریجز اور پانی بنانے والی کمپنیوں کے 97 سمپلز جمع کیے گئے ۔

جیوے پاکستان ڈاٹ کام کی اسپیشل رپورٹ کے مطابق سندھ فوڈ اتھارٹی پچھلے ایک سال میں مجموعی طور پر ایک سو پانچ یونٹس کو غیر تسلی بخش علت میں پائے جانے کے بعد سیل کردیا جن میں کنفیکشنری کے 7۔۔۔نمکو کے دو سویٹس کے چھ آئسکریم کا ایک چاکلیٹ بنانے والی کمپنی ایک …ڈرنکنگ واٹر بوتل کمپنی 6۔۔۔۔ریسٹورنٹس 28۔۔۔۔۔کیچن بنانے والی کمپنیاں 2000 بنانے والی کمپنیاں پانچ کھویا بنانے والی 10 کمپنیاں شامل ہیں ۔۔۔۔

جیوے پاکستان ڈاٹ کام کی سپیشل رپورٹ کے مطابق گذشتہ ایک برس میں سندھ فوڈ اتھارٹی نے مجموعی طور پر چھیالیس لاکھ روپے سے زائد کے جرمانے عائد کیے اور یہ رقم سرکاری خزانے میں جمع ہوئی جن میں سب سے زیادہ ریسٹورنٹس پر 26 لاکھ روپے ۔بکریوں سویٹ پر آٹھ لاکھ 50 ہزار روپے ۔کنفیکشنر ایک سو ایک لاکھ بیس ہزار روپے ڈرنکنگ واٹر موٹر کمپنیوں پر دو لاکھ 85 ہزار روپے ۔اچار بنانے والی کمپنی پر 50ہزار روپے ۔۔۔نمایاں ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

Website Protected by Spam Master