77

سرفراز احمد – جب ظلم بڑھے گا تو انصاف کروگے ۔ تحریر خورشید علی شیخ

سفارش، اقرباء پروری، سیاست اور عصبیت کا زہر اس ملک کی ترقی کیلئے سم قاتل ہے. خصوصاً سیاست اور عصبیت کے ناگ ہر شعبہ ہائے زندگی میں سر اٹھائے کھڑے ہیں. سیاست اور عصبیت نے خاص طور پر کھیلوں کی ترقی کو بریک لگایا ہے. چاہیے قومی کھیل ہاکی ہو یا کرکٹ اس زہر ہے ان کھیلوں کی ترقی و

ترویج کو بریک سا لگادیا ہے جس کی زندہ مثال قومی کرکٹ ٹیم کے کپتان سرفراز احمد ہیں جن کیلئے مشہور ہے کہ سرفراز کبھی دھوکہ نہیں دیتا. انڈر 19 ورلڈ کپ ہو یا چیمپئنز ٹرافی یا حالیہ PSL ہر جگہ اس کھلاڑی نے اپنی خداداد صلاحیتوں اور کارکردگی سے نہ صرف ٹیم کو سرفراز کیا بلکہ دنیا بھر میں ملک کا نام روشن کیا. مگر جواب میں سرفراز کی راہ میں صرف کانٹے ہی بوئے گئے. سرفراز کا قصور صرف اتنا ہے کہ اس کا تعلق کراچی سے ہے اس لئے وہ ارباب اقتدار کی آنکھوں میں کھٹکتا ہے اور ان کا بس نہیں چلتا کہ وہ انہیں کپتانی سے ہٹا کر کسی نااہل اور سفارشی کو ٹیم کا کپتان مقرر کر دیں مگر ہر بار سرفراز کی بہترین کارکردگی آڑے آجاتی ہے. مگر آج بھی انکی کوششیں جاری ہیں اور یہ نام نہاد ارباب اقتدار اس کانٹے کو اپنی راہ سے ہٹانے کے لیے کوشاں ہیں. ساؤتھ افریقہ میں وکٹوں کے پیچھے ایک واقعہ مخالفین کے لیے راحت کا ایک پیغام لا یا اور وہ سب سرفراز کی اس ملک کیلئے خدمات فراموش کر کے اسے ٹیم سے نکالنے کے درپے ہو گئے. حالانکہ ICC نے سرفراز پر چار میچوں کی پابندی عائد کر دی مگر انہیں تشفی نہ ہوئی. پہلے توPCB ورلڈ کپ کے لئے سرفراز کی کپتانی کا اعلان کر نے میں لیت و لعل سے کام لیتی رہی مگر شدید عوامی ردعمل سے بچنے کیلئے سرفراز کو صرف ورلڈ کپ کے لئے کپتان مقرر کیا گیا مگر حیرت انگیز طور پر انہیں ورلڈ کپ سے قبل ہونے والے آسٹریلیا کے دورے کی کپتانی سے یہ کہہ کر محروم کر دیا کہ انہیں آرام کی ضرورت ہے. اس فیصلے کو نام نہاد اور PCB کے خرچے پر پلنے والے صحافیوں، اینکرز اور متعصب موجودہ اور سابق کھلاڑیوں نے سراہا اور اس فیصلے کو صحیح ثابت کرنے کے لیے PCB کی تعریف میں رطب اللسان ہو گئے. کچھ نے تو سرفراز کی خامیاں گنوانے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا. تعصب کی انتہا تو یہ ہے کہ سرفراز کو پریس کانفرنس سے بھی روک دیا گیا اور اپنی طرف سے ایک بیان جاری کردیا گیا. سرفراز احمد کے نام کا خوف PCB کے ارباب اقتدار کے سر پر اتنا سوار ہو چکا تھا کہ PLS کے کراچی میں انعقاد کے موقع پر ہونے والی کپتانوں کی پریس کانفرنس میں سرفراز کو شامل نہیں کیا گیا بلکہ ان کی جگہ کوئٹہ گلیڈئیٹر کے مینیجر معین خان نے پریس کانفرنس کی جس پر PCB کی جگ ہنسائی بھی ہوئی. مگر سرفراز نے ان سب سازشوں اور ریشہ دوانیوں سے ہٹ کر اپنی بھرپور توجہ PSL پر مرکوز رکھی اور اپنی صلاحیتوں سے مخالفین کو منہ توڑ جواب دینے کی ٹھانی. کہتے ہیں ﷲ تعالیٰ جب کسی کو عزت سے سرفراز کرتا ہے تو وہ شخص تمام رکاوٹیں عبور کر کے کامیابی کے منازل طے کر تا ہے. کوئٹہ گلیڈئیٹر کامیابیوں کے منازل طے کر تے کرتے بالآخر فائنل فور میں پہنچ گئی. سرفراز احمد نے شاندار قائدانہ صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا پہلے تو ٹیم کو فائنل میں پہنچایا اور پھر فائنل میں اپنی شاندار قائدانہ صلاحیتوں سے ناقدین کو ششدر کر دیا اور مخالف ٹیم کو اپنے داؤ پیچ میں گھیر کر آؤٹ کلاس کر کے شاندار فتح حاصل کی اور فاخرانہ انداز میں میدان میں ہزاروں کے کراؤڈ میں ٹرافی بلند کی اور اپنے ناقدین اور بدخواہوں کو اپنی قائدانہ صلاحیتوں کے مظاہرے سے کرارا جواب دیا مگر یہ سازشی اور مفادپرست عناصر اپنی گھٹیا حرکتوں سے باز نہیں آئے اور اس وقت ساری قوم شدید غم وغصے میں نظر آئی جب PCB نے ایک مرتبہ پھر اپنی آنکھوں پر تعصب اور سیاست کی عینک چڑھا کرPSL بسٹ الیون کا اعلان کیا اور حسب توقع ایک بار پھر کوئٹہ گلیڈئیٹر کو چیمپئن بنانے والے عظیم کپتان اس الیون میں اپنی جگہ نہیں بنا سکے اور حیرت انگیز طور پر PSL میں بدترین شکست کھانے والی ٹیم لاہور قلندر کے کپتان کو بسٹ الیون کا کپتان مقرر کر دیا گیا اور چیمپئن ٹیم سے صرف ایک ہی کھلاڑی اس الیون میں جگہ بنا سکا. یہ ایک لمحہ فکریہ ہے کہ ارباب اقتدار کب تک کراچی کے نوجوانوں اور کھلاڑیوں کو صحت مندانہ سرگرمیوں سے محروم رکھیں گے اور کس حد تک انہیں اپنی عصبیت کی بھینٹ چڑھائیں گے. واضح رہے کہ کپتانی کا یہ تاج کسی کی نوازشات کا ثمر نہیں یہ کوئی احسان ہے بلکہ یہ تو سرفراز کی خداداد صلاحیتوں کا ثمر تھا جس نے پاکستان کو دنیا بھر کے کرکٹ میدانوں میں نئی شناخت دی. خدارا اب تو اُس ملک پر رحم کریں سب کو پاکستانی سمجھیں اور جو جس کا مقام ہے اسے دیں اور اپنی آنکھوں سے عصبیت کی عینک اتاریں. ختم شد.




اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں