23

پاکستانی کینیڈین شہری شبیر احمد کی اہلیہ ریحانہ شبیر پر آغا خان اسپتال کراچی میں کیا گزری؟

پاکستانی کینیڈین شہری شبیراحمد اور ان کی اہلیہ ریحانہ شبیر آنکھوں میں بہت سے خواب سجائے کراچی کے علاقے شاہ فیصل کالونی میں واپس آئے تھے طبیعت بگڑنے پر ان کی اہلیہ ریحانا شبیر کو شوکت میموریل فوجی اسپتال شاہ فیصل کالونی اور پھر آغا خان ہسپتال میں داخل کیا گیا ۔جہاں کافی علاج کے بعد ان کی موت واقع ہو گئی شبیر احمد رنگی فیملی اس کا ذمہ دار اور خان ہسپتال کے عملے اور ڈاکٹروں کو قرار دیتے ہیں اور ان کا موقف ہے کہ آغا خان ہسپتال کی انتظامیہ نے جان بوجھ کر ان کے مریض کی حالت بنائیں رون سے لاکھ روپے بٹورے کے مجموعی طور پر 43 لاکھ روپے جبکہ ڈیڈ باڈی دینے کے لیے تیرہ لاکھ روپے دیئےگئے ۔


شبیر احمد نے اپنے ویڈیو پیغام میں ساری صورتحال بیان کی ہے اور آغا خان اسپتال انتظامیہ پر سنگین الزامات عائد کیے ہیں خاص طور پر انہوں نے کینیڈا امریکہ اور یورپ میں رہنے والے اورسیز پاکستانیوں کو اس صورتحال سے کیا ہے اور اس خیال کا اظہار کیا ہے کہ آغا خان ہسپتال انتظامیہ بیرون ملک سے آنے والے مریضوں کے لواحقین سے بہت سا پیسہ وصول کرتی ہے اور مریضوں کو ایسی حالت میں پہنچادیا جاتا ہے کہ وہاں سے ان کا زندہ واپس جانا مشکل ہو جاتا ہے ۔جبکہ ان کی فیملی اور لواحقین بے بسی کی تصویر بنے رہتے ہیں اور صرف لاکھوں روپے بل کی ادائیگی کرنے میں مصروف رہتے ہیں یہاں تک کہ مریض کی موت واقع ہو جاتی ہے اور اس کی لاش وصول کرنے کے لئے بھی لاکھوں روپے کے واجبات ادا کرنے پڑتے ہیں اس کے بغیر لاش نہیں دی جاتی ۔۔۔۔۔۔شبیر احمد کی ویڈیو بھی موجود ہے اس حوالے سے آغا خان ہسپتال انتظامیہ سے رابطہ کیا گیا تو ان کا کوئی موقف سامنے نہیں آسکا ۔آغا ہسپتال کے موقف کے لئے جب پاکستان ڈاٹ کام کا یہ پلیٹ فارم دستیاب ہے کہ آغا خان اسپتال انتظامیہ کے ترجمان جب چاہیں اپنا موقف دے سکتے ہیں ۔

کیٹاگری میں : Home

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں