12

حزب اختلاف کی جماعتوں کا اسمبلی اجلاس کے دو دن بائیکاٹ کرنے کا اعلان

کراچی – سندھ اسمبلی کی حزب اختلاف کی جماعتوں نے اسمبلی اجلاس کا دو دن بائیکاٹ کرنے کا اعلان کر دیا ہے اورکہا ہے کہ اپوزیشن کو اسمبلی میں بات کرنے کی اجازت نہیں ہے اسمبلی میں اپوزیشن اراکین کیے مائیک بند رکھے جاتے ہیں،اسپیکر کے ریمانڈ کی وجہ سے اجلاس کو لمبے عرصے کے لئے چلایا جارہا ہے،حکومت اسمبلی کے تقدس کو خراب کر رہی ہے،مطالبات پورے ہونے تک اپوزیشن کسی کمیٹی کا حصہ نہیں بنے گی۔ان خیالات کا اظہارسندھ اسمبلی میں قائد حزب اختلاف فردوس شمیم نقوی اوراپوزیشن جماعتوں کے پارلیمانی لیڈرز نے مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ سندھ اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر فردوس شمیم نقوی کا کہنا ہے کہ سندھ کا ہرشہر ہر محلہ اس بات کی گواہی دے رہا ہے کہ عوام کا پیسہ عوام پر نہیں لگا۔انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتوں نے احتجاجاً اگلے دو روز اجلاس میں شریک نہ ہونے کا فیصلہ کیا ہے یہ احتجاج مطالبات پورے ہونے تک جاری رہے گا،احتجاج ہاؤس کے اندر بھی ہوسکتا ہے، مطالبات پورے ہونے تک اپوزیشن کسی کمیٹی کا حصہ نہیں بنے گی۔ انہوں نے کہاکہ ہم زیادہ نہیں مانگ رہے جو پیپلزپارٹی نے وفاق میں مانگا اتنا سندھ میں دیا جائے،پاپا پپو اورپھپھو کی چلنے نہیں دیں گے،اب تو چپو بھی آگے ہے،ایک چچا بھی سامنے آیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ کالی پٹی باندھ کر ،منہ پر پٹی باندھ کربھی اجلاس میں جائیں گے،بلاول کی انگریزی سے کوئی فرق نہیں پڑتا،ہمارے شاہ محمود قریشی کی اردو اقوامتحدہ میں ان کے انگریزی بولنے والے وزیرخارجہ سے زیادہ بہتر ہے۔اس موقع پر ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما خواجہ اظہار الحسن نے کہا کہ روزانہ لاکھوں روپےعوام کےضائع کیے جارہے ہیں، اسمبلی میں سندھ کے مسائل حل نہیں ہو رہے۔انہوں نے سوال کیا کہ کیا اپوزیشن کو اسمبلی میں بات کرنے کی اجازت نہیں،،؟ حکومت اسمبلی کے تقدس کو خراب کر رہی ہے، جبکہ ہم عوامی مسائل اجاگر کر رہے ہیں۔خواجہ اظہار الحسن نے کہا کہ جماعت اسلامی اور ٹی ایل پی کا مؤقف ہم سے مختلف نہیں، یہ دونوں جماعتیں بھی اپوزیشن کا حصہ ہیں،65 اراکین ہیں اپوزیشن کے ،ٹی ایل پی اورجماعت اسلامی کو اپوزیشن کا حصہ سمجھتے ہیں،ان دوستوں کو جلد پتہ چل جائیگا کہ حکومت ان کے ساتھ کیا گیم کھیل رہی ہے،حکومت ہمیں لڑوارہی ہے،اسیمبلی میں عوام کے لئے کچھ نہیں ہے۔ انہوں نے کہاکہ ڈیڈھ سوسے زائد توجہ دلائو نوٹس دیئے گئےکئی اہم ،سوالات کئے گئے مگر،وزراء نے تسلی بخش جواب نہ دیا،ہمارا مقصد صرف پی اے سی اورکمیٹیاں بنانے کا صرف یہ ہے کہ حکومت کوراہ راست پر لائیں،وزیراعلی سندھ جواب دیں سی اوڈی ایم کیوایم سے مل کر حکومت نہ بنانے پر کیا کہا،زرداری یوسف رضاگیلانی کو ہم نے ووٹ نہیں دیئے،رحمان ملک ہمارے ووٹوں سے سینیٹر نہیں بنے،رضاربانی ہمارے ووٹ سے چیئرمین نہیں بنا تھا۔ انہوں نے کہاکہ میں اسمبلی آتا ہوں ہمارے پاس عوام کو دینے کے لئے کچھ نہیں۔ انہوں نے کہاکہ ستردن میں آٹھ مسئلے بھی حل نہیں ہوئے،اسمبلی حکومت کی اوطاق بنی ہوئی ہے،شہریارمہرمجھ سے پہلے اپوزیشن لیڈر تھےاس وقت سے پیپلزپارٹی کا یہی حال ہے۔کنور نوید جمیل نے کہا کہ ہم نے اسمبلی کے 80 دنوں میں بار بار اپنا مؤقف دیا،اسمبلی کے اجلاس کو عوام کے مفاد کے لیے چلنا چاہئیے لیکن ایسا نہیں ہے، ہمارے پاس یہی آپشن تھا کہ ہم صدائے احتجاج بلند کریں۔ْ انہوں نے کہاکہ پہلی مرتبہ اسپیکر پر بھی مقدمات بنے،وزراء اراکین گرفتار ہوئے،وزیراعلی پر بھی الزامات ہیں،اس لئے حکومت پی اے سی کی چیئرمین شپ لینا چاہتی ہے،حکومت پی اے سی کی چیئرمین شپ اپوزیشن کو نہیں دے رہی ہے کیونکہ وہ کرپشن پر پردہ ڈالنا چاہتی ہےاسیمبلی میں اپوزیشن اراکین کیے مائیک بند رکھے جات…

کیٹاگری میں : Home

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں