95

آفتاب میمن کی گرفتاری ۔۔۔۔ کیا محمد علی شاہ وعدہ معاف گواہ بننے پر تیار؟

ممبر لینڈ یوٹیلائزیشن حکومت سندھ آفتاب میمن کی نیب کے ہاتھوں گرفتاری نے سرکاری افسران کے ہوش اڑا دیے۔ گرفتاری نیب راولپنڈی کے ہاتھوں عمل میں آئی۔ کراچی کے افسران جب راولپنڈی میں پکڑے جاتے ہیں تو ڈر لگتا ہے کہ بہت جلد باقی لوگوں کے نام بھی اگل دیں گے اس لئے ساتھی افسران پریشان ہو کر ایک دوسرے سے پوچھتے رہتے ہیں کہ اب کیا ہوگا کہیں وہ ہمارا نام تو نہیں لے گا۔ ۔نیب اسلام آباد سے ہی اطلاعات آ رہی ہیں کہ سابق ڈپٹی کمشنر ملیر محمد علی شاہ کو بھی مہمان بنایا گیا ان کو وعدہ معاف گواہ بنانے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں کیا وہ تیار ہو گئے۔ اس بارے میں افواہیں تو گردش کررہی ہے لیکن صحیح اندازہ جلد ہوجائے گا۔ اسپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی کی اسلام آباد میں گرفتاری کے بعد۔ ممبر لینڈ یوٹیلائزیشن آفتاب میمن کی اسلام آباد میں ہونے والی گرفتاری نے حکومت سندھ کے لیے تشویش کی نئی لہر دوڑا دی ہے زمینوں کی الاٹمنٹ ہویا بندربانٹ۔ حکومت سندھ کی موجودہ اور سابقہ نامور سیاسی شخصیات اس معاملے کی لپیٹ میں آ سکتی ہیں اور معاملہ صرف کراچی یا لاڑکانہ تک محدود نہیں رہے گا بلکہ نوابشاہ بھی جائے گا۔ آنے والے دنوں میں مزید گرفتاریوں کا امکان ہے۔ آفتاب میمن کے پاس بہت سے راز ہیں متعدد فائلیں ہیں جن پر کیا ہم لوگوں کے نام ہیں یا ان کے دستخط ہیں نیب میں آنے کے بعد آفتاب میمن کے سامنے سادہ کاغذ رکھ دیے گئے انہیں چوائس دی گئی کہ وہ خود اپنی مرضی سے لکھنا چاہیں گے یا پھر بعد میں ان کے سامنے کاغذات رکھے جائیں۔ بہتر ہے کہ وہ خود نام اگلنا شروع کر دی کہ انہوں نے کس کس کے کہنے پر کیا کیا گل کھلائے. کہاں کہاں سرکاری اختیارات کا ناجائز استعمال کیا اور سرکاری خزانے کو بھاری نقصان پہنچایا۔ کون کون ان کی سرپرستی کرتا رہا اور کس کس کے ذمے پیغام رسانی کا کام تھا۔ معاملہ صرف آفتاب میمن کے پوسٹنگز اور ان کے دور میں ہونے والے فیصلوں تک محدود نہیں۔ بلکہ معاملہ جعلی بینک اکاؤنٹس اور منی لانڈرنگ کی طرف بھی جا رہا ہے. جو لوگ آفتاب میمن اور ان کے والد اور پورے خاندان کو جانتے ہیں وہ گواہی دیتے ہیں کہ یہ خاندان ایک نیک اور بھلے مانس خاندان شمار ہوتا رہا ہے۔ آفتاب میمن کے والد ضیا الحق کے دور میں ڈپٹی کمشنر لاڑکانہ سمیت مختلف عہدوں پر فائز رہے اور انہوں نے لوگوں کے ساتھ اچھا برتاؤ کیا اس لیے سندھ کے لوگ ان کو یاد کرتے ہیں۔ لیکن یہ بھی سچ ہے کہ آفتاب میمن اپنے والد کی خوبیوں کو آگے نہیں بڑھا سکے ان کی شخصیت مختلف ثابت ہوئی اگرچہ وہ لوگوں کے ساتھ بڑی عزت اور احترام سے پیش آتے خلوص اور محبت سے بات کرتے سادگی اختیار رکھتے اور خندہ پیشانی سے پیش آتے ہیں لیکن یہ معاملات میں وہ پھنس گئے ہیں ان کی مشکلات آنے والے دنوں میں بڑھ تو سکتی ہیں کم ہوتی نظر نہیں آ رہی پھر بھی ان کے یاد دوست دعا گو ہیں کہ اللہ تعالی ان کو ان مشکلات سے جلد از جلد باہر نکالے۔ سندھ کے ایک اور سینئر ریٹائرڈ افسر جو آفتاب میمن کے خاندان ہیں وہ اور ان کے خاندان کو بھی ایسے معاملات میں بڑی پریشانی اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے کیونکہ لوگ غلط فہمی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ آنے والے دنوں میں محمد علی شاہ جو سابق ڈپٹی کمشنر ملیر تھے ان کا کردار زیادہ اہم نظر آنے لگا ہے بورڈ آف ریونیو اور زین بگٹی لائزیشن کے مزید جونیئر ملازمین بھی خوفزدہ ہیں سیاسی شخصیات بھی پریشان ہیں جو لوگ آفتاب میمن کے ذریعے کام لیتے رہے انہیں ڈر ہے کہ کہیں آفتاب میمن ان کا نام اگل نہ دے ۔اور اگلی باری ان کی نہ ہو۔ نیب ذرائع کا کہنا ہے کہ مارچ اور اپریل کے مہینوں میں بڑی بڑی خبریں ملیں گی.

کیٹاگری میں : Home

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں