62

سرفراز احمد کا مستقبل – ایک سوالیہ نشان

تحریر خورشید علی شیخ

جب ہم 54 نمبر کی گرین شرٹ پہنے ایک اسٹار کرکٹر کو دیکھتے ہیں تو ہمارے ذہن میں ایک ایسے کھلاڑی کا تصور ابھر آتا ہے جس نے پاکستان کیلئے بیش بہا کارہائے نمایاں انجام دیئے مگر وہ ہمیشہ اپنے نام نہاد مخالفین کی نشتر زنی کا شکار رہا اور یہ نام نہاد مخالفین ہر دور میں اپنی بعض و عناد کا زہر اس پاکستانی

سپوت کی کردار کشی اور الزام تراشی میں صدقہ جاریہ سمجھ کر اچھالتے رہے. جی ہاں اس عظیم کھلاڑی کا نام سرفراز احمد ہے جو کہ اس وقت پاکستان کرکٹ ٹیم کے تینوں فارمیٹ یعنی ٹیسٹ، ون ڈے اور T20کے کپتان ہیں. 31 سالہ سرفراز احمد 22 مئی 1987 کو سندھ کے دارالخلافہ کراچی کے ایک متوسط گھرانے میں پیدا ہوئے. انہوں نے 18 نومبر 2007 میں بھارت کے شہر جے پور میں کھیلے جانے والے ون ڈے انٹرنیشنل

میچ سے اپنے کیرئیر کا آغاز کیا. اس میچ میں ان کی بیٹنگ نہ آ سکی مگر اچھی وکٹ کیپنگ کرتے ہوئے دو شکار کئے. 14 جنوری 2010 میں سرفراز نے اپنے ٹیسٹ کیرئیر کا آغاز ہوبارٹ میں آسٹریلیا کے خلاف کیا. بیٹنگ میں کوئی خاص کارکردگی کا مظاہرہ نہ کرسکے پہلی اننگز میں 1 اور دوسری اننگز میں 5 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے مگر وکٹوں کے پیچھے 4 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا. 19 فروری 2010 کو انگلینڈ کے خلاف دبئی میں اپنے اپنے کیرئیر کا آغاز کیا. سرفراز احمد نے 49 ٹیسٹ کی 86 اننگز میں 36.39 کی اوسط سے 2657 رنز بنائے ہیں جس میں 3 سنچریاں اور 18 ففٹیز شامل ہیں اور وکٹوں کے پیچھے 146 کیچز اور 21 اسٹمپ کئے ہیں. ون ڈے کیرئیر میں 101 میچز کی 76 اننگز میں 32.19 کی اوسط سے 1942 رنز بنائے ہیں جس میں 2سنچریاں اور 9 ففٹیز شامل ہیں جبکہ 98 کیچز اور 23 اسٹمپ کئے ہیں. اس ہی طرح T20 انٹرنیشنل کے 54 میچز کی 38 اننگز میں 28.65 کی اوسط سے 745 رنز بنائے ہیں اور وکٹوں کے پیچھے 32 کیچز اور 10 اسٹمپ کئے ہیں. سرفراز احمد کی اگر کپتانی کا جائزہ لیا جائے توان کا بہت اچھا ریکارڈ ہے اور انہوں نے ٹی 20 میں بحیثیت کپتان 33 میچ کھیلے ہیں جن میں سے 29 میچز جیتے ہیں اور صرف 4 میچز میں شکست کا سامنا کرنا پڑا. ون ڈے انٹرنیشنل کے 32 میچز میں سے 20 میں فتح حاصل کی جبکہ 11 میچز میں شکست اور ایک میچ کا نتیجہ نہ آیا. اسی طرح ٹیسٹ میچز میں 10 میں سے 4 جیتے 5 ہارے اور ایک میچ ڈرا رہا.
2016 کے T20 ورلڈ کپ میں پاکستان کی شکست کے بعد شاہد آفریدی کو کپتانی سے ہٹا کر 5 اپریل 2016 کو سرفراز احمد عرف سیفی کو T20 فارمیٹ کا کپتان مقرر کیا گیا جب انہوں نے اپنا پہلا ہی میچ انگلینڈ کے خلاف 9 وکٹوں سے جیت لیا. اس کے فوراً بعد انہوں نے اپنی قائدانہ صلاحیتوں کا مظاہرہ کرتے ہوئے T20 ورلڈ چیمپئن ویسٹ انڈیز کو وائٹ واش کرتے ہوئے 0-3 کی حزیمت سے دوچار کیا. اس ہی طرح 9 فروری 2017 کو جب اظہر علی نے کپتانی سے استعفیٰ دیا تو سرفراز احمد کو پاکستان کی ون ڈے ٹیم کا قائد نامزد کیا گیا. کپتان بننے کے بعد سرفراز کا سب سے اہم ٹورنامنٹ ICC چیمپئنز ٹرافی 2017 تھی جس کے فائنل میں پاکستان نے 338 رنز کا پہاڑ کھڑا کر کے بھارت کو شکست فاش دی اور چیمپئن ٹھہرا. 28 ستمبر 2017 کو سرفراز احمد کو ٹیسٹ کرکٹ ٹیم کا کپتان مقرر کیا گیا. اس طرح کم عمری میں سرفراز احمد نے کرکٹ کے تینوں فارمیٹ میں پاکستان کے کپتان بننے کا اعزاز حاصل کیا.
کراچی سے تعلق رکھنے والے سرفراز احمد کو مرد بحران قرار دیا گیا ان کے لیے مشہور ہے کہ سرفراز کبھی دھوکہ نہیں دیتا اور ان کی کپتانی کا کیرئیر ریکارڈ اس کی گواہی دیتا ہے. مگر کچھ کرکٹ کے پنڈتوں اور نام نہاد صحافیوں کو شاید ان کی شکل پسند نہیں تھی یا وہ ان کی کامیابیوں اور شہرت کو ہضم نہیں کر پا رہے تھے. چنانچہ انہوں نے سرفراز کے خلاف منفی پروپیگنڈہ شروع کر دیا. روز کسی نہ کسی شکل میں افواہوں کو جنم دیا جاتا کہ سرفراز کو تینوں فارمیٹ کا کپتان نہیں ہونا چاہئے، کبھی کہتے ہیں کہ سرفراز کو کپتانی سے ہٹایا جائے، کبھی کہتے ہیں کہ سرفراز کھیل کے قابل نہیں رہا. پھر پی سی بی کے کرتا دھرتاؤں نے بھی اپنی ریشہ دوانیاں شروع کیں اور ان کے خلاف بیانات دیتے رہے. ورلڈ کپ کی کپتانی کے لیے تقریباً ایک سال تک سرفراز کو انتظار کرا کر ذہنی اذیت دی گئی. بدقسمتی سے ساؤتھ افریقہ کے خلاف ٹیسٹ سیریز میں سرفراز سے غلطی ہوئی جس کی پاداش میں ICC نے ان پر چار میچوں کی پابندی لگا دی بس پھر کیا تھا سارے برساتی مینڈک تالاب سے باہر نکل آئے اور افواہوں اور سازشوں کے جال بننے لگے اور بغض معاویہ میں مشورہ دینے لگے کہ شعیب ملک یا بابر زمان کو کپتان مقرر کیا جائے. شومئی قسمت شعیب ملک ناکام رہے اور سرفراز احمد کی مسلسل گیارہ کامیابیوں کا ریکارڈ مزید بہتر ہونے سے رک گیا. ادھر پی سی بی نے بھی خاموشی اختیار کر لی تھی مگر ساؤتھ افریقہ سے شکست کے بعد مجبوراً سرفراز کو ہی ورلڈ کپ کا کپتان مقرر کیا گیا مگر یہاں بھی اس پر پریشر بڑھا دیا گیا اور حیران کن طور پر انہیں ورلڈ کپ کے لئے تو کپتان مقرر کیا گیا مگر اس سے پہلے آسٹریلیا کے خلاف ہونے والے پانچ ون ڈے سیریز کیلئے شعیب ملک کو کپتان مقرر کر دیا گیا ہے اور چیف سلیکٹر یہ فرما رہے ہیں کہ سرفراز احمد کو ریسٹ دیا جا رہا ہے . عجیب منطق ہے ایک طرف سرفراز PSL لیگ میں کامیابیوں کے جھنڈے گاڑ رہا ہے اور سپر فٹ ہے دوسری طرف اسے پریکٹس اور کرکٹ سے دور رکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے. آپ ہی اپنی اداؤں پہ ذرا غور کریں – ہم کہیں گے تو شکایت ہوگی.

Image result for sarfraz ahmed

میچ سے اپنے کیرئیر کا آغاز کیا. اس میچ میں ان کی بیٹنگ نہ آ سکی مگر اچھی وکٹ کیپنگ کرتے ہوئے دو شکار کئے. 14 جنوری 2010 میں سرفراز نے اپنے ٹیسٹ کیرئیر کا آغاز ہوبارٹ میں آسٹریلیا کے خلاف کیا. بیٹنگ میں کوئی خاص کارکردگی کا مظاہرہ نہ کرسکے پہلی اننگز میں 1 اور دوسری اننگز میں 5 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے مگر وکٹوں کے پیچھے 4 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا. 19 فروری 2010 کو انگلینڈ کے خلاف دبئی میں اپنے اپنے کیرئیر کا آغاز کیا. سرفراز احمد نے 49 ٹیسٹ کی 86 اننگز میں 36.39 کی اوسط سے 2657 رنز بنائے ہیں جس میں 3 سنچریاں اور 18 ففٹیز شامل ہیں اور وکٹوں کے پیچھے 146 کیچز اور 21 اسٹمپ کئے ہیں. ون ڈے کیرئیر میں 101 میچز کی 76 اننگز میں 32.19 کی اوسط سے 1942 رنز بنائے ہیں جس میں 2سنچریاں اور 9 ففٹیز شامل ہیں جبکہ 98 کیچز اور 23 اسٹمپ کئے ہیں. اس ہی طرح T20 انٹرنیشنل کے 54 میچز کی 38 اننگز میں 28.65 کی اوسط سے 745 رنز بنائے ہیں اور وکٹوں کے پیچھے 32 کیچز اور 10 اسٹمپ کئے ہیں. سرفراز احمد کی اگر کپتانی کا جائزہ لیا جائے توان کا بہت اچھا ریکارڈ ہے اور انہوں نے ٹی 20 میں بحیثیت کپتان 33 میچ کھیلے ہیں جن میں سے 29 میچز جیتے ہیں اور صرف 4 میچز میں شکست کا سامنا کرنا پڑا. ون ڈے انٹرنیشنل کے 32 میچز میں سے 20 میں فتح حاصل کی جبکہ 11 میچز میں شکست اور ایک میچ کا نتیجہ نہ آیا. اسی طرح ٹیسٹ میچز میں 10 میں سے 4 جیتے 5 ہارے اور ایک میچ ڈرا رہا.
2016 کے T20 ورلڈ کپ میں پاکستان کی شکست کے بعد شاہد آفریدی کو کپتانی سے ہٹا کر 5 اپریل 2016 کو سرفراز احمد عرف سیفی کو T20 فارمیٹ کا کپتان مقرر کیا گیا جب انہوں نے اپنا پہلا ہی میچ انگلینڈ کے خلاف 9 وکٹوں سے جیت لیا. اس کے فوراً بعد انہوں نے اپنی قائدانہ صلاحیتوں کا مظاہرہ کرتے ہوئے T20 ورلڈ چیمپئن ویسٹ انڈیز کو وائٹ واش کرتے ہوئے 0-3 کی حزیمت سے دوچار کیا. اس ہی طرح 9 فروری 2017 کو جب اظہر علی نے کپتانی سے استعفیٰ دیا تو سرفراز احمد کو پاکستان کی ون ڈے ٹیم کا قائد نامزد کیا گیا. کپتان بننے کے بعد سرفراز کا سب سے اہم ٹورنامنٹ ICC چیمپئنز ٹرافی 2017 تھی جس کے فائنل میں پاکستان نے 338 رنز کا پہاڑ کھڑا کر کے بھارت کو شکست فاش دی اور چیمپئن ٹھہرا. 28 ستمبر 2017 کو سرفراز احمد کو ٹیسٹ کرکٹ ٹیم کا کپتان مقرر کیا گیا. اس طرح کم عمری میں سرفراز احمد نے کرکٹ کے تینوں فارمیٹ میں پاکستان کے کپتان بننے کا اعزاز حاصل کیا.
کراچی سے تعلق رکھنے والے سرفراز احمد کو مرد بحران قرار دیا گیا ان کے لیے مشہور ہے کہ سرفراز کبھی دھوکہ نہیں دیتا اور ان کی کپتانی کا کیرئیر ریکارڈ اس کی گواہی دیتا ہے. مگر کچھ کرکٹ کے پنڈتوں اور نام نہاد صحافیوں کو شاید ان کی شکل پسند نہیں تھی یا وہ ان کی کامیابیوں اور شہرت کو ہضم نہیں کر پا رہے تھے. چنانچہ انہوں نے سرفراز کے خلاف منفی پروپیگنڈہ شروع کر دیا. روز کسی نہ کسی شکل میں افواہوں کو جنم دیا جاتا کہ سرفراز کو تینوں فارمیٹ کا کپتان نہیں ہونا چاہئے، کبھی کہتے ہیں کہ سرفراز کو کپتانی سے ہٹایا جائے، کبھی کہتے ہیں کہ سرفراز کھیل کے قابل نہیں رہا. پھر پی سی بی کے کرتا دھرتاؤں نے بھی اپنی ریشہ دوانیاں شروع کیں اور ان کے خلاف بیانات دیتے رہے. ورلڈ کپ کی کپتانی کے لیے تقریباً ایک سال تک سرفراز کو انتظار کرا کر ذہنی اذیت دی گئی. بدقسمتی سے ساؤتھ افریقہ کے خلاف ٹیسٹ سیریز میں سرفراز سے غلطی ہوئی جس کی پاداش میں ICC نے ان پر چار میچوں کی پابندی لگا دی بس پھر کیا تھا سارے برساتی مینڈک تالاب سے باہر نکل آئے اور افواہوں اور سازشوں کے جال بننے لگے اور بغض معاویہ میں مشورہ دینے لگے کہ شعیب ملک یا بابر زمان کو کپتان مقرر کیا جائے. شومئی قسمت شعیب ملک ناکام رہے اور سرفراز احمد کی مسلسل گیارہ کامیابیوں کا ریکارڈ مزید بہتر ہونے سے رک گیا. ادھر پی سی بی نے بھی خاموشی اختیار کر لی تھی مگر ساؤتھ افریقہ سے شکست کے بعد مجبوراً سرفراز کو ہی ورلڈ کپ کا کپتان مقرر کیا گیا مگر یہاں بھی اس پر پریشر بڑھا دیا گیا اور حیران کن طور پر انہیں ورلڈ کپ کے لئے تو کپتان مقرر کیا گیا مگر اس سے پہلے آسٹریلیا کے خلاف ہونے والے پانچ ون ڈے سیریز کیلئے شعیب ملک کو کپتان مقرر کر دیا گیا ہے اور چیف سلیکٹر یہ فرما رہے ہیں کہ سرفراز احمد کو ریسٹ دیا جا رہا ہے . عجیب منطق ہے ایک طرف سرفراز PSL لیگ میں کامیابیوں کے جھنڈے گاڑ رہا ہے اور سپر فٹ ہے دوسری طرف اسے پریکٹس اور کرکٹ سے دور رکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے. آپ ہی اپنی اداؤں پہ ذرا غور کریں – ہم کہیں گے تو شکایت ہوگی.

نام سرفراز احمد ہے جو کہ اس وقت پاکستان کرکٹ ٹیم کے تینوں فارمیٹ یعنی ٹیسٹ، ون ڈے اور T20کے کپتان ہیں. 31 سالہ سرفراز احمد 22 مئی 1987 کو سندھ کے دارالخلافہ کراچی کے ایک متوسط گھرانے میں پیدا ہوئے. انہوں نے 18 نومبر 2007 میں بھارت کے شہر جے پور میں کھیلے جانے والے ون ڈے انٹرنیشنل میچ سے اپنے کیرئیر کا آغاز کیا. اس میچ میں ان کی بیٹنگ نہ آ سکی مگر اچھی وکٹ کیپنگ کرتے ہوئے دو شکار کئے. 14 جنوری 2010 میں سرفراز نے اپنے ٹیسٹ کیرئیر کا آغاز ہوبارٹ میں آسٹریلیا کے خلاف کیا. بیٹنگ میں کوئی خاص کارکردگی کا مظاہرہ نہ کرسکے پہلی اننگز میں 1 اور دوسری اننگز میں 5 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے مگر وکٹوں کے پیچھے 4 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا. 19 فروری 2010 کو انگلینڈ کے خلاف دبئی میں اپنے اپنے کیرئیر کا آغاز کیا. سرفراز احمد نے 49 ٹیسٹ کی 86 اننگز میں 36.39 کی اوسط سے 2657 رنز بنائے ہیں جس میں 3 سنچریاں اور 18 ففٹیز شامل ہیں اور وکٹوں کے پیچھے 146 کیچز اور 21 اسٹمپ کئے ہیں. ون ڈے کیرئیر میں 101 میچز کی 76 اننگز میں 32.19 کی اوسط سے 1942 رنز بنائے ہیں جس میں 2سنچریاں اور 9 ففٹیز شامل ہیں جبکہ 98 کیچز اور 23 اسٹمپ کئے ہیں. اس ہی طرح T20 انٹرنیشنل کے 54 میچز کی 38 اننگز میں 28.65 کی اوسط سے 745 رنز بنائے ہیں اور وکٹوں کے پیچھے 32 کیچز اور 10 اسٹمپ کئے ہیں. سرفراز احمد کی اگر کپتانی کا جائزہ لیا جائے توان کا بہت اچھا ریکارڈ ہے اور انہوں نے ٹی 20 میں بحیثیت کپتان 33 میچ کھیلے ہیں جن میں سے 29 میچز جیتے ہیں اور صرف 4 میچز میں شکست کا سامنا کرنا پڑا. ون ڈے انٹرنیشنل کے 32 میچز میں سے 20 میں فتح حاصل کی جبکہ 11 میچز میں شکست اور ایک میچ کا نتیجہ نہ آیا. اسی طرح ٹیسٹ میچز میں 10 میں سے 4 جیتے 5 ہارے اور ایک میچ ڈرا رہا.
2016 کے T20 ورلڈ کپ میں پاکستان کی شکست کے بعد شاہد آفریدی کو کپتانی سے ہٹا کر 5 اپریل 2016 کو سرفراز احمد عرف سیفی کو T20 فارمیٹ کا کپتان مقرر کیا گیا جب انہوں نے اپنا پہلا ہی میچ انگلینڈ کے خلاف 9 وکٹوں سے جیت لیا. اس کے فوراً بعد انہوں نے اپنی قائدانہ صلاحیتوں کا مظاہرہ کرتے ہوئے T20 ورلڈ چیمپئن ویسٹ انڈیز کو وائٹ واش کرتے ہوئے 0-3 کی حزیمت سے دوچار کیا. اس ہی طرح 9 فروری 2017 کو جب اظہر علی نے کپتانی سے استعفیٰ دیا تو سرفراز احمد کو پاکستان کی ون ڈے ٹیم کا قائد نامزد کیا گیا. کپتان بننے کے بعد سرفراز کا سب سے اہم ٹورنامنٹ ICC چیمپئنز ٹرافی 2017 تھی جس کے فائنل میں پاکستان نے 338 رنز کا پہاڑ کھڑا کر کے بھارت کو شکست فاش دی اور چیمپئن ٹھہرا. 28 ستمبر 2017 کو سرفراز احمد کو ٹیسٹ کرکٹ ٹیم کا کپتان مقرر کیا گیا. اس طرح کم عمری میں سرفراز احمد نے کرکٹ کے تینوں فارمیٹ میں پاکستان کے کپتان بننے کا اعزاز حاصل کیا.
کراچی سے تعلق رکھنے والے سرفراز احمد کو مرد بحران قرار دیا گیا ان کے لیے مشہور ہے کہ سرفراز کبھی دھوکہ نہیں دیتا اور ان کی کپتانی کا کیرئیر ریکارڈ اس کی گواہی دیتا ہے. مگر کچھ کرکٹ کے پنڈتوں اور نام نہاد صحافیوں کو شاید ان کی شکل پسند نہیں تھی یا وہ ان کی کامیابیوں اور شہرت کو ہضم نہیں کر پا رہے تھے. چنانچہ انہوں نے سرفراز کے خلاف منفی پروپیگنڈہ شروع کر دیا. روز کسی نہ کسی شکل میں افواہوں کو جنم دیا جاتا کہ سرفراز کو تینوں فارمیٹ کا کپتان نہیں ہونا چاہئے، کبھی کہتے ہیں کہ سرفراز کو کپتانی سے ہٹایا جائے، کبھی کہتے ہیں کہ سرفراز کھیل کے قابل نہیں رہا. پھر پی سی بی کے کرتا دھرتاؤں نے بھی اپنی ریشہ دوانیاں شروع کیں اور ان کے خلاف بیانات دیتے رہے. ورلڈ کپ کی کپتانی کے لیے تقریباً ایک سال تک سرفراز کو انتظار کرا کر ذہنی اذیت دی گئی. بدقسمتی سے ساؤتھ افریقہ کے خلاف ٹیسٹ سیریز میں سرفراز سے غلطی ہوئی جس کی پاداش میں ICC نے ان پر چار میچوں کی پابندی لگا دی بس پھر کیا تھا سارے برساتی مینڈک تالاب سے باہر نکل آئے اور افواہوں اور سازشوں کے جال بننے لگے اور بغض معاویہ میں مشورہ دینے لگے کہ شعیب ملک یا بابر زمان کو کپتان مقرر کیا جائے. شومئی قسمت شعیب ملک ناکام رہے اور سرفراز احمد کی مسلسل گیارہ کامیابیوں کا ریکارڈ مزید بہتر ہونے سے رک گیا. ادھر پی سی بی نے بھی خاموشی اختیار کر لی تھی مگر ساؤتھ افریقہ سے شکست کے بعد مجبوراً سرفراز کو ہی ورلڈ کپ کا کپتان مقرر کیا گیا مگر یہاں بھی اس پر پریشر بڑھا دیا گیا اور حیران کن طور پر انہیں ورلڈ کپ کے لئے تو کپتان مقرر کیا گیا مگر اس سے پہلے آسٹریلیا کے خلاف ہونے والے پانچ ون ڈے سیریز کیلئے شعیب ملک کو کپتان مقرر کر دیا گیا ہے اور چیف سلیکٹر یہ فرما رہے ہیں کہ سرفراز احمد کو ریسٹ دیا جا رہا ہے . عجیب منطق ہے ایک طرف سرفراز PSL لیگ میں کامیابیوں کے جھنڈے گاڑ رہا ہے اور سپر فٹ ہے دوسری طرف اسے پریکٹس اور کرکٹ سے دور رکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے. آپ ہی اپنی اداؤں پہ ذرا غور کریں – ہم کہیں گے تو شکایت ہوگی.




اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں