25

میاں صاحب کی صحت پوچھنے کےلئے پہنچا ہوں آج میرے لئے تاریخی دن ہے شہید بھٹو اور صدر زرداری نے بھی اسی جیل میں وقت گزارا ۔ بلاول بھٹو زرداری

چئیرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری کی میڈیا سے بات چیت

سیاسی کارکن بھی سیاسی قیدی بنے تھے دکھ ہورہا تھا جو ملک کا تین بار وزیراعظم بنا، ایک وزیراعظم کوٹ لکھپت جیل میں سزا بھگت رہا ہے۔ ملک سے باہر تھا جب میاں صاحب کی صحت کے متعلق خبریں سنیں۔ مریم کی جانب سے پیغامات آ رہے تھے۔ سیاسی اختلافات الگ بات ہے ہیں کلچرل ویلیو اور دین کہتا ہے مسلمان بیمار ہو تو اس کی مزاج پرسی کرنی چاہیے۔ کسی کے ساتھ یا عام قیدی کے ساتھ بے انصافی اور بے عزتی نہیں ہونی چاہئے۔ جو بہترین علاج مہیا کرنا حکومت کی ذمہ دارئ ہے۔ دل کے مرض کا علاج نہ کرنا ایک تشدد ہے وہ بیمار لگ رہے تھے۔ صحت سب سے پہلے ترجیں ہونے چاہیے۔ مطالبہ ہے نوازشریف تین بار وزیر اعظم رہے طویل سیاسی تعلق رہا صحت یا انسانیت کی بات آتئ ہے تو سب سے بہترین علاج کروایا جائے جب بھارت کے ساتھ جنگ کا مآحول پیدا رہاہے جمہوریت کی بات کرتے ہیں تو ایسی باتیں نہیں ہونی چاہیے صحت کی تمام سہولیات دینی چاہئے۔ بھارت کے خلاف تنقیدی بات کی فارن پالیسی معشیت کی بات آتی ہوتی ہے تو حکومت کے ساتھ چلنے کو تیار ہیں۔ ہم تو کوشش کرتے ہیں کہ جمہوری پسند جمہوری جماعتوں سے رابطہ کریں۔ مریم نواز سے ملاقات کرنے کا ارادہ ہے ن لیگ کی قیادت سے رابطہ ہوتا ہے۔ مریم نوازسے مل کے بہت خوشی ہوگی۔ نہیں سمجھتا وہ خاموش ہوئی ہیں وہ سیاسی معاملات اور والد کے خیال میں مصروف ہوں گی۔ میرے والد اور نانا نے جیل میں وقت گزارا نہیں چاہوں گا عمران جیل میں آئیں اور ان کے بچوں کو ادھر ادھر ملاقات کے لئے جانا پڑے۔

کیٹاگری میں : Home

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں