51

امریکہ میں 55 سال تک کمیونٹی سروس کرنے والے مشہور پاکستانی محمد اسلم انتقال کر گئے، رپورٹ (شمیم بانو)

نمائندہ امریکا سینئرصحافی شمیم بانو کی خصوصی رپورٹ

میڈیا کلچر اور بزنس میں اپنی پہچان بنانے والے پاکستانی امریکن محمد اسلم 80 سال کی عمر میں انتقال فرما گئے۔ انہوں نے 55 سال امریکا میں گزارے اس دوران کمیونٹی سروس میں بھی پیش پیش رہے ۔ان کے انتقال پر پاکستانی کمیونٹی میں گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا گیا ۔وہ 1965 کی پاک بھارت جنگ سے تقریبا

ایک ہفتہ قبل امریکا گئے تھے ان کا تعلق پاکستان کے خوبصورت شہر گجرات سے تھا وہ امریکہ آنے سے پہلے سندھ میں ٹیچنگ کر رہے تھے امریکہ آ کر انہوں نے میٹرو انٹرنیشنل ٹریول سے لے کر نیوز پیپر ایسٹرن نیوز تک اپنی شناخت بنائی اور مقبولیت حاصل کی ۔زیادہ تر لوگ ان کو واشنگٹن میں چوہدری اسلم کے نام سے ہی یاد رکھتے ہیں ۔انہوں نے شالیمار انٹرٹینمنٹ کمپنی کے پلیٹ فارم سے متعدد نامور فنکاروں اور آرٹسٹوں کے پروگرام اور شوز منعقد کیے جنہیں بے حد پذیرائی حاصل رہی ۔انہوں نے لیجنڈری ملکہ ترنم نور جہاں کا شو بھی منعقد کا اعزاز حاصل کیا ۔
امریکہ میں قیام کے دوران انہوں نے اچھے برے وقت میں خود بھی حالات کا مقابلہ کیا اور پاکستانی کمیونٹی کو بھی ہمیشہ حوصلہ دیتے رہے اور ملک کی بہتری اور ترقی کے لئے سوچتے ہو فکرمند بھی رہتے تھے صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ دیگر ایشیائی باشندوں کی بہتری کے لیے ہمیشہ پیش پیش رہے متعدد لوگوں کی jobs کا بندوبست کر آیا نوکری کے علاوہ ان کی رہائش اور پھر امیگریشن میں بھی مدد کرتے رہے ۔
پاکستان کے ساتھ ساتھ بھارت اور دیگر ملکوں کے ضرورتمند مشینوں کی مدد میں بھی آگے آگے رہے ۔کہیں لوگوں کو ضرورت کے وقت ٹکٹ فراہم کرتے تاکہ وہ اہم مواقع پر اپنے ملک میں اپنوں کے پاس پہنچ جائیں انہوں نے کمیونٹی سروس کے متعدد پروگرام کیے ۔
واشنگٹن ریا میں مسلمانوں کے لئے حج پیکج کا آغاز بھی انھوں نے کیا جس کے نتیجے میں متعدد مسلمانوں نے فریضہ حج کی سعادت حاصل کرنے میں ان کی خدمات سے استفادہ کیا ۔وہ پاکستانیوں کے لئے سنجیدہ اور قابل اعتبار میڈیا کی ضرورت پر زور دیتے رہے تاکہ ان کی آواز اہم فورم تک پہنچ سکے اس سلسلے میں انہوں نے خود اپنے نیوز پیپر سے اہم کردار ادا کیا اور دوسروں کے لئے قابل تقلید مثال بنے ۔
بنیادی طور پر محمد اسلم ایک ہمدرد مخلص اور ملنسار انسان تھے انہوں نے ساری ذندگی عزت اور وقار سے گزاری اسی لیے آج ہر کوئی ان کا نام نہایت عزت و احترام سے لیتا ہے آخری برسوں میں وہ بلڈ کینسر سے لڑتے رہے ان کے انتقال کو پاکستانی کمیونٹی کے لئے بڑا نقصان قرار دیا جا رہا ہے ان کے چاہنے والوں کی امریکہ میں بہت بڑی تعداد موجود ہے ۔وہ اپنے اچھے کاموں کی وجہ سے ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں