153

پاکستان کے مشہور دانشور جاوید بھٹو کا امریکہ میں قتل کیوں اور کیسے ہوا؟ خصوصی رپورٹ(شمیم بانو)

64 سالہ پاکستانی دانشور اسکالر پروفیسر جاوید بھٹو کو واشنگٹن میں دن دہاڑے جس بہیمانہ انداز میں قتل کیا گیا اس پر دنیا بھر سے پاکستانیوں نے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا اور اس بات کی بھرپور مذمت کی گئی ۔اس افسوس ناک واقعے کی اطلاع پانے والا ہر شخص دکھی اور غمگین ہوا۔

سندھ کے خوبصورت شہر شکارپور سے تعلق رکھنے والے پروفیسر جاوید بھٹو امریکا منتقل ہونے سے قبل سندھ یونیورسٹی میں فلاسفی پڑھاتے تھے ۔ان کا شمار نہایت ذہین قابل اور مخلص انسانوں میں ہوتا تھا وہ مشہور صحافی نفیسہ ہودبھائی کے شوہر اور گلوکار شہر بھٹو کے بھائی اور نیوکلیئر سائنسدان پرویز ہودبھائی کے بہنوئی تھے ۔

جاوید بھٹو کے قتل کے بعد پولیس نے 45 سالہ جورڈن کو گرفتار کرلیا جو ان کا پڑوسی ہے۔
خاندانی ذرائع کے مطابق جاوید بھٹو نے جورڈن کے خلاف شکایت بھی کررکھی تھیں کیونکہ وہ اکثر اونچی آواز میں شور شرابا کرتا تھا اور نشے میں رہتا تھا ۔اس نے دن کے وقت واشنگٹن کے ایک اسٹور کے باہر جاوید بھٹو پر فائرنگ کرکے انہیں نشانہ بنایا جب وہ اپنی گاڑی سے باہر آرہے تھے اور بھاگنے کی کوشش پر اس نے انکا پیچھا بھی کیا۔ پولیس کو اس واقعے کی ویڈیو بھی مل گئی۔ قاتل کو پکڑنے کے بعد پولیس نے تحقیقات کی تو یہ بات بھی سامنے آئی کہ وہ ماضی میں بھی قتل کے ایک الزام میں گرفتار ہوچکا تھا تب اسے پاگل اور جنونی قرار دے کر زیرعلاج رکھا گیا اور پھر کئی برس بعد وہ آزاد ہو گیا تھا اب اس نے جاوید بھٹو کو نشانہ بنایا کیونکہ جاوید بھٹو نے اس کے بارے میں شکایت کر رکھی تھی ۔
جاوید بھٹو کے قریبی دوستوں کے مطابق وہ جس علاقے میں رہ رہے تھے وہاں سے انہیں منتقل ہو جانے کا مشورہ بھی دیا گیا تھا لیکن انہوں نے اس بات کی پرواہ نہیں کی ۔ویسے بھی ہونی ہو کر رہتی ہے اسے کون ٹال سکتا ہے اور جورڈن کے ہاتھوں ان کا قتل ہونا تھا جورڈن کے خلاف ان کی شکایت انہیں اور ان کے خاندان کو بہت مہنگی پڑی ۔ان کے تحفظ کے لیے کیا اقدامات کیے گئے تھے اس بارے میں سوالات اٹھائے جا رہے ہیں ۔
جاوید بھٹو کے دوستوں کا کہنا ہے کہ ہم سائیں جاوید بھٹو کو سدا ساتھ رہنے کی بات کرکے ہی اٹھ کر رہے ہیں یہی سندھ کی روایت ہے ہم جب ملاقات کے بعد الگ ہوتے ہیں تو یہی کہتے ہیں کہ سدا ساتھ رہیں گے اور ان کے ساتھ جو کچھ ہوا تو بہت ہی افسوسناک ہے لیکن اب ہم ان کی یادوں کو اپنے ساتھ ہمیشہ سرمائے کے طور پر رکھیں گے ۔
سندھ کے وزیر اعلیٰ سید مراد علی شاہ سمیت دنیا بھر سے دوستوں اور ساتھیوں نے جاوید بھٹو کے قتل کی بھرپور مذمت کی ہے اور ان کی فیملی کے ساتھ تعزیت کرتے ہوئے ان کے دکھ میں خود کو برابر کا شریک قرار دیا ہے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں