ہمارے تمام مسائل کا حل بہترین تعلیم میں ہے جس کے لیے ہمیں سب سے پہلے اپنے بچوں کو پڑھانے کے لیے اساتذہ کو تربیت دینے کی ضرورت ہے ۔ وزیراعلیٰ سندھ

کراچی . وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ ہمارے تمام مسائل کا حل بہترین تعلیم میں ہے جس کے لیے ہمیں سب سے پہلے اپنے بچوں کو پڑھانے کے لیے اساتذہ کو تربیت دینا ہے، نہیں تو ہماری تمام کاوشیں ناکام ہوجائیں گی۔انہوں نے یہ بات آج محکمہ تعلیم سندھ اور ڈربین ایک این جی او جو کہ گورنمنٹ ایلیمنٹری کالج آف ایجوکیشن حسین آباد چلاتی ہے کے مابین پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے حوالے سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی ۔پروگرام میں وزیر تعلیم سردار شاہ، سیکریٹری تعلیم قاضی شاہد پرویز، سی ای او ڈربین سلمیٰ اے عالم، مینا سادے،انٹرنیشنل بزنس ڈیولپمنٹ مینیجر آف یونیورسٹی آف ہیلسکنی، فن لینڈ، صدر زندگی ٹرسٹ شہزاد رائے اور طابا کی ڈونر ڈربین و دیگر نے شرکت کی۔ وزیراعلیٰ سندھ نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ ہائر ایجوکیشن و اساتذہ کی تربیت کے لیے کی جارہی ہے۔انہوں نے کہا کہ اساتذہ کی تربیت/تعلیم کے چار سالہ بی۔ایڈ کورس نامینٹ کریں گے۔ بی۔ ایڈ کی تعلیم تمام اساتذہ کیلیے لازمی ہوگی۔ ڈربین جس کا الحاق یونیورسٹی آف ہیلسنکی، فن لینڈ سے ہے، ڈربین کو حسین آباد، حیدرآباد ایلیمنٹری کالج آف ایجوکیشن کا انتظام دیا جارہا ہے۔ مراد علی شاہ نے کہا کہ ڈربین۔ زندگی ٹرسٹ دنیا کا جدید ترین ٹیچر ٹریننگ کورس حسین آباد کالج میں پڑھائیں گے۔ یہ کورس ہیلسنکی یونیورسٹی نے تشکیل دیا ہے۔ سندھ حکومت صحت میں پبلک پرائیویٹ پاٹنرشپ کی کامیابی کے بعد تعلیم کے شعبے میں بھی پارٹنرشپ کررہی ہے۔ وزیر اعلیٰ سندھ نے تعلیم پر زور دیتے ہوئے کہا کہ تعلیم ہمارے لیے زندگی و موت کا سوال ہے۔ ہمیں تعلیم ترقی ہر صورت کرنی ہے۔ تعلیم تب بہتر ہوگی جب ہمارا ٹیچر بہتر تربیت یافتہ ہوگا۔ یہ جدید ٹیچرز ٹریننگ دینے کے لیے پی پی پی کے تحت عالمی سطح کی یونیورسٹی سے وابستگی کی جارہی ہے۔ آج میں اس شراکت داری پر بہت خوش ہوں۔ ہمارے سارے مسائل کا حل بہترین تعلیم میں ہے۔ ہم یہ مسئلہ جانتے ہیں اور اس کو نظر میں بھی رکھ رہے ہیں۔ اب بچوں کو پڑھانے کیلیے اساتذہ کو پڑھانا ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم راشد آباد، ٹنڈو الہیار کے تعلیمی ادارے سے ٹیچرز ٹریننگ میں کام کررہے ہیں۔ ہمارے تعلیمی نظام میں اساتذہ کی تربیت ضروری ہے۔ ہمارے پاس کل 9 فیصد سائنس اساتذہ ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہم پولیس والے میرٹ پر بھرتیاں کرتے ہیں، اس سے کہیں زیادہ اساتذہ کی بھرتیاں میرٹ پر بہت ضروری ہیں۔ ہم نے بائیو۔میٹرک شروع کی تو بہت سے اساتذہ نے پہلے ہی رٹائرمنٹ لینا شروع کردی۔ ہمارا پینشن بل آسمان پر پہنچ گیا ہے۔جب پڑھانے اور حاضری کا وقت آیا تو اساتذہ نے ریٹائرمنٹ لینا شروع کیا۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ میں نے شہزاد رائے کے اسکولوں کا دورہ بھی کیا ہے۔ کرن اسکول لیاری کا بھی دوہ کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ تمام اسکول پی پی پی موڈ کے بڑے بہترین ادارے بن گئے ہیں۔ہمارے 40 ہزار سے بھی زیادہ سرکاری اسکولز ہیں،اگر 10 فیصد اسکول بھی بہتر ہوجائیں تو ہمارا مسئلہ حل ہوجائے گا۔ وزیراعلیٰ سندھ نے ڈربین، زندگی ٹرسٹ و محکمہ تعلیم کو شراکت داری پر مبارک باد پیش کی۔ ہمیں سماجی شعبے پر بھی بھرپور کام کرنا ہے۔وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو اس پروگرام میں آنا چاہتے تھے لیکن وہ قومی اسمبلی میں مصروف ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہماری قیادت تعلیم پر بھرپور توجہ دینا چاہتی ہے۔
صوبائی وزیر تعلیم سید سردار علی شاہ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اصل مسئلہ اونر شپ کا ہے۔انہوں نے کہا کہ سرکاری اساتذہ یا ہیڈ ماسٹر اپنے اسکولوں کو اونر شپ نہیں دیتے ہیں ۔انہوں نے زندگی ٹرسٹ کے اسکولوں کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ شہزاد رائے کے اسکولز اچھا کام اس لیے کررہے ہیں کہ انکی اونرشپ ہےاور ٹیچرز سرکاری ہیں۔ اساتذہ ہمارے تعلیمی نظام کے لیڈرز ہیں۔انہوں نےکہا کہ پبلک سیکٹر کی تعلیمی حالت اتنی خراب نہیں، سی ایس ایس کا امتحان کے اہل زیادہ تر امیدواروں کا تعلق سرکاری اسکولوں سے ہوتا ہے۔
قبل ازیں ڈربین کی سلمیٰ اے عالم اور ہیلسنکی یونیورسٹی کی مینا سادے نے تقریب کے شرکاء کو شروع کیے جانے والے تربیتی پروگراموں کے حوالے سے اپنے پلان کے بارے میں بریف کیا۔
علاوہ ازیں وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا نیشنل میوزم کے سامنے زیر تعمیر پارکنگ پلازہ کا دورہ بھی کیا۔ وزیراعلیٰ سندھ کو بتایا گیا کہ دو منزلہ پارکنگ عمارت تعمیر کی جائے گی،ہر منزل پر 200 گاڑیوں کی گنجائش ہوگی، ایک لاکھ اسکوائر فٹ ایک پارکنگ منزل ہوگا۔ چیئرمین پی اینڈ ڈی محمد وسیم و سیکریٹری داخلہ قاضی کبیر بھی پہنچ گئے۔دونوں نے وزیراعلیٰ سندھ کو پارکنگ کے کام پر آگاہی دی۔واٹر بورڈ کی لائنیں منتقل ہونے کے باعث کام میں تاخیر ہوا، جولائی میں یہ پارکنگ ایریا کا کام مکمل ہوجائے گا۔پارکنگ زیر زمین ہوگی،پارکنگ کے اوپر کالج اور میوزیم کے سامنے بینچز ، شیڈز اور اسٹال ٹائپ کے ریسٹیٹورنٹ ہوں گے۔یہ پروجیکٹ کراچی نیبر ہوڈ پروجیکٹ کے تحت تعمیر ہو رہا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں