25

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا کینسر میں مبتلا مریضوں کی آمدو رفت کی تکالیف کے پیش نظر حیدرآباد اور سکھر میں کینسر کے سیٹلائیٹ بنانے کا اعلان

کراچی : وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کینسر میں مبتلا مریضوں کی آمدو رفت کی تکالیف کے پیش نظر حیدرآباد اور سکھر میں کینسر کے سیٹلائیٹ بنانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اسپتال کے لیے جو سازوسامان اور مطلوبہ سہولیات چاہیے وہ ہم دیں گے۔ انھوں نے کہا کہ دوائوں کی قیمتیں بڑھنے کی وجہ سے مسائل بڑھے ہیں اب بجٹ بھی بڑھائیں گے،وزیراعظم سے ملاقات میں کہا تھا کہ جناح اسپتال، این آئی سی ایچ اوراین آئی سی وی ڈی سندھ حکومت کے پاس رہنے دیے جائیں جسکی ہم نے باضابطہ طور پرکورٹ میں بھی رویو پٹیشن فائل کرچکے ہیں امید ہے کہ ہمارے حق میں فیصلہ آئیگا۔ ان خیالات کا اظہار انھوں نے قومی ادارہ برائے صحت واطفال کے دورہ کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہی۔ انھوں نے قومی ادارہ برائے صحت اطفال کے سیٹیلائٹ سینٹرز صوبے کے دیگر شہروں میں قائم کرنے کےارادے کا اظہار کیا اور کہا کہ متوسطہ و غریب طبقہ کے مریضوں کی آمد ورفت و اخراجات برداشت نہ کرنے کے مدنظر یہ فیصلا لیا ہے، دوسرے شہروں سےکافی مریض کراچی علاج کے لیے آتے ہیں، اگر انہی صوبوں میں سیٹیلائٹ سینٹرز قائم کر دیئے جائے تو مریضوں کا لوڈ کراچی میں کم ہوگا۔ میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ آج این آئی سی ایچ کینسر کے عالمی دن کے حوالے سے قائم وارڈ کا جائزہ لینے آیا تھا ہم سہولیات کو مزید بہترکریں گے اورنہ صرف کراچی بلکہ صوبے کے دیگر شہروں میں بھی کینسروارڈ قائم کریں گے۔
قبل ازیں وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کراچی کے قومی ادارہ برائے صحت اطفال ( این آئی سی ایچ) کا دورہ پر پہنچے پر اسپتال کے ڈائریکٹر نے انکا استقبال کیا۔وزیراعلیٰ سندھ نے سہولیات کا جائزہ لیتے ہوئے مختلف وارڈ کا معائنہ بھی کیا اور مریضوں سے ملاقات بھی کی۔ دورہ کے دوران سہولیات کا جائزہ لینا ہے۔
وزیراعلی سندھ کو اسپتال کے کانفرنس روم میں بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ کینسر کا سینٹر چائلڈ ایڈ ایسوسی ایشن چلا رہی ہے جوکہ 1999 سے کام کر رہا ہے اورسینٹر میں 7 ہزار کینسر میں مبتلا مریض وبچے رجسٹرڈ ہیں بلکہ اس میں پورے ملک سمیت افغانستان کے مریض بچے بھی رجسٹرڈ ہیں۔ مزید بتایا گیا کہ کینسر کے مرض میں مبتلا مریض کا علاج 3 سال پر مشتمل ہوتا ہے لیکن زیادہ تر بچے دوران علاج ہی چھوڑ کر چلے جاتے ہیں۔ وزیراعلیٰ سندھ کو آگاہی دی گئی کہ اسپتال میں علاج مکمل طور پر مفت کیا جاتا ہے، کینسر میں مبتلا ایک بچے پر 4 سے 5 لاکھ کا خرچ آتا ہے جوکہ تمام اخراجات پیشینٹ ایڈ فاؤنڈیشن برداشت کرتا ہے اور زیادہ تر بچے بلڈ کینسر کے ہیں۔
اس موقع پر وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ آج عوام میں بچوں کے کینسر سے متعلق آگاہی کا عالمی دن ہے، بچوں میں کینسر کے علاج کیلیے ہر قسم کی سہولت مہیا کروں گا۔ انھوں نے کہا کہ 7 فیصد مریضوں کا ڈراپ آؤٹ ہونا باعث تشویش ہے، غریب طبقہ کا کراچی آنے جانے کے اخراجات برداشت نہ کرنے پر ڈراپٹ آئوٹ ہوتا ہے جس کو مدنظر رکھتے ہوئے کینسر کے سیٹلائیٹ د سکھر و حیدرآباد میں بھی قائم کرنا چاہتا ہوں۔ انھوں نے انتظامیہ کو اسپتال اسپیس، مشینری و ماہانہ آپریشنل اخراجات کی تفصیلات سے متعلق ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ میں چائلڈ ایڈ فاؤنڈیشن کو سالانہ گرانٹ بھی دونگا، اخراجات برداشت نہ کرنے کی وجہ ایس ای ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ نے این آئی سی ایچ میں مہمانوں کی کتاب میں اپنے تاثرات بھی قلمبند کیے اور انھوں نے کینسر میں مبتلا دو بچوں کے شفایابی پر انھیں تحائف بھی دیئے۔

کیٹاگری میں : Home

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں