96

بھارت میں جاسوسی کرنے والے پاکستانی سرفروش کی سچی داستان … غازی … قسط نمبر 3

لاہور میں آفس سے ہمیں ایک جیپ میں آنکھوں پر پٹی باندھ کے لے جایا گیا جب پٹی کھلی تو ہم ایک ہال میں موجود تھے جہاں بہت سی کرسیاں پڑی ہوئی تھی وہاں پر ہمارے سینئرز موجود تھے ۔چند ہی لمحوں بعد سویلین ڈریس میں ایک صاحب داخل ہوئے جنہیں ہمارے سینئر نے ایڑیاں بجا کر سلوٹ کیا ۔ان صاحب نے فردن فردن ہم سب سے مصافحہ کیا ٹریننگ کی کامیاب تکمیل پر مبارکباد دی اور کہا کہ آپ پانچ افراد جس مشن پر جا رہے ہو اس کی کامیاب تکمیل سے افواج پاکستان کو بہت مدد ملے گی اس لیے روح کی گہرائیوں سے اپنے مشن کو پایہ تکمیل تک پہنچانا اور اس دوران اگر غداری کی زندگی اور شہادت میں سے کسی کو چننا پڑے تو شہادت کو قبول کرنا کیونکہ موت تو یقیناً ایک روز آتی ہے ۔ہمارا دشمن اتنا مکار ہے کہ زندہ رکھنے اور عیش و عشرت کے جھوٹے وعدے کر کے راز اگلوا لینا اس کا دھرم ہے اور سب راز جاننے کے بعد وہ تمہیں چھوڑے گا نہیں بلکہ اذیت ناک موت سے ہمکنار کرے گا ایک واقعہ انہوں نے اس سلسلے میں ہمیں بتایا۔
ان کی مختصر سی تقریر یا نصیحت کے بعد ہم پانچوں سے وہ بغلگیر ہوئے اور اس کمرے سے باہر چلے گئے ان کے جانے کے بعد ہم سب کی جسمانی اور ساتھ لائے ہوئے سامان کی بھرپور تلاشی لی گئی ہمارے سگریٹ ماچس بٹوے سب لے کر ہمیں بھا رتی سگریٹ ماچس اور بٹوے دیئے گئے ۔ہمارے بیگ لے کر ایسے بیگ دیے گئے تھے جن پر میڈ ان انڈیا لکھا ہوا تھا ہمیں سایانائڈ سے بھری داڑھیں دو ڈاکٹروں نے لگائیں ان کے ساتھ کچھ ایسا کیمیکل بھی لگا ہوا تھا جس سے یہ نہایت مضبوطی سے چپک گئیں ۔ہم سب کو پانچ پانچ ہزار کی بھارتی کرنسی دی گئی پھر مجھے ایک کاغذ دیا گیا جس پر دلی آگرہ اور ممبئی کے کچھ پتے درج تھے کو ڈ ورڈ بھی لکھا ہوا تھا ۔یہ ان بھارتی ہمدردوں کے پتے تھے جن سے رابطہ کرنے پر مجھے رقم اور دیگر مطلوبہ اشیاء مل سکتی تھیں ۔مجھے یہ ایڈریس اور نام ازبر یاد کرنے تھے ۔جس  مشن پر ہم جا رہے تھے وہ ایک نہیں بلکہ درجنوں میں تھا ۔اس کے علاوہ اہم نوعیت کی معلومات اور وہاں کے حالات کو دیکھتے ہوئے جو کام بھی ملک کی بھلائی کے لئے مناسب نظر آئے وہ کرنے کی ہمیں اجازت دی گئی تھی یعنی ہمارا کوئی ایک مخصوص مشن نہ تھا بلکہ ہمیں دشمن کے متعلق ہر قسم کی معلومات حاصل کرنا تھی اور موقع ملنے پر اسے ز چ کرنا تھا ۔مجھے ایک خصوصی مشن بھی دیا گیا تھا اور وہ تھا انڈین آرمی ہیڈ کوارٹرز دہلی میں چیف انڈین آرمی کے دفتر کے کسی ملازم کو پلانٹ کرنا ۔ان دنوں فوٹو کاپی مشین  نہیں تھی اس لیے جو کچھ بھی ٹائپ کیا جاتا تھا کاربن پیپر سے اس کی کاپیاں بنائی جاتی تھیں ۔کاربن کو اگر ایک یا دو بار استعمال کیا جائے تو اس پر ٹائپ کی گئی عبارت بخوبی پڑھی جا سکتی ہے اگر اس طرح استعمال شدہ کاربن ردی کی ٹوکری میں پھینک دیے جائیں اور صفائی کرنے والا دفتر کے اوقات کے بعد دوران صفائی وہ کاربن پیپر نکال کر ہمیں دے دے تو بہت ہی اہم معلومات ہمیں مل سکتی تھیں ۔بریگیڈیئر اور اس سے اوپر کے عہدے دار تحفظ کے لیے رف پیڈ پر جو کچھ بھی لکھتے تھے اس سے اگلا خالی صفحہ ضائع کر دیتے تھے تاکہ قلم کے زور سے تحریر کے نقوش جو خا لی صفحہ پر آجاتے ہیں وہ کسی کے ہاتھ نہ لگ جائیں ۔یہ بڑے رینک کے افسران خالی سفید کے صرف دو یا تین ٹکڑے کر کے ردی کی ٹوکری میں پھینک دیتے تھے اور وہ ردی کی ٹوکری ہمارے لئے کسی خزانے سے کم نہ تھی ۔میرے خصوصی مشن میں چیف آف آرمی اسٹاف کی ٹائپسٹ اور دفتر کے دوسرے ٹائپسٹ کلرک کو اور صفائی کرنے والوں کو دامے درمے یا کسی بھی جائز یا ناجائز طریقے سے پلانٹ کرنے اور مطلوبہ کاربن اور پھٹے ہوئے سادہ کاغذ حاصل کرنا تھا۔جب ایک بار کوئی یہ کام کر بیٹھتا تو پھر آئندہ اس سے مکمل معلومات حاصل کرنا مشکل نہ تھا ۔دشمن سے کلاسیفائیڈ خفیہ اہم معلومات حاصل کرنے کے لیے ہر حربہ آزمایا جاتا ہے کیوں کہ طشتری میں رکھ کر ایسی معلومات ہمیں کوئی نہیں دیتا۔
بھارت اور پاکستان میں اس وقت حساس محکموں میں رائج طریقہ یہ تھا کہ جاسوس کو شکل اور جسمانی لحاظ سے ایسا ہونا چاہیے کہ ضرورت پڑنے پر سو افراد میں بھی گم ہو سکے ۔اس دور میں دونوں ممالک کے جاسوس فقیر مجذوب ملنگ یا بالکل نچلے درجے کا کام کرنے والوں کا روپ دھار کر دشمن ملک میں کام کرتے تھے۔
یہ بڑی ہی مزاحکہ خیز بات تھی کہ برطانیہ کو اپنا قبلہ سمجھ کر پاکستان اور بھارت کے حساس محکموں کے افسران کی تربیت اسکاٹ لینڈ یارڈ میں اکثر ایک ہی کلاس میں ہوتی تھی نتیجتنا دونوں ممالک کے افسران ایک ہی طرز کے تربیت یافتہ ہوتے تھے ۔یہ بالکل اسی طرح ہے جیسے آجکل امریکہ پاکستان اور بھارت دونوں کی افواج کے ساتھ جنگی مشقیں کرتا ہے ۔اس کا اندرونی مقصد ہماری افواج کی صلاحیت کو جاننا ہوتا ہے پاکستانی افواج کے متعلق اہم معلومات اسرائیل کو دی جاتی ہیں جو بالواسطہ بھارت کو پہنچ جاتی ہیں۔
میں اپنے قدکاٹ اور شکل و صورت سے کسی پہلو سے بھی بھارتی نہیں لگتا تھا اور سینکڑوں نہیں بلکہ ہزاروں میں مجھے ڈھونڈ لینا بہت آسان تھا غالباً میں پہلا شخص تھا جس سے یہ مشن سونپا گیا ۔بھارت میں اپنی شکل اور شباہت کی وجہ سے مجھے پاکستانی جاسوس سمجھنے کا کم سے کم امکان تھا مجھے بھارت کی اونچی سوسائٹی میں گھل مل جانا تھا اور اونچے درجے کے ہوٹل میں قیام کرنا تھا ۔پاکستان کی طرح بھارتی پولیس اور سی آئی بی والے نچلے درجے کے ہوٹلوں پر ہیں ریڈ کرتے ہیں ۔فور یا فائیو اسٹار ہوٹلوں میں داخل ہونے کی ان میں بھی ضرورت نہیں ہوتی تربیلا میں ملازمت کے دوران وہاں غیر ملکی افسران اور ان کی فیملیز کے لیے بنے کلبوں میں میری رسائی تھی اور اس دور کے مقبول ترین بال روم ڈانس مثلا اسکوائر والر اور روک اینڈ رول میں خاصی مہارت حاصل کر چکا تھا بھارت میں قیام کے دوران ان خرافات سے مجھے بڑی مدد ملی۔
بھارت میں چوپڑا فیملی بڑی مشہور ہے یہ پنجابی بڑے قد کاٹھ والے ان سب تن سفید رنگت کے ہیں اسی لئے مجھے بنود چوپڑا کا نام دیا گیا اس فیملی نے کاروبار صنعت اور فلم انڈسٹری میں خاصا نام کمایا ہے اور یہ سارے بھارت میں پھیلے ہوئے ہیں اسی طرح میرے دیگر ساتھیوں کو بھی مختلف ہندو نام الاٹ کئے گئے۔


آئندہ سطور میں مشن کے واقعات تسلسل کے ساتھ آ رہے ہیں اس سے پہلے چند سطور میں  پیش کرنا ضروری سمجھتا ہوں ایک جاسوس کے لئے اپنی زندگی سے زیادہ اہم اپنے مشن کی تکمیل ہے ۔بھارت میں ہندو نام کے ساتھ داخل ہو کر مجھے خالصتاً ہندو کے روپ میں اپنا کام کرنا تھا اور اس کے لیے مجھے وہ سب کچھ بھی کرنا پڑا جس کی اسلام میں ممانعت ہے ۔قارئین سے گزارش ہے کہ مجھے مشن کی تکمیل کے لئے جو کام کرنے پڑے انہیں مذہب کے ترازو میں نہ تولیں ۔مجھے وطن عزیز کی سلامتی کے لیے جو مشن سونپے گئے تھے انہیں ہر قیمت پر مجھے مکمل کرنا تھا ۔اس دوران مجھ سے جو غیر شرعی اور غیر اسلامی حرکات ہوئی ان کے لئے میں صرف اس ذات کے سامنے جوابدہ ہو جو رحمان اور رحیم ہے ۔آپ میرے اس عمل کو اس زاویے سے بھی دیکھ سکتے ہیں کہ اپنے وطن عزیز کی بھلائی کے لئے میں نے اپنے مذہبی اصولوں اور پابندیوں کو بھی قربان کیا ۔باقی رہا جزا اور سزا کا معاملہ تو میرے اللہ کے ہاتھ میں ہے جو رحمان ہے رحیم ہے عفو ذوالجلال والا کرام ہے اور بے شمار صفات کا مالک ہے میں نے قوم سے اپنی خدمات کا صلہ کبھی نہیں مانگا یہ اس  غفور اور رحیم کی ذات پاک ہے جو مجھے اس کا صلہ دے رہی ہے۔
اب ہمیں اپنی دوران ٹریننگ رہائش گاہ پر لایا گیا وہاں ایک بار پھر مشن کی بریفنگ اور احتیاطی تدابیر دہرائی گئیں سہ پہر 3 بجے ہمیں دو پرائیویٹ کاروں میں لاہور اسٹیشن پہنچایا گیا بصیر پور براستہ قصور کے ٹکٹ پہلے ہی سے خریدے گئے تھے ہم سیکنڈ کلاس کے ڈبے میں بالکل اجنبی بن کر داخل ہوئے ہمارے دو سینئر بھی ہمارے ہمراہ تھے ایک دوسرے سے بات چیت کی کتنی ممانعت تھی رات تقریباً ساڑھے گیارہ بجے ہم بصیرپور پہنچے وہاں ایک سیف ہاؤس میں ہمیں کھانے اور سونے کا انتظام تھا اسی سیف ہاؤس کے ایک حصے سے چیخ و پکار کی آوازیں آرہی تھیں سینئر نے ہمیں بتایا کہ کچھ بھارتی ہیں جو بارڈر کراس کرتے ہوئے پکڑے گئے ہیں ان سے تفتیش کی جارہی ہے۔
سیف ہاؤس کے مستقل رہائشی بالکل خاموشی سے ہماری مطلوبہ اشیاء ہمیں پہنچا رہے تھے ہم نے جب بھی کوئی سوال کیا تو وہ محض مسکر ا کر خاموش رہتے دوسری صبح 9 بجے ہم نے بصیرپور سے کو چ کیا 3 جیپوں میں ہمارا قافلہ روانہ ہوا ہمیں یہ نہیں بتایا گیا تھا کہ ہمیں کہاں لے جایا جا رہا ہے سفر مسلسل کبھی نہر کی پٹڑی پر اور کبھی کچی اور ٹوٹی پھوٹی سڑکوں پر جاری رہا غروب آفتاب کے قریب ہم خیموں کے کپڑوں میں پہنچے جہاں پاکستانی بارڈر فورس کے جوانوں نے ہمارا خیر مقدم کیا وہاں ہمارے سینئر نے ہمیں بتایا کہ ہم بہاولنگر میں منڈی صادق گنج کےقریب بارڈر سے صرف 200 میٹر کی دوری پر ہیں۔
وہاں دو اجنبی دیہاتیوں سے ہمیں ملایا گیا دس روز بعد دلی میں ٹھیک گیارہ بجے دن ان میں سے ایک نے مجھے ملنا تھا میٹنگ پلیس تفصیل مجھے سمجھا دی گئی تھیں یہ دونوں دیہاتی لاہور کے ایک معروف اس ماڈل کے کارندے تھے اور ہفتے میں دو بار اس راستے سے بھارت جاتے اور پان، کاجو اور الائچی وغیرہ لاتے تھے پاکستان کی طرف سے انہیں باہر سے گزرنے اور واپس آنے کی سہولت دی گئی تھی جس کے ایوس وہ پہلے سے گئے ہوئے گروپس کی ڈاک وغیرہ بھی لاتے اور لے جاتے تھے یہ دو اجنبی محض ہمارے گروپ کے لیے وقف تھے اور ان کو یہ ڈیوٹی سونپی گئی تھی کہ ہمیں مقررہ وقت پر بارڈر کراس کر آئی اور قریب ترین بھارتی ریلوے اسٹیشن ہنومان گڑھ تک پہنچا دیں انہیں پیسے دیے گئے کہ ہمارے لئے ہنومان گڑھ سے اجمیر شریف کے ٹکٹ خرید کر ہمیں دیں اور فورا واپس ہندوستانی بارڈر کے قریب گاؤں میر زا پور پہنچ جائیں جہاں دو افراد انہیں ملیں گے اور اگلی شام تک ان کے ہمراہ رہیں گے ادھر ہمیں علیحدگی میں ہنومان گڑھ سے بھٹینڈا کے ٹکٹ خریدنے کا کہا گیا کہ مخالف سمت میں جانے والی گاڑی میں سوار ہو جو اجمیر شریف جانے والی گاڑی سے پندرہ بیس منٹ پہلے آ جاتی ہے یہ احتیاط در احتیاط کی تدابیر ہماری حفاظت کے لئے کی گئی تھی ہم سے گڑیا بھی لے لی گئی تھیں اور صرف ایک گھڑی مجھے دی گئی جو بھارت میں بھی محیط تھی اور اس وقت اس کی قیمت بھارت میں تقریبا تین سو روپیہ تھی۔
ہنومان گڑھ اسٹیشن باڈر سے 8 میل کے فاصلے پر تھا راستے میں دو تین گاؤں پڑھتے تھے ہمیں ان سے دور رہ کر اور گاؤں کے کتوں سے بچ کر بھاگتے ہوئے جانا تھا اس وقت مجھے احساس ہوا کہ دوران ٹریننگ مجھے گیارہ میل مسلسل دوڑنے کی پریکٹس کیوں کروائی گئی تھی اسٹیشن کے قریب پہنچ کر ہمیں بنیان اور انڈرویر اتار کر عام شہری لباس پہن لینا تھا اور دونوں اجنبی گائیڈ کو فوراً واپس بھیجنا تھا ہمیں بھٹنڈا تک دوران سفر دو الگ الگ گروپوں میں بیٹھنا تھا اور ایک دوسرے سے بات چیت ہرگز نہیں کرنی تھی یہ لاسٹ منٹ ہدایات تھیں تھیک دس بجے ہمیں مسلسل گولیاں چلنے کی آوازیں آئیں ہماری بارڈر فورس نے بڑوں سے دونوں طرف تقریبا آدھا کلو میٹر کے فاصلے سے دشمن پر فائرنگ شروع کر کے دشمن کو جوابی فائرنگ میں مصروف کردیا تھا یہ فائرنگ ہمارے لئے سگنل تھی سینئر نے ہمیں گلے لگایا ان کی آنکھیں آنسووٗں سے لبریز تھیں ان کے آخری الفاظ کچھ اس طرح تھے۔

WISH you God’s help and best of luck

سوا دس بجے ہمیں باڈر کی جانب بڑھنے کا حکم ملا اور ہم سب کو خدا حافظ کہتے ہوئے اپنے گائیڈ کے ہمراہ باہر کی طرف چل پڑے ۔یہ تقریباً سو میٹر کا علاقہ پانی سرکنڈوں اور کیچڑ سے بھرا ہوا تھا ہم نے تقریباً 80 میٹر کا علاقہ بھاگتے ہوئے طے کیا اور اور بقیہ کرالنگ کرتے ہوئے۔

  ….جاری ہے۔


اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں