29

آئی ایم ایف کی ایم ڈی کرسٹین لیگارڈ کون ہیں پاکستان سے کیا چاہتی ہیں؟

یکم جنوری 1956 کو فرانس کے شہر پیرس میں پیدا ہونے والی فرانسیسی وکیل اور سیاستدان کرسٹین لیگارڈ اس وقت انٹرنیشنل مانیٹرنگ فنڈ آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر ہیں پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان معاہدے کی وجہ سے سب کی نظریں کرسٹین لیگارڈ پر لگی ہوئی ہیں دو مختلف مواقع پر وہ وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کرچکی ہیں اس سے پہلے سابق وزیر خزانہ اسد عمر کے ساتھ ان کی تفصیلی ملاقات ہوئی تھی ۔وہ پاکستان بھی آ چکی ہیں ۔انہیں فرانس کی پہلی فنانس منسٹر ہونے کا اعجاز 2007 میں حاصل ہوا جہاں 2011 تک انہوں نے بطور وزیر خزانہ فرائض انجام دیے 2011 میں وہ آئی ایم ایف کی مینیجنگ ڈائریکٹر بن گئی ۔انہوں نے اپنی تعلیم امریکہ اور فرانس میں حاصل کی انیس سو بیاسی میں ان کی ولفرائیڈ لیگارڈ سے شادی ہوئی جو انیس سو بانوے تک رہی۔


ان کی اپنی نیشنلٹی فرانسیسی ہے وہ زندگی کی 63 بہاریں دیکھ چکی ہیں وہ آئی ایم ایف کی گیارویں مینیجنگ ڈائریکٹر ہیں جن کی ویلیو 6 ملین ڈالر بتائی جاتی ہے 5 جولائی 2011 کو نے اپنی پانچ سالہ مدت کے طور پر ایم ڈی کا عہدہ سنبھالا تھا اور یہ مدت انہوں نے مکمل کرلی تھی انہیں تنہا کے طور پر ٹیکسوں کی کٹوتی کے بعد 4 لاکھ 67 ہزار ڈالر دیے جاتے ہیں آئی ایم ایف کا کیا معنی سو پینتالیس میں عمل میں لایا گیا تھا یہ کل 188 ممبر ملکوں کو جواب دے ایم ایف اپنے ممبر ملکوں کی معاشی صورتحال پر نظر رکھتا ہے اور انہیں ضرورت کے وقت ان کے پیمنٹ آف بیلنس کے ایشوز کو سامنے رکھ کر قرضہ دیتا ہے ایم ایس کے فنڈز بھی ممبر ملک ہی فراہم کرتے ہیں آئی ایم ایف کے دفاتر امریکہ میں ہیں آئی ایم ایف کے لوگ دوسرے ملکوں کی طرح پاکستان کی معیشت پر بھی نظر رکھے ہوئے ہیں اور پاکستان کی معیشت کو درپیش چیلنجوں مشکلات سے نکالنے کے لیے پاکستان کی مدد کرنا چاہتے ہیں لیکن آئی ایم ایف کی شرائط عام طور پر اتنی سخت ہوتی ہیں کہ کسی بھی ملک کے لیے وہ قرض حاصل کرنا ایک ایسا عمل ہوتا ہے۔


جس کے بعد اس کے ملک میں لوگوں کے لئے زندگی مشکل ہو جاتی ہے اور قرضے کی واپسی کے لئے جو شرائط رکھی جاتی ہیں ان پر عمل کرنا لوگوں کی زندگی کو مزید مشکل بناتا ہے کیونکہ ان پر ٹیکسوں کی بھرمار ہو جاتی ہے اور ان سے زندگی کی روایتی آسائشیں چھین لی جاتی ہیں یہ زندگی کا سیدھا سادہ سا فارمولا ہے کہ جب کوئی شخص قرض ہو جاتا ہے تو اسے اپنی زندگی کی بہت سی آسائشوں کی قربانی دینا پڑتی ہے اور قرض واپس کرنے کے لئے اپنی زندگی کو ڈسپلن میں رکھنا پڑتا ہے ۔قرض حاصل کرنے والا کوئی انفرادی طور پر دستخط کرے یا کوئی ملک ہو جب وہ شرائط آنے پر دستخط کرتا ہے تو پھر اسے ان پر عملدرآمد بھی یقینی بنانا ہوتا ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں