43

سابق اے ٹی ایم کا سیاسی مستقبل کیا ہوگا؟ علیم خان کی ضمانت پر رہائی کے بعد سیاسی مخالفین پریشان

لاہور ہائی کورٹ نے پاکستان تحریک انصاف کے رہنما علیم خان کی ضمانت منظور کر لی جسٹس باقر نجفی کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے درخواست ضمانت کی سماعت کی عدالت نے استفسار کیا ملزم کونسے ریمانڈ پر ہے نیب کے وکیل نے کہا ملزم جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں قید ہے ۔عدالت میں علیم خان کے وکیل اور نیب کے وکیل کو بھی سنا عدالت کا سوال تھا کہ علیم خان کے والد اور والدہ سرکاری ملازم تھے علیم خان 50 کروڑروپے کی وضاحت نہیں دے سکے بیرون ملک سے اتنا پیسے آئے ان کے سورس کیا تھے ۔تفتیشی افسر کا کہنا تھا کہ ان کے والد اور والدہ کا کوئی سوچ پاکستان میں موجود نہیں علیم خان کے اکاؤنٹنٹ نے بھی بیان میں کہا کہ پیسے ہنڈی کے ذریعے برون ملک بھیجے گئے علیم خان کے وکیل کا کہنا تھا کہ نئی دستاویزات کے ذریعے ثابت کرنا ہے کہ اثاثے آمدن سے زائد ہیں یا نہیں محض گاؤں کی بنیاد پر عمل نہیں کیا جاسکتا جس پر نیب کی جانب سے علیم خان کی مشہور بینک برانچ ایکشن اور سرمایہ کاری کی تفصیل حرارت میں پیش کی گئی نئی توسیع حسین نے کہا کہ ذرائع آمدنی اخراجات میں توازن نہیں کئی ملین کے ساتھ ظاہر نہیں کیے گئے۔


علیم خان کے وکیل کا اس بات پر زور تھا کہ نیب نے علیم خان کو بلاجواز گرفتار کیا تفتیش میں آج تک نیب کو الزام ثابت نہیں کرسکا شواہد نہ ہونے کے باعث نیب ریفرنس دائر نہیں کر رہا نیب کا کہنا تھا کہ تفتیش آخری مراحل میں ہیں اور ریفرنس تیاری کے مراحل میں ہے تفتیشی رپورٹ جلد مکمل کر لی جائے گی دلیل کے بعد لاہور ہائی کورٹ نے امن سے زائد اثاثے اور آپ شور کمپنی کیس میں علیم خان کی ضمانت منظور کر لی اور علیم خان کو دس لاکھ روپے کے مچلکے جمع کروانے کا حکم دیا عدالت میں ضمانت منظور کرتے ہوئے انہیں رہا کرنے کا حکم دے دیا علیم خان کو فروری میں نیب نے حراست میں لیا تھا وہ پوچھ کے اس پے سلسلے میں جب میں واپس پہنچے تھے تو نے انہوں نے گرفتار کرلیا تھا گرفتاری کی وجہ سے علیم خان نے اپنی وزارت سے استعفیٰ دے دیا تھا اس سے پہلے علیم خان وزیر بلدیات اور کمیونٹی ڈویلپمنٹ پنجاب کے طور پر کام کر رہے تھے۔
ی ٹی آئی کی قیادت نے علیم خان کی ضمانت منظور ہونے کی خبر پر خوشی کا اظہار کیا ہے پی ٹی آئی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ جب چوروں لٹیروں کو زمان تے مل سکتی ہیں تو علیم خان کو ضمانت کیوں نہیں مل رہی تھی علیم خان کے لیے بھی ضمانت ان کا حق تھا۔ سابق صدر آصف علی زرداری کو جب علیم خان کی ضمانت کی خبر ملی تو انہوں نے بھی اس پر خوشی کا اظہار کیا اور علیم خان کو مبارکباد دی اور کہا کہ سیاسی مقابلہ سیاسی میدان میں ہوتا ہے۔


سیاسی حلقوں میں علیم خان کی ضمانت پر رہائی کے بعد علیم خان کے سیاسی مخالفین کی پریشانی پر تبصرے شروع ہوگئے ہیں ماضی میں جو لوگ علیم خان کو عمران خان کا آئی ٹی ایم کہتے تھے اب وہ سابق ایٹیم کی بحالی اور ان کے سیاسی مستقبل کے حوالے سے تبصرے کرتے نظر آرہے ہیں علیم خان نے گرفتاری کے بعد پی ٹی آئی کی قیادت سے کچھ ناراضگی کا اظہار بھی کیا تھا دیکھنا یہ ہے کہ رہائی کے بعد وہ حکومتی امور میں کس حد تک سرگرمی سے حصہ لیتے ہیں اور ان کی وزارت اور قلمدان بحال ہوتا ہے یا وہ اپنے سیاسی مستقبل کے لئے کچھ اور فیصلہ کرتے ہیں ۔سیاسی حلقوں میں یہ بحث ہوتی رہی ہے کہ علیم خان کو پنجاب کی وزارت اعلیٰ کا امیدوار سمجھتے تھے اور ان کے حامیوں کا خیال تھا کہ ان کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے انہوں نے پارٹی کیلئے بہت قربانیاں دی تھیں لیکن جب وزیراعلی پنجاب بنانے کی باری آئی تو عمران خان نے علیم خان کی جگہ عثمان بزدار کو وزیر اعلی بنا کر علیمہ خان کے ساتھ ناانصافی کی ۔دوسری طرف پی ٹی آئی کے رہنماؤں کا خیال ہے کہ کپتان بہتر جانتا ہے کہ کس کھلاڑی کو کس پوزیشن پر کھلانا ہے اور عمران خان نے جو فیصلہ کیا وہ درست ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں