115

بھارت میں جاسوسی کرنے والے پاکستانی سرفروش کی سچی داستان … غازی … قسط نمبر 2

6 مہینے کے انتہائی سخت تربیتی کورس کے دوران مجھے مکمل طور پر ایک بھارتی شہری بنا دیا گیا تھا اور ان کے طور طریقے رسم ورواج ۔زبان ،سیاسی اور معاشرتی زندگی کے علاوہ بھارتی افواج کے متعلق تمام معلومات بھی ازبر کرا دی گئی ۔ان کی ٹرینوں ،بسوں کے اڈوں ،شہروں صوبوں غرض یہ کہ ہر وہ بات جو ایک پڑھے لکھے بھارتی سے توقع کی جاسکتی ہے اس طرح میرے دماغ میں بٹھا دیں گی کہ میں ایک مکمل بھارتی شہری کا روپ دھار گیا ۔اس کے بعد تشدد اور جسمانی اور ذہنی اذیت برداشت کرنے کی تربیت دی گئی کیونکہ میرے اساتذہ یہ جانچنا چاہتے تھے کہ میں کس حد تک تشدد اور اذیت سہہ سکتا ہوں ۔پھر وائرلیس آپریٹ کرنا ،چھاؤنیوں اور فوجی پڑاؤ پر حملے ،معلومات کے حصول کے طریقے ،غرض یہ کہ ہر پہلو سے مجھے اپنے فرائض کی انجام دہی کے لیے پوری طرح سے تیار کر دیا گیا ۔میرے انتخاب سے پہلے میرے مختلف اقسام کے بیس روز تک انٹرویو بھی ہوئے تھے اس دوران انہوں نے اپنے ذرائع سے میرے پورے ماضی کو کھنگال ڈالا ۔جب وہ پوری طرح مطمئن ہوگئے تو انہوں نے مجھے در پیش آنے والی مشکلات زندگی کے خطرات اور پکڑے جانے کی صورت میں انتہائی تشدد سے ڈرانا چاہا ۔لیکن وہ چاہتے تھے کہ اس ادارے کے لیے کام کرنے کا میرا ارادہ اگر محض وقتی جنون ہے تو میں بیک آوٹ ہو جاؤں لیکن میری ثابت قدمی سے جب انہوں نے دیکھا کہ میں وقتی جنون کا شکار نہیں بلکہ اپنے وطن کے لیے بڑی سے بڑی قربانی دینے کو دل کی گہرائیوں سے تیار ہو تو پہلی ملاقات سے ایک ماہ کے اندر مجھے باقاعدہ طور پر ادارے میں شامل کر لیا گیا اور ایک ہفتے کے اندر میری تربیت شروع کر دی گئی میری تربیت کے لئے چھ ماہ کی مدت مقرر کی گئی تھی جو میں نے چار ماہ اور چند روز میں مکمل کرلی ملکی سلامتی کے پیش نظر تربیت کی تفصیلات میں نہ جا سکوں گا مختصرن صرف یہ عرض کر سکتا ہوں کہ بے پناہ جسمانی مشقت جوڈو کراٹے اسٹیٹک اور موبائل سرویلنس کے طریقے اور اگر خود دشمن کے جال میں پھنس جاؤ تو اس سے نکلنے کے طریقے اور سب سے اہم یہ کہ اس دوران مجھے مکمل طور پر ایک بھارتی شہری بنا دیا گیا تھا ۔


میری زندگی کی سب سے پہلی ملازمت جو سابق مشرقی پاکستان میں چٹاگانگ میں ایک مشہور کمپنی میں چائے کی بلینڈنگ کی تھی وہ بھارت میں مجھے اپنے کور کے لئے بہت کام آئی ۔میں لوز- ٹی کے ایک تاجر کے طور پر چھاؤنی میں جا سکتا تھا۔کور کے مطابق میں بمبئی میں یو ناگ پاڑہ کا رہائشی تھا اور یہاں تک مکمل انتظام کردیا گیا تھا کہ اگر کوئی میرے دئے ہوئے ایڈریس سے میرا پتہ پوچھے تو اسے یہ بتایا جائے کہ ونود چوپڑا (میرا کور نام ) یہاں رہتا ہے اور چائے کا کاروبار کرتا ہے ۔
تربیت کا آخری حصہ پاکستانی چھاوٗنیوں سے مطلوبہ معلومات حاصل کرنا تھی اور یہی میرا امتحان تھا جس میں میں نے ناصرف مطلوبہ معلومات حاصل کی بلکہ ان کے بعض حساس خفیہ راز بھی معلوم کرکے اپنے اساتذہ کو دیے ۔چنانچہ مجھے گروپ لیڈر کے طور پر سلیکٹ کر لیا گیا ۔میرے گروپ میں چار اور ساتھی تھے جو افواج پاکستان میں مختلف کاموں کے ماہر تھے ۔ان میں وائرلیس ٹیکنیشن ، بلاسٹنگ کے ماہر ،دوران مشن خاطر کو بھانپنے والے یعنی ہماری نگرانی کرنے اور کہیں پھنس جائیں تو دشمن کو زیر کرنے یا ہلاک کرنے والے تھے ۔غرض یہ کہ یہ ایک مکمل گروپ تھا ۔بحثیت گروپ لیڈر کے وہ میرا ہر حکم ماننے کے پابند تھے اور خود اپنے فیصلے سے کوئی کام سرانجام دینے کی انہیں اجازت نہ تھی ۔مجھے ایک ان سے الگ رہنا اور ان سب کی رہائشگاہ علم رکھنا تھا لیکن انہیں میری رہائش کا علم نہیں ہونا چاہیے تھا ۔بھارت میں اپنے ہمدردوں سے رابطہ کرنے کی صرف مجھے اجازت تھی ۔غرض یہ کہ ہم 5افراد کی یہ چھوٹی سی فوج اپنے مشن کے لئے بالکل تیار تھی اور ہمیں چوبیس گھنٹے کے نوٹس پر اپنے مشن پر روانہ ہونا تھا ۔ایک بات مزید کہ ہم پانچوں کو پہلی بار صرف تربیت مکمل ہونے کے بعد چند لمحوں کے لئے ملایا گیا ۔ایک دوسرے کے متعلق تفصیلی معلومات کسی کو نہ تھی ۔یہ ایسی مہموں کے لیے انتہائی اہم ہوتا ہے تاکہ اگر کوئی دشمن کی گرفت میں آجائے تو تشدد برداشت نہ کرنے کی صورت میں باقی ساتھیوں کے متعلق کچھ نہ بتا سکے ۔
آخری کام جو اپنے رازوں اور ساتھیوں کی حفاظت کے لیے کیا گیا تھا وہ یہ کہ ہماری ایک ایک داڑ ھ نکال کے اس کی جگہ سخت پلاسٹک کی داڑ ھ لگا دی تھی تاکہ جب تشدد برداشت کرنے کی سکت نہ رہ جائے تو داڑھ کو چبا لیا جائے ۔اس نے سانائڈ (زہر ) بھرا ہوا تھا ۔دشمن کو راز بتا کر غدار پھیلانے سے کہیں بہتر ہے کہ موت کو گلے لگا کے شہید ہو جاؤں تاکہ آئندہ نسلیں تم پر فخر کر سکیں ۔یہ تھا ہماری تربیت کا مختصر احوال جس کی تکمیل پہ ہمیں بھارت میں اپنے مشن سرانجام دینے کے لئے اسٹینڈ بائی پوزیشن میں کردیا گیا تھا ہم جسمانی اور ذہنی طور پر اپنے مشن پر جانے کے لئے بالکل تیار تھے۔ …. جاری ہے۔


اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں