120

بھارت میں جاسوسی کرنے والے پاکستانی سرفروش کی سچی داستان … غازی … پہلی قسط

کھٹمنڈو ایئرپورٹ پر رائل نیپال ائیر لائنز کے جہاز نے ٹھیک 4 بجے راوی کی طرف بڑھنا شروع کیا ۔میں کھڑکی کے ساتھ والی سیٹ پر بیٹھا تھا ۔اس وقت میں حقیقتا ڈرا ہوا تھا خوف کی لہریں میرے جسم کے آر پار ہو رہی تھی ۔میری نظریں ایئرپورٹ بلڈنگ کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک لگی ہوئی تھی ہر لمحے یہی خیال گزرتا کہ اب پولیس کی جیپ نمودار ہوگی ۔پائلٹ جہاز کو ٹیکسی وے پر ہی روک لے گا اور پولیس مجھے گرفتار کرکے لے جائے گی ۔اگرچہ ایسے مرحلے پہلے بھی کئی بار مجھ پر گزر چکے تھے لیکن ساڑھے تین سال مسلسل زندگی اور موت کا کھیل کھیلتے کھیلتے میں اب ذہنی طور پر ٹوٹ پھوٹ چکا تھا اور اب تو بات یہاں آن پہنچی تھی کہ ایک طرف آزادی اپنا وطن اپنا گھر اور گھر والے اور دوسری طرف تھرڈ ڈگری ٹارچر کے ساتھ اذیت ناک موت اور ان دونوں کے بیچ محض چند منٹوں کا فرق تھا محض چند منٹوں کا ۔قسمت نے زندگی کی بازی کھیلتے ہوئے مجھے ہمیشہ تین اکے دیے لیکن ہر بار تو تین آکے نہیں ملتے اور اب تو یہ آخری داؤ تھا ۔اگر بازی الٹی پڑی تو … خوف کی لہر نے مجھے ایک جھٹکا دیا ۔میں نے آنکھیں بند کر لیں اور سب کچھ اس قادر مطلق پر چھوڑ دیا جس کی طاقت اور قدرت کی کوئی حد نہیں ۔انسان اسکے سوا کر بھی کیا سکتا ہے انسانی جدوجہد کی ایک حد ہوتی ہے اور اسکے بعد وہ محض مجبور لاچار اور طلبگار ہوتا ہے رب ذوالجلال والاکرا م کی رضا کا ۔مجھ پر ایک غنودگی سی چھا گئی ۔اچانک ایئرہوسٹس کی مدھر آواز مجھے غنودگی سے باہر لے آئیں ۔سیفٹی بیلٹ کھولنے اور سگریٹ پینے کی اجازت مل گئی تھی ۔میں نے سگریٹ نکال کے سلگایا اور ایک لمبا کش لیا ۔جہاز ہمالیہ کی برف پوش چوٹیوں کو نیچے چھوڑتا ہوا بلند ہو رہا تھا ۔ ماؤنٹ ایورسٹ کی چوٹی دائیں طرف صاف دکھائی دے رہی تھی جہاز کے اکثر مسافر یہ چھوٹی دیکھنے کے لئے جہاز کی اس جانب کی کھڑکیوں کے طرف آ چکے تھے ۔لیکن میرا ذہن سگریٹ کے دھوئیں کے مرغولوں کے ساتھ ماضی کی طرف جا رہا تھا ۔ساڑھے تین سال گیارہ سو پچاسی دن اور ان 185 1 دنوں میں بیتے ہوئے ان گنت واقعات ایک تیز رفتار فلم کی طرح میرے ذہن کے پردے سے گزر گئے ۔جلد ہی پہاڑ ختم ہوگئے ۔ایئرہوسٹس نے بتایا کہ اب ہم بنگلہ دیش پر سے گزر رہے ہیں اور ذریعے کرنا فلی کا ڈیلٹا ہمارے نیچے ہے ۔درجنوں پلاٹوں میں تقسیم ڈیلٹا میلوں تک پھیلا ہوا تھا اور شام کے ڈھلتے ہوئے سورج کی ترچھی شعاعوں نے نے دریائے کرنا فلی ان در جنوں شاخوں میں آگ لگا رکھی تھی ۔شاید ایسے ہی کسی منظر کے فریب نظر نے شیخ مجیب الرحمن کو مشرقی پاکستان کو علیحدہ کرکے بنگلہ دیش بنانے کے لئے ہمارا دیش تمہارا دیش سنار دیش کہنے پر مجبور کیا تھا لیکن یہ تو محض عکس تھا فریب نظر تھا جسے سچ سمجھ کر دنیا کی سب سے بڑی اسلامی مملکت کو دولخت کردیا گیا اس وقت بنگلہ دیش بنے کئی سال بیت چکے تھے لیکن مشرقی پاکستان کے لئے لفظ بنگلہ دیش میرے دماغ میں کہیں فٹ نہیں ہوتا تھا اور آج بھی یہی حال ہے کہ چاہے کتنوں کو برا لگے میں اس خطہ زمین کو سابق مشرقی پاکستان ہی کہتا ہوں جیسے دوری اور جدائی سے خون کے رشتے نہیں ٹوٹتے ویسے ہی اس خطہ زمین کو سابق مشرقی پاکستان کہنے سے اپنائیت کا ایک ان دیکھا رشتہ محسوس ہوتا ہے اپنا تھا پھر سابق ہوگیا یہ رشتہ قائم رہا تو سابق پھر اپنا ہو سکتا ہے انشاءاللہ ۔
ہمارے جہاز کی منزل بینکاک تھی اور مجھے بینکاک کے پاکستانی سفارتخانے سے کراچی کے لیے ہوائی ٹکٹ لینا تھا ۔
یہ واقعہ اچانک میرے ذہن میں آگیا یہ تو واقعات کے تسلسل کا ایک حصہ ہے جسے میں نے آپ کی آگاہی کے لیے بیان کردیا میرا سفر کیسے شروع ہوا میں اسے آپ کے سامنے بیان کرتا ہوں ۔


مجھے ایک افغان ایئر کے جہاز پر بھی بھیجا جاسکتا تھا جو یو این او نے پاکستانی مہاجروں کے لیے چارٹر کیے تھے لیکن افغان ایئر کے جہاز دہلی کے ہوائی اڈے پر ری فیولنگ کے لئے اترتے تھے ۔میرا نام تو ان کے مطلوبہ افراد میں نمایاں تھا اور پھر کھٹمنڈو میں بھارتی سفارتخانہ میری اصلیت کا عالم ہو جانے پر میری نقل وحرکت پر مسلسل کڑی نظر رکھتا تھا اس لئے مجھے کھٹمنڈو ایئرپورٹ پر چین کی سفارتی گاڑی میں لایا گیا ۔امیگریشن کے کاغذات بھی انہی کے وسائل سے میری غیر موجودگی میں مکمل ہوئے اور جہاز کی این روانگی کے وقت جبکہ سیڑھیاں ہٹا لی جارہی تھیں سفارتی گاڑی جہاز کے قریب آئی اور مجھے جہاز میں بٹھا دیا گیا ۔ان تمام احتیاطی تدابیر کے باوجود جب تک جہاز نے خاصی پرواز نہ کرلیں اندیشے میرے دماغ میں سر اٹھاتے رہے ۔جہاز رائل نیپال ایئرلائنزکا تھا اور بہت کم مسافر تھے ۔میں نسبتا زیادہ خالی سیٹوں کے حصے میں ایک سیٹ پر بیٹھا ۔بینکاک تک کا سفر ساڑھے چھ گھنٹے کا تھا ذہن نے ماضی میں چھلانگ لگائی اور جہاں ان کے رکھا وہ 16 دسمبر 1971 کا منحوس دن تھا ۔
میں تربیلا ڈیم بنانے والی کمپنی پی ٹی وی تربیلا جوائنٹ وینچر میں اسسٹنٹ پبلک ریلیشن آفیسر تھا معقول تنخواہ تھی کمپنی نے بہت سی سہولتیں دے رکھی تھی اور زندگی نہایت سکون سے گزر رہی تھی بھارت سے ہماری جنگ جاری تھی ہمارے ذرائع ابلاغ کامیابی کے بڑے بڑے دعوے کررہے تھے کبھی چینی امداد اور کبھی امریکی چھٹے بحری بیڑے کی عنقریب آمد کےمز د ے سنائے جا رہے تھے ۔یو این او میں ہزاروں سال تک جنگ جاری رکھنے کے عہد کیے جارہے تھے جنگ بند کرنے کے لیے پولینڈ کی قرارداد جسے عالمی طاقتوں کی حمایت حاصل تھی ہمارے وفد کے سربراہ نے پ** تھی یہ محسوس کرایا جارہا تھا کہ آئندہ چند دنوں میں ہی بھارت گھٹنے ٹیک دے گا اور جنگ بندی کے عوض مقبوضہ کشمیر ہمیں طشتری میں رکھ کر پیش کرے گا ۔جرنل نیازی ان دنوں مشرقی کمان کے سربراہ تھے اور ان کے دعوے کی بڑی تشہیر کی گئی کہ بھارتی افواج کو واپس ان کی سرحدوں میں دھکیل دیا گیا ہے اور بھارتی ٹینک ان کی لاش ہیں پر سے گزر کر ڈھاکا میں داخل ہوسکتے ہیں ان خوش کن دعووں سے بہلا ئے گئے دل پر بی بی سی کی خبر بجلی بن کر گری کہ 16 دسمبر 1971 کو پاکستانی افواج ہتھیار ڈالنے کا معاہدہ کر چکی ہیں اور جنرل نیازی نے اس رسم کی ادائیگی کے لئے اپنے پرانے ساتھی بھارتی جنرل اروڑا کو ڈھاکہ آنے کی دعوت دی ہے ۔


یقین جانیے کہ پہلے تو اس خبر کو سچ ماننے پر دل پکا ہی نہیں کہ مسلمان ہندوؤں کے آگے ہتھیار ڈالیں گے ۔محمد بن قاسم کا چند ہزار جوانوں کے ساتھ راجہ داہر کو شکست دینا ۔محمود غزنوی کے 17 حملوں میں جن میں سواروں کی تعداد کبھی بھی دس ہزار سے زیادہ نہ تھی ہندوستان بھر کے راجاؤں کی لاکھوں کی افواج کو ہر بار شکست دینا اور سومنات تک جا پہنچنا اور بے شمار زر جواہر کو ٹھکراکر بدھ فروش کے بجائے بت شکن کہلانا ۔ہندوؤں کے سب سے بہادر ذات راجپوتوں کی سب سے اعلی نسل سورج بنسی کی جودھا بائی سے شہنشاہ اکبر کا شادی کرنا جبکہ ہندوؤں کے دھرم کے مطابق ان پر مسلمان کا سایہ پڑھنے سے بھی وہ ناپاک بھر شٹ ہو جاتے ہیں ۔احمد شاہ ابدالی کا راجہ جے چند کو چار مرتبہ شکست دینا اور ہر بار اس سے اپنے پاؤں دھلوا کے اسے چھوڑ دینا ۔جو قوم مدینہ کی گلیوں سے نکل کر ایک طرف افریقہ کو فتح کر کے یورپ میں اسپین اور البانیا تک جا پہنچی اور دوسری طرف ایران افغانستان ہندوستان مشرقی روس کی ریاستوں کو فتح کرکے ملائشیا انڈونیشیا پر اپنی حکمرانی کے جھنڈے گاڑے ۔وہ قوم جس میں حضرت خالد بن ولید طارق بن زیاد موسیٰ بن نصیر ۔نورالدین زنگی صلاح الدین ایوبی محمد بن قاسم محمود غزنوی اور ٹیپوسلطان جیسے دلیر جرنیل پیدا ہوئے جن کا نام سنتے ہی غیر مسلم حکمران خوف سے کانپنے لگتے تھے آج اس قوم کی سب سے بڑی سلطنت میں مسلمان افواج کی سب سے بڑی تعداد اس قوم کے سامنے ہتھیار ڈالنے پر مجبور ہوئی جس پر ہزار سال تک مسلمانوں نے حکمرانی کی تھی ۔مسلمانوں کی تاریخ میں چودہ سو برس کی کامیابیوں کے تسلسل کے باہر یک لخت یہ ناکامی اور اتنی بڑی ناکامی جس نے پاکستان کو دولخت کردیا ذہن کو قابل قبول نہ تھی ۔یہ ناکامی بلاجواز نہ تھی اس کی وجہ ہمیشہ کی طرح غداروں کا کردار تھا ۔

جعفر از        بنگال           صادق         از     دکن
تنگ دیں ننگ قوم ننگ وطن

مسلمان کو جب کبھی بھی ہزیمت کا سامنا ہوا اور اس کی وجہ محض اور محض غداروں کا کردار تھا اور انیس سو اکتر میں تو مشرقی پاکستان کے بھولے بھالے عوام کو غدار لیڈروں نے کچھ ایسا بہکا دیا تھا کہ وہ مغربی پاکستانیوں کو اپنا سب سے بڑا دشمن سمجھنے لگے تو پھر سب کچھ لٹ جانے کے بعد جب انھیں ہوش آیا تو انہیں غدار لیڈروں کا جو حشر کیا وہ سب جانتے ہیں ۔  ….(جاری ہے )

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں