پولیس کا احتساب کرنے کا قانون بنارہے ہیں، بیرسٹر مرتضیٰ وہاب

پولیس ایکٹ 2019 کے مسودے کو کل تک حتمی شکل دےدی جائے گئی
وزیراعلیٰ سندھ کے مشیر برائے اطلاعات قانون و اینٹی کرپشن بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے کہا ہے کہ پولیس ایکٹ 2019 اسمبلی سے پاس ہونے کے ساٹھ روز کے اندر اندر ضلعی اور صوبائی سطح پر پبلک سیفٹی کمیشن کا قیام عمل میں لایا جائے گاسلیکٹ کمیٹی پولیس ایکٹ 2019 کو کل بروز بدھ تک حتمی شکل دی گئی جس کے بعد اسے اسمبلی میں پیش کیا جائے گا۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے سندھ اسمبلی میں میڈیا کارنر پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہی اس موقع پر صوبائی وزراءسعید غنی، امتیاز شیخ اور اسماعیل راہو بھی موجود تھے ، بیرسٹرمرتضیٰ وہاب نے مزید بتایا کہ سندھ اسمبلی کی سلیکٹ کمیٹی کا اجلاس آج صوبائی وزیر اسماعیل راہو کی صدارت میں ہوا بہتر حکمت عملی کے تحت ہماری کوشش ہے کہ یہ بل حکومت اور اپوزیشن کی جانب سے متفقہ طور پر پاس کیا جائے۔انہوں نے بتایا کہ سلیکٹ کمیٹی نے آئی جی سندھ کو بھی مدعو کیا تھا جنہوں نے اس بات کا اعتراف کیا تھا کہ پولیس آرڈر 2002 ایک متوازن قانون ہے جو کہ پولیس کو مکمل اختیارات کے ساتھ اس کا احتساب بھی کرتا ہے۔


انہوں نے مزید بتایا کہ آئی جی سندھ کے ساتھ ساتھ ہم نے سول سوسائٹی کے نمائندے جنہوں نے ہائی کورٹ میں پٹیشن داخل کی تھی ان کو بھی مدعو کیا تھا تاکہ ان کے موقف کو بھی سنا جاسکے اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے اعتراف کیا تھا کہ سندھ ہائی کورٹ میں پٹیشن داخل کرنے کا بنیادی مقصد ہمارا یہ تھا کہ پولیس آرڈر 2002 کو لاگو کیا جائے۔بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ ہم تمام لوگوں کو ساتھ لے کر چلنے کی کوشش کررہے ہیں لیکن آج اپوزیشن کی جانب سے سلیکٹ کمیٹی کے اجلاس کا بائیکاٹ کرنے کے عمل سے دکھ ہوا ہے۔اپوزیشن کو تمام اجلاسوں میں اعتماد میں لیا گیااور تجاویز بھی لی گئیں لیکن آج سمجھ میں نہیں آیا کہ اپوزیشن نے اجلاس کا بائیکاٹ کیوں کیا ہے ہم اتفاق رائے کے ساتھ آگے بڑھ رہے تھے اور پولیس کو جوابدہ بنانے کا قانون بنارہے ہیں ہم اپوزیشن کے دو نہیں ایک پاکستان کے مطالبے پر کام کررہے تھے ملک میں دیگر صوبوں میں جو قانون ہے اس کو ریوائیو کررہے تھے ہم نے کئی اجلاس کئے آج آخری اجلاس تھا تو اپوزیشن نے شرکت نہیں کی اور بائیکاٹ کیا اب ہم نے ان کی عدم شرکت پر ایک اور موقع رکھا ہے تاکہ وہ شریک ہوسکیں کیونکہ ہماری کو شش ہے متفقہ قانون بنائیں ہماری ترجیح اس قانون کو فعال کرنا اور سیفٹی کمیشن کا قیام عمل میں لانا ہے آج ایم ایم اے اور ٹی ایل پی نے بل کی حمایت کا اعلان کیا ہے کل آخری اجلاس کرکے بل اسمبلی کے لئے تیار کرلیا جائے گا تاکہ آنے والے اجلاس میں اسے پیش کرسکیں، انہوں نے کہا کہ ا گر اسمبلی کے ٹی او آر کو پڑھا جائے تو 2011 میں نافذ العمل مسودہ تھا اسی کو کمیٹی کے سامنے رکھا گیاتھا انہوں نے کہاکہ ہم نے اپوزیشن لیڈر کی تجاویز بھی شامل کی تھیں


مگر اس پر پوائنٹ اسکورنگ کی گئی اختیار رکھنے کے حوالے سے غلط تاثر پیش کیا جارہا ہے جبکہ سیفٹی کمیشن میں اختیار منتقل ہوگا حکومت کے پاس اختیار نہیں ہوگا انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کا مقصد حکومت کی کوششوں کو ناکام کرنا ہے،بیرسٹر مرتضی وہاب نے کہا کہ جمہوریت کسی کی منتظر نہیں اور ہم ان کے محتاج نہیں صرف ان کو موقع دینا چاہتے تھے جو کہ دیا ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پنجاب، کے پی اور بلوچستان میں تبادلے سی ایم اور آئی جی کے مشاورت سے ہوتے ہیں ہم نے اپوزیشن کو ساتھ لیکر چلنے کی کوشش کی ہے اور قانون سازی کے مسائل اسمبلی میں حل کرنے کی کوشش کی ہے لیکن اپوزیشن کے اعتراضات صرف اور صرف سیاسی ہیں وہ صرف حکومت کو لعن طعن کرنا چاہتے ہیں انہوں نے کہا کہ ہم پولیس کی غلطیوں پر ان سے پوچھ گچھ چاہتے ہیں کم از کم یہ اختیار ہمارے پاس ہونا چاہیے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

Website Protected by Spam Master