بلاول کا شہر لاڑکانہ ایڈز کا گڑھ کیسے بنا؟

سندھ میں ایڈز کا معاملہ دردناک اور افسوسناک حد تک بڑھ گیا ہے اور سب سے زیادہ تشویشناک بات یہ ہے کہ پاکستان پیپلزپارٹی کے سیاسی گڑھ اور بلاول بھٹو زرداری کے آبائی شہر لاڑکانہ میں ایڈز کے مرض نے پنجے گاڑ لئے ہیں بڑے تو بڑے بچے بھی اس سے محفوظ نہیں رہ سکے ڈاکٹر خود مریض بن جائے تو باقی کیا رہ جاتا ہے؟ یہ صورتحال پر خود بلاول بھٹو زرداری نے گہری تشویش کا اظہار کیا ہے محکمہ صحت اور متعلقہ انتظامی افسران کو خواب غفلت سے جگایا گیا ہے اب عدادوشمار بھی جمع ہو رہے ہیں مریضوں کے بارے میں معلومات بھی لی جا رہی ہے اور ایڈز کنٹرول پروگرام کو مؤثر طریقے سے علاقے میں چلانے کے لیے حکمت عملی وضع کی جارہی ہے ۔لیکن پیپلز پارٹی کی حکومت میں گذشتہ 11 برس میں کیا ہوا اس کا نتیجہ لاڑکانہ میں بآسانی دیکھا جا سکتا ہے ۔گیٹ نمبر صرف لاڑکانہ میں نہیں پہلا پورے پاکستان میں اس کے مریض موجود ہیں لیکن لاڑکانہ میں بچے بھی اس کی لپیٹ میں آ گئے اس لیے پورے ملک کی توجہ لاڑکانہ میں ایڈز کے مریضوں پر مرکوز ہوگئی اور ساری دنیا میں اس پر خبریں بنیں اور تشویش کا اظہار کیا گیا۔


پاکستان تحریک انصاف کے رہنما حلیم عادل شیخ نے سندھ میں ایڈز کی صورتحال پر سب سے زیادہ شور مچایا ہے ان کا کہنا ہے کہ سندھ کو پیپلزپارٹی نے روٹی کپڑا تو نہ دیا ایڈز زدہ ضرور بنا دیا ہے رتوڈیرو کی صورتحال دیکھ کر افسوس ہوا جب میں نے اسمبلی میں آواز اٹھانی چاہیے تو ایک افسر کے ذریعے پریس کانفرنس کرا کر مسترد کرادیا گیا کس قدر افسوس کی بات ہے کہ رتوڈیرو محترمہ شہید بےنظیر بھٹو اور ذولفقار علی بھٹو کا حلقہ لیکن عوام کی صحت کی سہولیات ندارد ۔غائب۔ صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے حلیم عادل شیخ نے دعویٰ کیا کہ پورے سندھ میں 15000 ایٹس کے کیس ظاہر ہوئے ہیں پورے سندھ میں اسکریننگ کی جائے تو مریضوں کی تعداد اور بھی بڑھ سکتی ہے یہ انتہائی تشویشناک صورتحال ہے پیپلز پارٹی کی حکومت نہ جانے کب جاگے گی۔ دوسری طرف خود بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ حکومت سندھ کی جانب سے میسر علاج معالجے کی بہترین سہولیات سے ملک بھر کے عوام مستفید ہو رہے ہیں صوبے کو فنڈز کی کم فراہمی کے باوجود عوام کو صحت کی بہتر سہولیات کو ان کے گھروں کی دہلیز پر فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

Website Protected by Spam Master